اچھائی اور برائی کا پیمانہ کیا ہے؟
عقل، فطرت اور وحی کی روشنی میں ایک فکری جائزہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
(مضمون نمبر: 110)
محترم قارئین!
انسانی زندگی کے بنیادی اور اہم ترین سوالات میں سے ایک سوال یہ ہے کہ "اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے؟" بظاہر یہ ایک نہایت سادہ سوال معلوم ہوتا ہے، لیکن جب اس پر گہرائی سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پوری انسانی تہذیب، اخلاقیات، قوانین، فلسفہ اور مذاہب اسی سوال کے گرد گھومتے ہیں۔
ہر انسان اپنی زندگی میں روزانہ بے شمار فیصلے کرتا ہے۔ وہ کسی عمل کو درست قرار دیتا ہے اور کسی کو غلط، کسی بات کو نیکی سمجھتا ہے اور کسی کو برائی۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سا معیار یا پیمانہ ہے جس کے ذریعے یہ فیصلہ کیا جائے کہ کوئی چیز واقعی اچھی ہے یا بری؟
کیا میری ذاتی سوچ ہی پیمانہ ہے؟ کیا معاشرے کی رائے معیار ہے؟ کیا اکثریت کا فیصلہ حق بن جاتا ہے؟ یا پھر کوئی ایسا مستقل، غیر متغیر اور آفاقی معیار بھی موجود ہے جو زمانوں، علاقوں، تہذیبوں اور انسانوں کے بدلنے سے تبدیل نہ ہو؟
سوال (1)
اچھائی اور برائی ناپنے کا اسلامی اور منطقی پیمانہ کیا ہے؟
جواب:
حقیقت یہ ہے کہ اگر ہر انسان اپنی ذاتی سوچ، خواہش یا پسند و ناپسند کو ہی پیمانہ بنا لے تو دنیا میں جتنے انسان ہیں اتنے ہی پیمانے بن جائیں گے۔ ایک شخص جس چیز کو اچھا سمجھے گا، دوسرا اسی کو برا قرار دے گا۔ ایسی صورت میں حق اور باطل کا کوئی مستقل معیار باقی نہیں رہے گا۔
اسی لیے اسلام نے انسان کو ایسا معیار عطا کیا ہے جو خواہشات، مفادات اور زمانے کی تبدیلیوں سے بالاتر ہے۔
اسلام میں اچھائی اور برائی کا اصل پیمانہ یہ ہے:
قرآنِ مجید
سنتِ رسول ﷺ
اجماعِ مجتہدینِ امت (جسے اختصاراً اجماعِ امت کہا جاتا ہے)
عقلِ سلیم، جو وحیِ الٰہی کی رہنمائی میں کام کرے۔
یہ چاروں اصول محض دعوے کی بنیاد پر نہیں، بلکہ قرآن و سنت اور امت کے مسلمہ اصولوں سے ثابت ہیں۔
1۔ قرآنِ مجید
اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ آخری، محفوظ اور کامل کلام، جو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے۔
دلیل:
﴿إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ﴾
"بے شک یہ قرآن اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے۔"
(سورۃ الإسراء: 9)
2۔ سنتِ رسول ﷺ
سنت، قرآنِ کریم کی عملی تشریح، تفسیر اور رسول اللہ ﷺ کا کامل نمونۂ حیات ہے۔
دلیل:
﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾
"رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے لے لو، اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔"
(سورۃ الحشر: 7)
3۔ اجماعِ مجتہدینِ امت
امت کے مجتہد اور معتبر علماء کا کسی شرعی مسئلے پر متفق ہو جانا، جو امت کو گمراہی سے محفوظ رکھنے کا ایک شرعی اصول ہے۔
دلیل:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ أُمَّتِي لَا تَجْتَمِعُ عَلَى ضَلَالَةٍ»
"میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی۔"
(سنن ابن ماجہ، کتاب الفتن، حدیث: 3950)
وضاحت
یہاں اجماعِ امت سے مراد ہر دور کے تمام علماء کے اختلافی فتاویٰ یا کسی ایک مسلک کی رائے نہیں، بلکہ امت کے مجتہد اور معتبر علماء کا کسی شرعی مسئلے پر حقیقی اور ثابت شدہ اتفاق ہے۔
جہاں علماء کے درمیان اختلاف موجود ہو وہاں شرعی اصطلاح میں اجماع قائم نہیں ہوتا۔
ایسی صورت میں فیصلہ قرآنِ مجید، سنتِ رسول ﷺ اور راجح شرعی دلیل کی روشنی میں کیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ﴾
"اگر تم کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔"
(سورۃ النساء: 59)
4۔ عقلِ سلیم
اسلام عقل کی نفی نہیں کرتا بلکہ عقل کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دیتا ہے، تاہم ایسی عقل معتبر ہے جو وحیِ الٰہی کی روشنی میں حق کو سمجھے اور اس پر استدلال کرے۔
دلیل:
﴿أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾
"کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟"
(سورۃ البقرۃ: 44)
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ﴾
"کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟"
(سورۃ النساء: 82)
اس لیے اسلام میں عقل، وحی کی مخالف نہیں بلکہ اس کی معاون اور خادم ہے۔
اللہ تعالیٰ مزید فرماتے ہیں:
﴿فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ﴾
"اگر تم کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔"
(سورۃ النساء: 59)
یعنی کسی عمل کے اچھا یا برا ہونے کا آخری فیصلہ انسانی خواہشات، اکثریت یا ذاتی پسند و ناپسند نہیں، بلکہ وحیِ الٰہی کرے گی۔
سوال (2)
اگر مختلف مسالک کے معتبر علماء ایک ہی مسئلے میں مختلف آراء رکھتے ہوں، اور ہر ایک قرآن و حدیث سے دلیل بھی پیش کرے، تو پھر حق کس کے ساتھ ہوگا؟ جبکہ حدیث میں ہے: "میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی۔"
جواب:
ایسی صورت دراصل اجماع کی نہیں بلکہ اختلافِ اجتہاد کی ہوتی ہے۔ جہاں اختلاف موجود ہو وہاں اجماع ثابت نہیں ہوتا۔
اس لیے مسلمان کا فرض ہے کہ وہ تعصب سے بالاتر ہو کر قرآنِ مجید، صحیح سنت، صحابۂ کرامؓ کے فہم اور راجح شرعی دلیل کی روشنی میں حق کو تلاش کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اختلاف کی صورت میں کسی شخصیت، جماعت یا مسلک کی طرف رجوع کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا:
﴿فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ﴾
"اگر تم کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔"
(سورۃ النساء: 59)
لہٰذا اختلافِ علماء، اجماع نہیں ہوتا، اور جہاں حقیقی اجماع ثابت ہو جائے وہاں امت گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی۔ البتہ جہاں اختلاف موجود ہو وہاں حق کا معیار صرف مضبوط شرعی دلیل ہے، نہ کہ کسی شخصیت، جماعت یا مسلک کی مجرد نسبت۔
البتہ عام مسلمان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ خود ساختہ اجتہاد کے بجائے اہلِ علم کی رہنمائی میں راجح دلیل کو اختیار کرے۔
کیا صرف عقل کافی ہے؟
عقل اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، لیکن عقل محدود ہے۔
چور، چوری کو اپنے فائدے کی وجہ سے اچھا سمجھ سکتا ہے۔
سود خور، سود کو ترقی کا ذریعہ قرار دے سکتا ہے۔
ظالم، اپنے ظلم کو انصاف کا نام دے سکتا ہے۔
اگر ذاتی عقل ہی آخری پیمانہ ہوتی تو ہر شخص اپنی خواہش کے مطابق اچھائی اور برائی کی نئی تعریف وضع کر لیتا۔
اسی لیے کہا جاتا ہے:
"عقل چراغ ہے، لیکن وحی سورج ہے۔"
چراغ راستہ دکھاتا ہے، مگر سورج کے بغیر پورا منظر واضح نہیں ہوتا۔
منطقی پیمانہ کیا ہے؟
عقلی اعتبار سے کسی عمل کو اچھا کہا جا سکتا ہے اگر:
وہ حق اور انصاف پر مبنی ہو۔
وہ دوسروں کے حقوق پامال نہ کرتا ہو۔
وہ فرد اور معاشرے کے لیے حقیقی فائدہ مند ہو۔
اس کے نتائج مجموعی طور پر خیر، امن اور بھلائی پر مشتمل ہوں۔
لیکن یہاں ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔
سوال (3)
حق، انصاف اور فائدے کی تعریف کون کرے گا؟
جواب
اگر یہ اختیار ہر انسان کو دے دیا جائے تو ہر شخص اپنی خواہش، مفاد، ماحول اور نظریے کے مطابق ان الفاظ کی الگ الگ تعریف متعین کرے گا۔
چنانچہ ایک قوم جس چیز کو انصاف قرار دے گی، دوسری اسے ظلم کہے گی۔ ایک معاشرہ جس عمل کو آزادی کا نام دے گا، دوسرا اسے اخلاقی بگاڑ تصور کرے گا۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا میں اخلاقی نظریات مسلسل بدلتے رہے ہیں، لیکن انسان کو ہمیشہ ایک ایسے معیار کی ضرورت رہی ہے جو خواہشات، مفادات اور زمانے کی تبدیلیوں سے بالاتر ہو۔
لہٰذا عقل بھی ایک ایسے اعلیٰ اور مستقل معیار کی محتاج ہے جو خود انسان کا بنایا ہوا نہ ہو، بلکہ انسان کے خالق کی طرف سے ہو۔ اسلام کے نزدیک وہ معیار وحیِ الٰہی ہے۔
سوال (4)
دوسرے مذاہب میں اچھائی اور برائی کا پیمانہ کیا ہے؟
جواب
تقریباً ہر مذہب اپنے ماننے والوں کو اچھائی اور برائی کا ایک اخلاقی معیار فراہم کرتا ہے۔
مثلاً:
ہندومت میں وید، اپنشد اور گیتا۔
عیسائیت میں بائبل۔
یہودیت میں تورات۔
بدھ مت میں بدھ کی تعلیمات۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً تمام مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ صرف انسانی خواہشات یا ذاتی رائے اچھائی اور برائی کا حتمی معیار نہیں بن سکتیں، بلکہ کسی اعلیٰ اصول یا ماخذ کی ضرورت ہوتی ہے۔
البتہ اسلام کے نزدیک ان مذاہب کے موجودہ مصادر ایک درجے کے نہیں ہیں۔ بعض آسمانی کتابیں اپنی اصل صورت میں محفوظ نہیں رہیں اور ان میں تحریف واقع ہوئی، جبکہ قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی وہ آخری کتاب ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے لی ہے۔ یہاں دوسرے مذاہب کے ذکر کا مقصد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ ہر مذہب کسی نہ کسی اعلیٰ اخلاقی معیار کا دعویٰ کرتا ہے، نہ کہ تمام مذاہب کو حقانیت کے اعتبار سے برابر قرار دینا۔
ایک اہم اعتراض
یہاں اکثر ایک اور سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔
سوال (5)
میں کسی مذہب کی کتاب یا کسی مذہبی شخصیت کو اپنا معیار کیوں مانوں؟ ممکن ہے میرا کسی مذہب سے کوئی تعلق ہی نہ ہو، پھر میرے لیے اچھائی اور برائی کا پیمانہ کیا ہوگا؟
جواب
یہ دراصل نہایت بنیادی اور اہم سوال ہے۔
اگر کوئی شخص یہ کہے:
"میں نہ قرآن کو مانتا ہوں، نہ بائبل کو، نہ گیتا کو اور نہ کسی مذہبی شخصیت کو۔"
تو ایسے شخص سے گفتگو کا آغاز مذہبی حوالوں سے نہیں بلکہ عقلِ عام (Common Sense) اور انسانی فطرت سے کیا جاتا ہے۔
پہلا مرحلہ
کیا واقعی انسان بغیر کسی پیمانے کے زندگی گزار سکتا ہے؟
اس سے چند سادہ سوالات کیے جائیں:
کیا انصاف اچھا ہے یا ظلم؟
کیا سچ اچھا ہے یا جھوٹ؟
کیا امانت داری اچھی ہے یا خیانت؟
کیا بلاوجہ قتل اچھا ہے یا برا؟
دنیا کا تقریباً ہر باشعور انسان ان سوالات کا ایک ہی جواب دے گا۔
سوال (6)
اگر تم کسی مذہب کو نہیں مانتے تب بھی انصاف کو اچھا اور ظلم کو برا کیوں سمجھتے ہو؟
جواب
کیونکہ یہ احساس اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت اور عقل میں ودیعت فرمایا ہے۔
اسی فطری شعور کی وجہ سے انسان ظلم کو برا اور انصاف کو اچھا محسوس کرتا ہے، خواہ وہ کسی بھی مذہب یا معاشرے سے تعلق رکھتا ہو۔
دوسرا مرحلہ
کیا صرف فطرت اور عقل ہی کافی ہیں؟
اگر فطرت اور عقل ہر معاملے میں کافی ہوتیں تو دنیا میں ان بنیادی اخلاقی اور قانونی مسائل پر اتنا شدید اختلاف نہ ہوتا، جیسے:
سود
اسقاطِ حمل
جنسی اخلاقیات
سزائے موت
خاندانی نظام
رحمِ مادر میں بچے کے حقوق
جنس کی تبدیلی جیسے جدید مسائل
یہ اختلافات واضح کرتے ہیں کہ عقل اور فطرت بنیادی رہنمائی ضرور دیتی ہیں، لیکن ہر مسئلے میں آخری اور قطعی فیصلہ نہیں کر سکتیں۔
اسی لیے انسان کو ایسی رہنمائی درکار ہوتی ہے جو انسانی خواہشات اور محدود عقل سے بلند ہو۔
تیسرا مرحلہ
پھر آخری فیصلہ کون کرے؟
یہاں ایک اور بنیادی سوال سامنے آتا ہے۔
سوال (7)
اگر اس کائنات کا کوئی خالق ہے تو کیا اس نے انسان کو بغیر کسی ہدایت کے چھوڑ دیا ہوگا؟
جواب
عقلِ سلیم یہی کہتی ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ:
ایک موبائل فون کے ساتھ ہدایت نامہ (Manual) ہوتا ہے۔
ایک گاڑی کے ساتھ استعمال کی کتاب دی جاتی ہے۔
ایک مشین کے ساتھ مکمل رہنمائی موجود ہوتی ہے۔
تو پھر انسان، جو ان تمام چیزوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ، باعقل اور ذمہ دار مخلوق ہے، کیا اسے اس کے خالق نے بغیر کسی ہدایت کے چھوڑ دیا ہوگا؟
عقل اس بات کو قبول نہیں کرتی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان خالق اور وحی کے سوال تک پہنچ جاتا ہے۔
سوال (8)
کیا پہلے مذہب ماننا ضروری ہے یا پہلے خالق کو سمجھنا؟
جواب
درست اور منطقی ترتیب یہ ہے:
کیا اس کائنات کا کوئی خالق موجود ہے؟
اگر خالق موجود ہے تو کیا اس نے انسان کی رہنمائی کے لیے ہدایت بھیجی ہے؟
اگر ہدایت بھیجی ہے تو کون سی کتاب واقعی اسی خالق کی طرف سے نازل کردہ ہے؟
جب انسان غیر جانبداری، عقلِ سلیم اور انصاف کے ساتھ ان سوالات پر غور کرتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ اس نتیجے تک پہنچ جاتا ہے کہ خالق کی طرف سے ہدایت کا آنا ایک عقلی تقاضا ہے، اور پھر وہ اس ہدایت کی تلاش شروع کرتا ہے۔
یہی وہ منطقی اور فطری سفر ہے جو انسان کو فطرت سے وحی تک، عقل سے ایمان تک، اور تلاشِ حق سے قبولِ حق تک پہنچا دیتا ہے۔
خلاصۂ کلام
اگر کوئی شخص یہ سوال کرے کہ:
"آخر اچھائی اور برائی کا حقیقی پیمانہ کیا ہے؟"
تو اس کا مختصر، منطقی اور اسلامی جواب یہ ہے کہ:
ابتدائی درجے میں اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو فطرتِ سلیمہ اور عقلِ سلیم عطا فرمائی ہے، جس کے ذریعے وہ بہت سی بنیادی اچھائیوں اور برائیوں کا شعور حاصل کر لیتا ہے۔ لیکن چونکہ انسانی عقل محدود، خواہشات سے متاثر اور ماحول کے زیرِ اثر ہوتی ہے، اس لیے ہر دور میں اچھائی اور برائی کے معیار بدلتے رہے ہیں۔
اسی لیے انسان کو ایک ایسے مستقل، غیر متغیر اور آفاقی معیار کی ضرورت ہے جو انسانوں کی آراء، خواہشات، تہذیبوں اور زمانوں کے بدلنے سے تبدیل نہ ہو۔
مذہب کو ماننے والے کے لیے یہ معیار وحیِ الٰہی ہے، جبکہ مذہب کو نہ ماننے والے کے لیے بھی گفتگو کا آغاز عقلِ سلیم اور فطرتِ انسانی سے ہوتا ہے، اور یہی عقل بالآخر انسان کو اس سوال تک پہنچاتی ہے کہ اگر اس کائنات کا ایک حکیم و علیم خالق موجود ہے تو اس نے اپنی مخلوق کی رہنمائی کے لیے ہدایت بھی ضرور نازل کی ہوگی۔
پھر عقل کا تقاضا یہی بنتا ہے کہ انسان اس ہدایت کو تلاش کرے، اس کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کرے اور دلائل کی بنیاد پر اسے قبول کرے، نہ کہ محض آبائی روایت، جذبات، تعصب یا خواہشات کی بنیاد پر۔
لہٰذا حقیقت یہ ہے کہ اچھائی اور برائی کا مسئلہ محض اخلاقیات کا مسئلہ نہیں، بلکہ خالق، انسان اور مقصدِ زندگی کو سمجھنے کا مسئلہ بھی ہے۔ جب یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے تو انسان محض اپنی ذاتی رائے، خواہش یا معاشرتی رجحانات کا پابند نہیں رہتا، بلکہ ایک اعلیٰ، مستقل اور قابلِ اعتماد معیار کا طالب بن جاتا ہے۔
حرفِ آخر
بحیثیتِ مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ اچھائی اور برائی کا حقیقی، دائمی اور قابلِ اعتماد معیار وہی ہے جو ہمارے خالق نے ہمیں عطا فرمایا ہے۔
اس لیے ہمارے لیے حق و باطل، نیکی و بدی، حلال و حرام اور درست و نادرست کا اصل معیار و پیمانہ یہ ہے:
قرآنِ مجید
سنتِ رسول ﷺ
اجماعِ مجتہدینِ امت
عقلِ سلیم، جو وحیِ الٰہی کی رہنمائی میں کام کرے۔
انہی اصولوں کی روشنی میں حق و باطل کے درمیان فرق کیا جاتا ہے، انہی کی بنیاد پر نیکی اور برائی کا فیصلہ ہوتا ہے، اور یہی وہ معیار ہے جو انسان کو خواہشات کی غلامی سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی ہدایت، اعتدال، عدل اور حقیقی کامیابی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم اور عقلِ سلیم عطا فرمائے آمین یا رب العالمین. وما توفیقی إلا باللہ، علیہ توکلت وإلیہ أنیب بقلم: محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com