آج کا دور تیزی سے بدل رہا ہے، اور اس تبدیلی نے ہمارے سماجی ڈھانچے اور سوچ کے زاویوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان بدلتے ہوئے رجحانات میں سے ایک نمایاں پہلو لڑکیوں کی شادی میں غیر ضروری تاخیر ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ جب کوئی لڑکی 18 یا 19 سال کی ہوتی ہے، تو والدین اسے ابھی بھی "بچی" قرار دے کر رشتے رد کر دیتے ہیں۔ "ابھی عمر ہی کیا ہوئی ہے؟"، "ابھی تو اس نے پڑھنا ہے"—یہ جملے آج ہر گھر میں گونج رہے ہیں۔
معاشی خوف: ایک خود ساختہ رکاوٹ
شادی میں تاخیر کا ایک بڑا سبب "معاشی خوف" ہے۔ لوگ یہ سوچ کر پریشان رہتے ہیں کہ شادی کے بعد خرچہ کون اٹھائے گا؟ گھر کیسے چلے گا؟ رزق کا انتظام کہاں سے ہوگا؟ یہ سوچنا سراسر ایمان کی کمزوری اور حکمت کی کمی ہے۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ اس کا رزق ساتھ لے کر آتا ہے؟ اگر ایک فرد کا اضافہ گھر میں ہو جائے، ایک پلیٹ کھانا یا ایک جوڑا کپڑا بڑھ جائے، تو اس سے نہ آسمان گرتا ہے اور نہ ہی گھر کی معیشت تباہ ہوتی ہے۔ اللہ تو پوری کائنات کا نظام چلانے والا ہے، کیا وہ ایک جوڑے کی کفالت نہیں کر سکتا؟
معاشرتی بگاڑ اور سنگین نتائج
شادی کو غیر ضروری طور پر مؤخر کرنے کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔ جب نکاح کا جائز راستہ طویل اور مشکل بنا دیا جاتا ہے، تو شیطانی راستے ہموار ہو جاتے ہیں۔ آج معاشرے میں یہ شکایات عام ہو گئی ہیں کہ لڑکیاں کسی غیر کے ساتھ یا کسی لفنگے کے ساتھ بھاگ رہی ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اس کی ذمہ دار کون ہے؟ دراصل جب والدین اپنی اولاد کی فطری ضرورتوں کو نظر انداز کر کے ان کی شادی میں بلاوجہ تاخیر کرتے ہیں، تو اولاد ذہنی اور جذباتی دباؤ کا شکار ہو کر غلط قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ وقت پر نکاح نہ کرنا، درحقیقت نوجوانوں کو بگاڑ کی طرف دھکیلنا ہے۔
ماضی کا آئینہ
آئیے ذرا تاریخ کے اوراق پلٹیں۔ جن والدین کی زندگی آج کامیاب ہے، کیا ان کی شادی کے وقت ان کے پاس کروڑوں روپے تھے؟ کیا وہ 19-20 سال کی عمر میں معاشی طور پر بہت مستحکم تھے؟ بالکل نہیں! انہوں نے صبر اور قناعت سے زندگی شروع کی اور اللہ نے برکت دی۔ آج ہم نے شادی کو ایک نمائشی تقریب بنا دیا ہے جس میں دکھاوا اور نمائش عروج پر ہے۔
لعنتِ جہیز: ایک ناسور
اس بگاڑ میں ایک بڑا کردار "جہیز" کا بھی ہے۔ ہم نے شادی کو دو انسانوں کا ملاپ بنانے کے بجائے، سامان کے تبادلے کا سودا بنا دیا ہے۔ والدین اپنی بیٹی کی شادی سے اس لیے گھبراتے ہیں کہ جہیز کے مطالبات اور معاشرتی دباؤ نے کمر توڑ دی ہے۔ یہ جہیز کی لعنت ہی ہے جس نے شادیوں کو مشکل بنا دیا ہے اور نکاح کے مقدس رشتے کو کاروباری سودے میں بدل دیا ہے۔ جب تک ہم جہیز جیسی فرسودہ رسومات کو ختم نہیں کریں گے، شادیوں میں تاخیر کا یہ سلسلہ کبھی نہیں رکے گا۔
خلاصہِ کلام
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ 18، 19 سال کی عمر میں نوجوان ازدواجی زندگی کے لیے پوری طرح تیار ہوتے ہیں۔ شادی میں تاخیر کر کے ہم اپنی اولاد کو "بچپن" کی حفاظت نہیں، بلکہ ان کی عفت و عصمت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ والدین کا کام نمود و نمائش اور جہیز کے بوجھ تلے دبنا نہیں، بلکہ اپنی اولاد کی پاکیزہ زندگی کا بندوبست کرنا ہے۔ آئیے! ہم سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں، نکاح کو آسان بنائیں، جہیز جیسی لعنت کا خاتمہ کریں اور معاشرے کو بے راہ روی سے بچا کر ایک صحت مند سمت دیں۔