منــقول
یہ ایک دوسرے کے بھائی ہیں
یہ الفاظ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کب فرمائے؟ واقعہ پڑھنے سے پہلے دو جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تعارف ضروری ہے:
جلیل القدر صحابی حضرت عامر بن عبد اللہ بن جراح بن ہلال قرشی فہری رضی اللہ عنہ ہیں، اور عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے جنگ بدر، احد اور دیگر تمام غزوات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت فرمائی، اور حبشہ کی طرف دوسری ہجرت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شان میں فرمایا تھا:
لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ
ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے، اور اس امت (محمدیہ) کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے۔
(بخاری : ۳۷۴۴)
جس زمانے میں یہ ملک شام کے امیر تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لے گئے تو ان کی سادگی اور خستہ حالی کو دیکھ کر امیر المؤمنین نے فرمایا:
كُلُّنَا غَيَّرَتْهُ الدُّنْيَا غَيْرَكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ
دنیا نے ہم سب کی حالت بدل دی ہے، اے ابو عبیدہ! صرف آپ ہی اس سے محفوظ ہیں۔
ان کی وفات طاعونِ عمواس میں ۱۸ ہجری میں ہوئی، اور نمازِ جنازہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔
جلیل القدر صحابی حضرت معاذ بن جبل بن عمرو بن اوس انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ ان ستر انصاری صحابہ میں شامل تھے جنہوں نے بیعتِ عقبہ میں شرکت کی تھی۔ جنگِ بدر اور احد کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے۔ اسلام لانے کے وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ ان کا شمار اپنی قوم کے خوبصورت نوجوانوں میں ہوتا تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کا امیر بنا کر بھیجا تھا، اور فرمایا:
"صحابہ کرام میں حلال و حرام کے بارے میں سب سے زیادہ علم حضرت معاذ کو ہے۔"
(ابن ماجہ: ۱۵۴، احمد: ۳/۲۸۱)
عہدِ نبوی میں قرآن جمع کرنے والوں میں بھی ان کا شمار ہوتا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے بارے میں فرمایا کرتے تھے:
عَجِزَتِ النِّسَاءُ أَنْ يَلِدْنَ مِثْلَ مُعَاذٍ، وَلَوْلَا مُعَاذٌ لَهَلَكَ عُمَرُ
عورتیں معاذ جیسا بیٹا جنے سے عاجز ہو گئیں، اور اگر معاذ نہ ہوتا تو عمر ہلاک ہو جاتا۔
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل بہت ہیں۔ ان کی وفات بھی طاعونِ عمواس میں ۱۸ ہجری میں ہوئی، اس وقت ان کی عمر ۳۸ سال تھی۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو چار سو دینار دیے اور کہا کہ اسے ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو دے آؤ، اور ہاں! تھوڑی دیر انتظار کرنا اور دیکھنا کہ وہ ان دیناروں کو کہاں خرچ کرتے ہیں۔
غلام دینار لے کر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، سلام عرض کیا اور کہا: یہ دینار امیر المؤمنین نے آپ کو بھیجے ہیں اور فرمایا ہے کہ اپنے مصرف میں لے آئیں۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کی اور اپنی لونڈی کو بلا کر فرمایا: یہ سات دینار فلاں کو دے آؤ، پانچ فلاں کے گھر دے دو، یہ دس دینار فلاں کے لیے ہیں، اور یہ فلاں گھرانے کے لیے ہیں۔ یہاں تک کہ ساری رقم وہیں کھڑے کھڑے تقسیم کر دی۔
غلام واپس آیا اور جو کچھ دیکھا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا۔
اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اتنے ہی دینار حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھجوانے اور غلام کو وہی ہدایات دیں۔
غلام ان کے پاس پہنچا، سلام عرض کیا اور دیناروں کی تھیلی پیش کی کہ یہ امیر المؤمنین نے آپ کے لیے بھیجی ہے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کی اور اپنی لونڈی کو بلا کر فرمایا: فلاں کو پانچ دے دو، فلاں کو دس دے دو، فلاں گھرانے کو دو دے دو۔ اس طرح وہ بھی تقسیم کرتے گئے، یہاں تک کہ تھیلی خالی ہو گئی۔
اسی دوران ان کی اہلیہ آئیں اور عرض کیا: ہم بھی تو محتاج ہیں، ہمیں بھی کچھ دے دیجیے۔ اس وقت تھیلی میں صرف دو دینار باقی تھے، وہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو دے دیے۔
غلام واپس آیا اور سارا واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سنایا۔ یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا:
اِنَّهُمْ اِخْوَةٌ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ
یہ ایک دوسرے کے بھائی ہیں، یہ سب نیکی اور بھلائی میں ایک جیسے ہیں۔
حوالہ: طبقات ابنِ سعد، سیر اعلام النبلاء