الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین۔
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا اور عظمت والا مہینہ ہے۔ اس مہینے نے امتِ مسلمہ کو ایمان، صبر، قربانی، استقامت اور حق پر ڈٹے رہنے کا وہ سبق دیا ہے جو قیامت تک زندہ رہے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا... مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ﴾
"بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔" (سورۃ التوبہ: 36)
محرم انہی حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے، اس لیے اس کا احترام اور اس میں نیکیوں کا اہتمام ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔" (صحیح مسلم)
محرم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق کی خاطر ہر قربانی قبول کرنی چاہیے۔ حضرت امام حسینؓ اور ان کے رفقاء نے میدانِ کربلا میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لیکن ظلم اور باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾
"کمزور نہ پڑو، غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔" (سورۃ آل عمران: 139)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔" (صحیح بخاری)
محرم کا اختتام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہماری زندگی قرآن و سنت کے مطابق ہو، ہم سچ بولیں، انصاف کریں، نماز کی پابندی کریں، والدین کی خدمت کریں اور ہر قسم کے ظلم، نفرت اور گناہوں سے بچیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾
"بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔" (سورۃ البقرہ: 153)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں غالب آجائے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
آئیے! محرم الحرام کے اختتام پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے مطابق گزاریں گے، حق کا ساتھ دیں گے، باطل سے بچیں گے، اور اپنے کردار سے اسلام کی خوبصورت تعلیمات کو عام کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں محرم الحرام کے حقیقی پیغام کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اپنی زندگیوں کو ایمان، تقویٰ اور اخلاص سے مزین کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔