وقت: انسان کی سب سے قیمتی دولت
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔
دنیا میں بے شمار نعمتیں ایسی ہیں جو اگر ضائع ہو جائیں تو دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہیں، لیکن ایک نعمت ایسی ہے جو ایک لمحہ گزر جانے کے بعد کبھی واپس نہیں آتی، اور وہ ہے **وقت**۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے وقت کی قدر کو ایمان، عبادت، اخلاق اور کامیابی سے جوڑ دیا ہے۔ ایک کامیاب انسان اور ایک ناکام انسان کے درمیان سب سے بڑا فرق اکثر صلاحیتوں کا نہیں بلکہ وقت کے صحیح یا غلط استعمال کا ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے وقت کی مختلف شکلوں کی قسم کھائی ہے۔ کہیں فجر کی، کہیں رات کی، کہیں دن کی اور کہیں عصر کی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ وقت اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
**﴿وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾**
ترجمہ: "زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، حق کی تلقین کی اور صبر کی تلقین کی۔"
یہ مختصر سورت انسان کی پوری زندگی کا خلاصہ بیان کرتی ہے۔ گویا وقت کی قدر نہ کرنے والا شخص حقیقی خسارے میں ہے، خواہ اس کے پاس دنیا کی ہر آسائش موجود ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ دھوکے میں رہتے ہیں: صحت اور فراغت۔"
یہ حدیث ہمارے دلوں کو جھنجھوڑتی ہے۔ انسان جوانی کو ہمیشہ رہنے والی چیز سمجھتا ہے، صحت کو اپنا حق سمجھتا ہے اور فرصت کو معمولی بات سمجھ کر ضائع کر دیتا ہے، لیکن جب یہ نعمتیں چھن جاتی ہیں تو افسوس کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے دور میں وقت کے ضیاع کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ بے مقصد موبائل کا استعمال، فضول ویڈیوز، غیر ضروری بحثیں، سوشل میڈیا پر گھنٹوں کی مصروفیت اور دوسروں کی زندگیوں میں دلچسپی نے انسان کو اپنی زندگی کے اصل مقصد سے غافل کر دیا ہے۔ کئی نوجوان خواب تو بڑے رکھتے ہیں مگر ان خوابوں کے مطابق اپنے وقت کی حفاظت نہیں کرتے۔
وقت کی حفاظت صرف دنیاوی کامیابی کے لیے نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی کے لیے بھی ضروری ہے۔ ہر نماز ہمیں وقت کی پابندی سکھاتی ہے۔ رمضان ہمیں اوقات کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے۔ حج ایک منظم نظامِ اوقات کا عملی نمونہ ہے۔ گویا اسلام کا ہر رکن انسان کو وقت کا احترام کرنا سکھاتا ہے۔
علماء، محدثین اور بزرگوں کی زندگیاں اس حقیقت کی روشن مثال ہیں کہ عظمت کا راستہ وقت کی حفاظت سے ہو کر گزرتا ہے۔ انہوں نے اپنی عمر کے لمحے لمحے کو علم، عبادت، خدمتِ خلق اور اصلاحِ امت کے لیے وقف کیا، اسی لیے آج صدیوں بعد بھی ان کے نام عزت سے لیے جاتے ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ ہر دن کا آغاز اللہ کے نام سے کریں، نمازوں کی پابندی کریں، اپنے لیے روزانہ کا ایک مفید منصوبہ بنائیں، قرآن کی تلاوت، مطالعہ، والدین کی خدمت، علم کے حصول اور معاشرے کی اصلاح کے لیے وقت نکالیں۔ ہر رات سونے سے پہلے اپنے دن کا محاسبہ کریں کہ آج کا دن اللہ کی رضا کے لیے کتنا صرف ہوا۔
یاد رکھیے! زندگی سالوں سے نہیں بلکہ لمحوں سے بنتی ہے۔ جو لمحے اللہ کی اطاعت میں گزر جائیں وہی انسان کا اصل سرمایہ ہیں، اور جو لمحے غفلت میں ضائع ہو جائیں وہ قیامت کے دن حسرت کا سبب بن سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں وقت کی قدر کرنے، اسے اپنی رضا کے مطابق استعمال کرنے اور اپنی زندگی کو دین و دنیا دونوں کی کامیابی کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
**وما علینا إلا البلاغ۔**