قوموں کا زوال اچانک نہیں آتا
13 جولائی، 2026
(جب باغبان سو جائیں تو خزاں بولنے لگتی ہے)
`مفتی محمد ابراہیم غفاری`
مہتمم، مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ
https://www.facebook.com/AbuzarGhifariedu
خزاں کبھی باغ کا راستہ خود تلاش نہیں کرتی، اسے راستہ باغبان کی غفلت دکھاتی ہے۔
جب مالی صبح کی شبنم سے پہلے جاگنا چھوڑ دے، جب وہ شاخوں کی آہ سننا بھول جائے، جب جڑوں کی پیاس اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو جائے، تب خزاں خاموش قدموں سے باغ میں داخل ہوتی ہے۔ وہ نہ کوئی اعلان کرتی ہے، نہ کوئی شور مچاتی ہے۔ پہلے ایک پتا زرد ہوتا ہے، پھر ایک شاخ سوکھتی ہے، پھر ایک پھول اپنی خوشبو کھو دیتا ہے، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہی باغ، جو کبھی بہار کا استعارہ تھا، ویرانی کی داستان بن جاتا ہے۔
امتوں کی زندگی بھی ایک باغ کی مانند ہے۔
اس باغ کے مالی صرف حکمران نہیں ہوتے، بلکہ علماء، معلمین، والدین، اہلِ قلم، اہلِ ثروت اور وہ ہر شخص ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں کسی ایک دل، ایک گھر یا ایک نسل کی تربیت کی ذمہ داری ہو۔
اگر باغبان جاگتا رہے تو خزاں ہزار کوشش کے باوجود باغ پر قبضہ نہیں کر سکتی۔
لیکن جب باغبان اپنے فرض سے غافل ہو جائے، جب وہ پھولوں سے زیادہ اپنی تعریف میں مگن ہو جائے، جب اسے جڑوں سے زیادہ شاخوں کی آرائش عزیز ہو جائے، تب زوال دروازہ نہیں توڑتا، بلکہ خاموشی سے اندر آ بیٹھتا ہے۔
آج امتِ مسلمہ کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔
ہم نے اپنے مینار بلند کیے، مگر اپنے کردار کو بلند نہ کر سکے۔
ہم نے مسجدوں کو وسیع کیا، مگر دلوں کو تنگ ہونے دیا۔
ہم نے تقریروں میں امت کے درد کا ذکر کیا، مگر اپنے عمل میں اس درد کی حرارت پیدا نہ کر سکے۔
ہم دشمن کی چالوں پر گفتگو کرتے رہے، مگر اپنے گھروں میں داخل ہونے والے فتنوں کو معمولی سمجھتے رہے۔
کبھی گھر قرآن کی تلاوت سے مہکتے تھے، آج بہت سے گھروں میں اسکرینوں کی روشنی ہے مگر ایمان کی روشنی مدھم پڑ گئی ہے۔
کبھی مائیں لوریوں میں انبیاء کے قصے سناتی تھیں، آج بہت سے بچوں کے ہیرو وہ لوگ ہیں جنہیں نہ خدا کا شعور ہے اور نہ اخلاق کی روشنی۔
کبھی باپ اپنی اولاد کے رزق کے ساتھ ان کے دین کی بھی فکر کرتا تھا، آج اکثر فکر صرف مستقبل کی ملازمت کی ہے، جنت کے مستقبل کی نہیں۔
کیا یہ سب ایک دن میں ہوا؟
ہرگز نہیں۔
یہ اس وقت شروع ہوا جب ہم نے چھوٹی چھوٹی غفلتوں کو معمولی سمجھ لیا۔
ایک نماز قضا ہوئی، ہم نے کہا کوئی بات نہیں۔
ایک جھوٹ بولا گیا، ہم نے کہا زمانے کا تقاضا ہے۔
ایک سنت چھوٹی سمجھی گئی، ہم نے کہا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔
ایک بچے کا دینی ماحول چھوٹا سمجھا گیا، ہم نے کہا بڑا ہو کر خود سمجھ جائے گا۔
یہی "کوئی بات نہیں" اور "اس سے کیا فرق پڑتا ہے" رفتہ رفتہ پوری قوم کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔
یاد رکھو!
دیمک کبھی محل کو ایک دن میں نہیں گراتی، وہ خاموشی سے بنیادوں کو کھاتی رہتی ہے، یہاں تک کہ ایک دن مضبوط دکھائی دینے والی عمارت اپنے ہی بوجھ سے زمین پر آ گرتی ہے۔
شیطان بھی یہی کرتا ہے۔
وہ ایک ہی حملے میں ایمان نہیں چھینتا، بلکہ آہستہ آہستہ دل سے غیرت، آنکھوں سے حیا، زبان سے سچائی، اور زندگی سے مقصد چھین لیتا ہے۔
اور جب یہ سب چھن جائے تو انسان زندہ تو رہتا ہے، مگر زندگی کی روح مر جاتی ہے۔
اے امت کے باغبانو!
اگر آج بھی تم نے اپنی ذمہ داری نہ پہچانی تو آنے والی نسلیں تم سے پوچھیں گی کہ جب ایمان کے چراغ بجھ رہے تھے، تم کہاں تھے؟
جب کردار کے درخت سوکھ رہے تھے، تم کس مصروفیت میں گم تھے؟
جب نوجوان فکری طوفانوں میں بہہ رہے تھے، تم نے ان کے لیے کتنے چراغ روشن کیے؟
اگر ہمارے پاس ان سوالوں کا جواب نہ ہوا تو تاریخ ہمیں دشمنوں کے مظالم سے زیادہ اپنی غفلت کے جرم میں یاد رکھے گی۔
اب بھی وقت ہے۔
جڑوں کو پانی دو۔
چراغوں میں تیل ڈالو۔
دلوں کو قرآن سے آباد کرو۔
گھروں کو سنت سے روشن کرو۔
اپنے بچوں کو صرف دنیا کی میراث نہیں، ایمان کی امانت بھی دو۔
کیونکہ...
جب باغبان بیدار ہو جائے تو خزاں زیادہ دیر نہیں ٹھہرتی، اور جب ایک امت اپنے رب کی طرف لوٹ آتی ہے تو ویران باغوں میں بھی دوبارہ بہار اتر آتی ہے۔
https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H