علمائے کرام اور حفاظِ قرآن اس امت کا وہ سرمایہ ہیں جن کی عظمت کا اعتراف خود کائنات کا خالق کرتا ہے۔ ان کی زندگی کا مقصد ہی اللہ کی رضا اور دین کی خدمت ہے، اور یہی ان کی سب سے بڑی دولت ہے۔ مگر افسوس! آج کا معاشرہ اس قدر اندھا ہو چکا ہے کہ وہ 'تقویٰ' اور 'کردار' کے بجائے 'بینک بیلنس' کو رشتہ داری کا واحد معیار سمجھ بیٹھا ہے۔

ایک تلخ تجربہ اور سبق:

مجھے آج بھی وہ واقعہ یاد ہے جب ایک شخص نے اپنی بہن کے رشتے کے لیے مجھ سے مدد مانگی۔ میں نے خلوصِ نیت سے اسے اپنے ایک نہایت ہی شریف النفس، عالمِ دین اور حافظِ قرآن ساتھی کا رشتہ تجویز کیا۔ وہ ساتھی جو مدرسے میں رہ کر دین کی خدمت کر رہا ہے۔ مگر اس شخص کا جواب میری روح کو چھلنی کر گیا! اس نے حقارت سے کہا: "مجھے کسی عالم یا حافظ سے رشتہ نہیں کرنا، ان کی تنخواہ ہی کیا ہے؟ مجھے تو امیرزادہ چاہیے، بزنس مین چاہیے۔"

میں خاموش ہو گیا، کیونکہ اسے دولت کا نشہ تھا۔ اس نے اپنی بہن کا رشتہ ایک ایسے "امیرزادہ" کے گھر کر دیا جس کے پاس دولت تو بے پناہ تھی، مگر حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں تھی۔

انجامِ بد اور پچھتاوا:

وقت کا پہیہ گھوما اور سچ سامنے آ گیا۔ وہ "امیرزادہ" جس کے پیسوں پر اسے ناز تھا، ایک جواری اور شرابی نکلا۔ اس کے گھر کی دیواریں عیش و عشرت سے تو بھری تھیں، لیکن وہاں سکون نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ آخر کار وہی ہوا جس کا ڈر تھا؛ اس لڑکی کی زندگی تباہ ہو گئی، طلاق کی تلوار اس کے سر پر گری اور وہ گھر لوٹ آئی۔

اب حال یہ ہے کہ وہی شخص، جو کل عالمِ دین کے رشتے کو ٹھکرا کر اپنی عقل پر نازاں تھا، آج دوبارہ میرے پاس آ کر کہہ رہا ہے: "بھائی! کوئی عالم یا حافظ ہی مل جائے تو رشتہ کر دیں، اب بیٹی کی زندگی سنبھالنی ہے۔"

عبرت کا مقام:

سوچئے! کیا یہ اس کی اس بدعقلی اور دولت کی ہوس کی سزا نہیں؟ جو انسان آج ایک عالمِ دین کی شرافت کو محض پیسوں کی کمی کی وجہ سے ٹھکرا سکتا ہے، اسے کل اپنے اس فیصلے پر خون کے آنسو رونا پڑتے ہیں۔ یاد رکھو، ایک عالمِ دین کی 15 ہزار کی تنخواہ میں بھی وہ برکت ہے جو کسی جواری یا شرابی کی کروڑوں کی دولت میں نہیں ہو سکتی۔

خدارا! اپنی بیٹیوں کے نصیب کو دولت کی ہوس کی بھینٹ نہ چڑھاؤ۔

آج اگر تم نے کردار کو معیار بنایا ہوتا، تو آج تمہاری بہن کسی کے گھر میں ملکہ بن کر رہ رہی ہوتی۔ عالمِ دین کی عزت کرنا سیکھو، کیونکہ ان کی دعاؤں اور ان کی شرافت میں ہی تمہاری بیٹیوں کا تحفظ ہے۔ اگر آج نہ سمجھے، تو کل پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ دنیا تو گزر جائے گی، مگر قیامت کے دن اپنی اس غلط ترجیح کا حساب تمہیں خود دینا ہوگا۔