*اکابر کی فہم پر اعتماد*
بقلم: معاذ حیدر
٢٤/ محرم الحرام ١٤٤٨ھ
١٠/ جولائی ٢٠٢٦ء جمعہ
قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ بعد والے پہلوں کو برا کہیں گے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: "إذا فعلت أمتي خمس عشرة خصلة حل بها البلاء" (جب میری امت میں پندرہ باتیں آجائیں گی، تو بلاء عام ہو جائے گی) انہی باتوں میں سے ایک بات یہ بھی ہے "لعن آخر هذه الأمة أولها" (بعد والے پہلوں کو برا کہیں گے)
(السنن للإمام الترمذي، أبواب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب علامة حلول المسخ والخسف، رقم الحديث: ٢٢١٠)
ہمارے زمانے میں یہ بات بہت عام ہوگئی ہے، اسلاف کے نظام پر اعتراض، اکابر کے نہج پر سوال، بڑوں کی تحقیقات کو زیرِ بحث لانے کا رواج، ائمۂ مجتہدین پر طعن و تشنیع کا مزاج بہت بڑھ گیا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ بڑوں کے عملی نظام کے خلاف اپنی ذہنی اُپج کو زمانے کی ضرورت سمجھ کر پیش کرتے ہیں، جب کہ علمی رسوخ اور عملی پختگی کے لیے اسلاف کی فہم پر اعتماد ناگزیر ہے۔
تقلید کی منکر جماعت نے ائمۂ مجتہدین کو ہلکا کرنے کی بہت کوششیں کی ہیں، انہوں نے ہوی پرستی کو تحقیق کا عنوان دیا، اس سے نوجوان متاثر ہوئے، ذہنوں میں سوالات ابھرنے لگے، اربابِ افتاء کے پاس ایسے سوالات آنے لگے؛ جن سے ائمہ کی شان پر حرف آتا تھا، ایسے حساس مواقع پر اکابر نے بڑے اچھے اسلوب میں جوابات ارقام فرمائے ہیں۔
فقیہ النفس، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کے پاس ایک سوال آیا: "حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک خشک منی ناپاک نہیں، جیسا کہ کتاب میں لکھا ہے، دھونے اور پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں، کیا وجہ کہ ایسی پلید چیز کو پاک لکھا ہے؟"
حضرت نے اس کا بہت شاندار جواب دیا: "منی کا پلید ہونا آپ کے نزدیک ہے، اُن کے یہاں نہیں، اور اس کی لِم آپ نہیں سمجھ سکتے، یہ علمی بحث ہے کہ جس کے بیان میں طول ہے، ہم اور آپ مقلد ہیں، ہم کو علماء کا فرمانا بسر وچشم قبول ہے"
(فتاوی رشیدیہ، باب: نجاستوں اور اس کو پاک کرنے کے مسائل، جوابِ سوال: ٢٧: منی کا حکم، ص: ٢٤٩، ط: مکتبۃ الحق، ممبئ)
حضرت کا یہ جواب ہمارے لیے نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے، ایسے حساس مواقع پر ہمیں بھی اسی طرزِ عمل کو اپنانا چاہیے۔
9058996629
https://whatsapp.com/channel/0029VaV0MbHIiRonV7i78b0t