آج کا مسلمان، ایمان کا دعویدار ہونے کے باوجود ایک ایسی بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے جس نے اس کے دل سے سکون چھین لیا ہے۔ ہر دوسرا، تیسرا شخص ایک ایسی ذہنی اذیت میں گرفتار ہے جس کا محور صرف یہ ہے: "کاش میں اتنا کما لیتا، کاش مجھے یہ مل جاتا، کاش میں فلاں کی طرح کامیاب ہو جاتا۔" یہ "کاش" محض ایک لفظ نہیں، بلکہ یہ اللہ کی تقسیم اور اس کی حکمت پر عدم اطمینان کا اعلان ہے۔
نظریہ "کاش" اور بندگی سے دوری
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس دنیاوی ہوس نے انسان کو اس کے اصل مقصدِ تخلیق سے دور کر دیا ہے۔ انسان آج یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ "اگر میں نماز پڑھنے چلا گیا تو میری دکان بند ہو جائے گی، میرا گاہک چلا جائے گا، مجھے فلاں کا نقصان ہو جائے گا۔" یہ سوچ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے اس مالک پر بھروسہ نہیں جس نے دکان بنائی، بلکہ اسے صرف دکان میں رکھے ہوئے مال پر بھروسہ ہے۔ وہ بھول گیا ہے کہ سجدہ کرنے سے رزق کم نہیں ہوتا، بلکہ اس میں وہ برکت اترتی ہے جو حساب کتاب کی محتاج نہیں ہوتی۔
رزق کا تعاقب اور اٹل حقیقت
حقیقت یہ ہے کہ رزق انسان کو اس طرح ڈھونڈتا ہے جیسے ملک الموت اس کی روح کو۔ جس طرح کوئی انسان ملک الموت سے بھاگ نہیں سکتا، اسی طرح کوئی اپنے مقدر کا رزق چھوڑ نہیں سکتا۔ جتنی روزی ہماری قسمت میں لکھ دی گئی ہے، وہ ہم تک پہنچ کر رہے گی؛ چاہے ہم دنیا بھر کی تگ و دو کر لیں، ہم اس سے ایک ذرہ زیادہ نہیں پا سکتے، اور اگر ہم کوشش نہ بھی کریں، تو وہ ہم تک پہنچ کر رہے گی۔ لیکن آج ہم نے رزق کو اپنا "خدا" بنا لیا ہے، اسی لیے ہم ڈپریشن کے مریض بن چکے ہیں۔
مغربی معاشرہ اور سکون کی تلاش
دنیا کے ان معاشروں، بالخصوص امریکہ جیسے ممالک پر ایک نظر ڈالیں جہاں اللہ پر توکل اور تقدیر کا کوئی تصور نہیں، وہاں کا انسان جب اپنی کوششوں میں ناکام ہوتا ہے تو وہ ٹوٹ جاتا ہے۔ وہاں کی صورتحال یہ ہے کہ پاگل خانے مریضوں سے بھرے پڑے ہیں اور خودکشی کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ سب اسی لیے ہے کہ وہاں تقدیر پر ایمان کا وہ تصور موجود نہیں جو انسان کو شکست کے بعد سنبھال سکے۔ ہم بھی آج اسی راستے پر چل پڑے ہیں؛ ہم نے بھی اللہ کے وعدوں پر یقین کرنا چھوڑ دیا ہے، اسی لیے ہم بھی اسی ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔
یقینِ کامل ہی واحد نجات ہے
ڈپریشن سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے دل میں یہ بات پختہ کر لیں کہ جو ہو رہا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور جو ہوگا وہ بھی اسی کی طرف سے ہوگا۔ جب انسان اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے، تو اسے "کاش" کہنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا رب اس کے لیے وہی بہتر کرے گا جو اس کے حق میں افضل ہے۔
آخری بات:
ہمیں اپنی فکر بدلنی ہوگی۔ ہم دنیا کمانے کے لیے نہیں، بلکہ اللہ کو راضی کرنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ جس دن ہمارے اندر یہ یقین آ گیا کہ رزق کا ذمہ دار وہ ہے جس نے ہمیں پیدا کیا، اس دن ہماری ہر مشکل آسان ہو جائے گی اور ہمارے سینے سے "کاش" کا یہ زہر ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ ہمیں کسی کلینک کی ضرورت نہیں، ہمیں اپنے "یقین" کے علاج کی ضرورت ہے۔