ایک نوجوان نے بزرگ عالمِ دین سے سوال کیا:
"حضرت! امت اتنی کمزور کیوں ہو گئی؟"
بزرگ نے جواب دینے کے بجائے خاموشی سے اس کا ہاتھ پکڑا اور قریب ہی واقع ایک باغ کی طرف چل پڑے۔
وہ ایک ایسے درخت کے پاس رکے جس کی کئی شاخیں ٹوٹ کر زمین پر بکھری پڑی تھیں۔ آنے جانے والے لوگ انہیں اٹھاتے، آسانی سے توڑتے اور پھینک دیتے۔
بزرگ نے نوجوان کو ایک لمحہ وہ منظر دیکھنے دیا، پھر اس کی نظر درخت کے مضبوط تنے کی طرف کرتے ہوئے فرمایا:
"بیٹا! اب ذرا اس تنے کو توڑنے کی کوشش کرو۔"
نوجوان نے پوری قوت لگا دی، مگر تنا اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑا رہا۔
بزرگ کی نگاہیں جھک گئیں، اور وہ آہستہ سے بولے:
"جب تک یہ شاخیں اپنے تنے سے وابستہ رہیں، تیز ہوائیں بھی انہیں نہ گرا سکیں۔ لیکن جب یہ اپنے مرکز سے جدا ہو گئیں تو ہر آنے والے کے لیے کھیل بن گئیں۔"
پھر انہوں نے نوجوان کی طرف دیکھا اور فرمایا:

"امت کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اختلافِ رائے ہمیشہ سے رہا ہے اور یہ علم کی وسعت کی دلیل بھی ہے، مگر جب اختلاف دلوں میں اتر جائے، محبت کی جگہ نفرت لے لے اور امت کے پیشوا انا کی بھینٹ چڑھ جائے، تو پھر کمزوری مقدر بن جاتی ہے۔"
نوجوان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس نے دھیمی آواز میں پوچھا:
"حضرت! پھر امت کا عروج کس دن لوٹے گا؟"
بزرگ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی، ایک ٹھنڈی آہ بھری اور فرمایا:
"جس دن علماء اپنی ذات، اپنی نسبت اور اپنے حلقے سے بلند ہو کر صرف امتِ محمد ﷺ کے درد کو اپنا درد بنا لیں گے، اسی دن بکھری ہوئی صفیں پھر سے جڑ جائیں گی، دل قریب آ جائیں گے اور امت کا وقار بھی لوٹ آئے گا۔"
اس دن نوجوان نے جان لیا کہ...
امت کو نئے نظریات سے زیادہ، متحد دلوں کی ضرورت ہے۔

فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں، اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

اور علماء کا اتحاد صرف علماء کی ضرورت نہیں، پوری امت کی زندگی کا سوال ہے۔