سنتِ رسول ﷺ کی عظمت
حضرت مولانا مفتی محمد اسجد صاحب بہٹوی
خادم، جامعہ مظاہر علوم سہارنپور
شائع کردہ،۔ ماہنامہ جامعہ مظاہر علوم صفحہ 38 تا 42
https://www.facebook.com/AbuzarGhifariedu
الحمد للہ رب العالمین، والصل
05 جولائی، 2026
حضرت مولانا مفتی محمد اسجد صاحب بہٹوی
خادم، جامعہ مظاہر علوم سہارنپور
شائع کردہ،۔ ماہنامہ جامعہ مظاہر علوم صفحہ 38 تا 42
https://www.facebook.com/AbuzarGhifariedu
الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔
دنیا کی تاریخ میں بہت سے انسان آئے، انہوں نے اپنے اپنے افکار پیش کیے، اپنے نظریات کو فروغ دیا اور اپنے پیچھے ایک فکری ورثہ چھوڑ گئے؛ مگر ان تمام شخصیات میں ایک ہستی ایسی ہے جس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ، ایک ایک ادا، ایک ایک قول اور ایک ایک عمل قیامت تک کے انسانوں کے لیے مشعلِ راہ بنا دیا گیا۔ وہ ہستی رحمتِ عالم، تاجدارِ مدینہ، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو صرف ایک پیغام پہنچانے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ آپ کو عملی نمونہ، کامل اسوہ اور زندہ معیارِ ہدایت بنا کر مبعوث فرمایا۔ چنانچہ قرآنِ کریم اعلان کرتا ہے:
«لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (سورۃ الاحزاب: 21)»
’’یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے۔‘
یہ آیت صرف ایک فضیلت بیان نہیں کرتی بلکہ پوری امت کو یہ پیغام دیتی ہے کہ کامیابی، سعادت اور نجات کا راستہ رسول اللہ ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے میں ہے۔
سنت کیا ہے؟
علمائے اصول کے نزدیک سنت سے مراد رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال، تقریرات اور وہ طریقۂ حیات ہے جو آپ ﷺ سے ثابت ہو۔ قرآن مجید نے دین کے اصول بیان کیے اور سنت نے ان اصولوں کی عملی تشریح فرمائی۔ (الفصول في أصول الفقہ، ۳: ۲۳۵)
قرآن نماز کا حکم دیتا ہے، لیکن نماز پڑھنے کا طریقہ سنت سکھاتی ہے۔
قرآن زکوٰۃ کا حکم دیتا ہے، لیکن نصاب اور تفصیلات سنت بتاتی ہے۔
قرآن حج فرض کرتا ہے، لیکن مناسکِ حج کی عملی صورت سنت واضح کرتی ہے۔
اسی لیے محدثین اور فقہاء نے لکھا ہے کہ قرآن اور سنت دو الگ چیزیں نہیں بلکہ ایک ہی نور کے دو مظاہر ہیں؛ قرآن اللہ کا نازل کردہ کلام ہے اور سنت اسی کلام کی عملی تفسیر ہے۔
سنت کا مقام قرآن کی نظر میں
قرآنِ کریم میں جگہ جگہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیا گیا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
«مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰهَ (سورۃ النساء: 80)»
’’جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘
یہ آیت سنتِ رسول ﷺ کی عظمت کے لیے کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دے دیا۔ گویا جو شخص سنت کی پیروی کرتا ہے وہ درحقیقت ربِ کائنات کے حکم کی تعمیل کرتا ہے۔
ایک اور مقام پر فرمایا:
«وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا (سورۃ الحشر: 7)»
’’رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔‘‘
یہ آیت سنتِ نبوی ﷺ کے حجت ہونے کی سب سے واضح دلیل ہے۔ یہاں کسی خاص حکم یا مخصوص معاملے کی بات نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قبول کرنے اور ہر ممانعت سے رک جانے کا حکم دیا گیا ہے۔
سنت اور محبتِ رسول ﷺ
محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو محبوب کی پیروی پر آمادہ کرتا ہے۔ جس محبت میں اتباع نہ ہو وہ محض دعویٰ ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰه (سورۃ آل عمران: 31)»
’’آپ کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔‘‘
اس آیت کو مفسرین نے ’’آیتِ محبت‘‘ قرار دیا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی محبت تک پہنچنے کا واحد راستہ اتباعِ رسول ﷺ ہے۔
زبان سے درود پڑھنا یقیناً سعادت ہے، سیرت کے اجتماعات یقیناً باعثِ اجر ہیں، مگر رسول اللہ ﷺ کی حقیقی محبت کا معیار یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو سنت کے تابع کر دے۔
صحابۂ کرامؓ اور سنت کا ذوق
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سنتِ رسول ﷺ کے ایسے عاشق تھے کہ زندگی کے ہر شعبے میں آپ ﷺ کی پیروی کو سعادت سمجھتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا حال یہ تھا کہ سفر کے دوران ان راستوں سے گزرتے جن سے رسول اللہ ﷺ گزرے تھے۔ جن درختوں کے نیچے آپ ﷺ نے قیام فرمایا تھا، ان کے پاس ٹھہرتے تھے۔ ان کا مقصد محض تبرک نہیں بلکہ اتباعِ سنت کا اظہار تھا۔
سنت سے دوری کے نقصانات
تاریخ گواہ ہے کہ جب امت سنت کے ساتھ وابستہ رہی تو دنیا کی قیادت اس کے ہاتھ میں رہی۔ جب سنت کو پسِ پشت ڈالا گیا تو فکری انتشار، اخلاقی زوال اور روحانی کمزوری نے جنم لیا۔
آج امتِ مسلمہ بے شمار مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ گھروں میں بے سکونی ہے، معاشرے میں بے راہ روی ہے، تجارت میں خیانت ہے، تعلقات میں مصنوعیت ہے اور عبادات میں روح کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ ان تمام بیماریوں کا حقیقی علاج سنتِ رسول ﷺ کی طرف رجوع میں پوشیدہ ہے۔
سنت صرف داڑھی، لباس اور ظاہری آداب کا نام نہیں بلکہ سچائی، دیانت، عدل، رحم، حیا، امانت، حسنِ اخلاق اور اللہ کی بندگی کا مکمل نظام ہے۔
سنت پر عمل کی برکتیں
جو شخص سنت کو اختیار کرتا ہے اس کی زندگی میں اعتدال پیدا ہوتا ہے۔ اس کے معاملات میں برکت آتی ہے، اس کے اخلاق میں نرمی آتی ہے اور اس کے دل میں نور پیدا ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّين
’’تم میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا۔‘‘
(سنن ابی داود، کتاب السنۃ ۔ 6. باب في لزوم السنة)
اسی طرح فرمایا:
«مَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي
’’جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی۔‘‘
(جامع الترمذی، كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، . باب ما جاء في الأخذ بالسنة واجتناب البدع)»
یہ احادیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ سنت کا احیاء دراصل محبتِ رسول ﷺ کا عملی اظہار ہے۔
سنت کا تحفظ اور امتِ مسلمہ
اللہ تعالیٰ نے جس طرح قرآنِ مجید کی حفاظت کا وعدہ فرمایا، اسی طرح سنتِ نبوی ﷺ کی حفاظت کے اسباب بھی پیدا فرمائے۔ چنانچہ محدثینِ کرام نے اپنی زندگیاں احادیثِ رسول ﷺ کی جمع و تدوین، تحقیق اور تنقیح کے لیے وقف کر دیں۔ ہزاروں میل کے سفر کیے گئے، لاکھوں روایات کو پرکھا گیا، راویوں کے حالات محفوظ کیے گئے اور اصولِ حدیث کا ایسا عظیم فن وجود میں آیا جس کی مثال دنیا کے کسی مذہب یا تہذیب میں نہیں ملتی۔
امام بخاریؒ، امام مسلمؒ، امام ترمذیؒ، امام ابو داؤدؒ اور دیگر محدثین نے جس محنت اور دیانت کے ساتھ سنت کو محفوظ کیا، وہ امتِ مسلمہ پر ایک عظیم احسان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج چودہ صدیوں کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو امت کے سامنے محفوظ نہ ہو۔
سنت اور اصلاحِ معاشرہ
معاشرے کی اصلاح محض قوانین سے نہیں ہوتی بلکہ کردار سازی سے ہوتی ہے، اور کردار سازی کا کامل ترین نمونہ سنتِ رسول ﷺ میں موجود ہے۔ آپ ﷺ نے ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس میں عدل تھا، رحم تھا، اخوت تھی، دیانت تھی اور انسانیت کا احترام تھا۔
آج اگر ہم اپنے معاشرے میں جھوٹ، خیانت، ظلم، بدعنوانی، بے حیائی اور نفرت کے بڑھتے ہوئے رجحانات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ان تمام بیماریوں کا علاج سنتِ نبوی ﷺ میں موجود ہے۔ جب افراد سنت کے مطابق اپنی اصلاح کریں گے تو خاندان سنوریں گے، اور جب خاندان سنوریں گے تو پورا معاشرہ صالح بن جائے گا۔
سنت اور باطنی اصلاح
سنت صرف ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ دلوں کی اصلاح کا بھی جامع نظام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اخلاص، تواضع، صبر، شکر، قناعت، توکل اور تقویٰ جیسی صفات کی تعلیم دی اور تکبر، حسد، ریا، بغض اور دنیا پرستی جیسی بیماریوں سے بچنے کی تلقین فرمائی۔
حقیقت یہ ہے کہ جو شخص سنت کے مطابق اپنی ظاہری زندگی کو سنوارتا ہے اور ساتھ ہی اپنے باطن کی اصلاح بھی کرتا ہے، وہی کامل اتباعِ رسول ﷺ کا حق ادا کرتا ہے۔
اکابر امت اور سنت کی پاسداری
امت کے اکابر علماء، محدثین، فقہاء اور اولیاء نے ہمیشہ سنت کو اپنی زندگی کا محور بنایا۔ ان کے نزدیک کامیابی کا معیار علم کی کثرت نہیں بلکہ سنت کی پیروی تھی۔ حضرت جنید بغدادیؒ فرمایا کرتے تھے کہ تمام راستے بند ہیں، سوائے اس راستے کے جو رسول اللہ ﷺ کے نقشِ قدم کی پیروی میں طے کیا جائے۔
اسی طرح حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، امام ربانی مجدد الف ثانیؒ اور دیگر اکابر نے امت کو بار بار یہی پیغام دیا کہ دین کی اصل روح سنتِ رسول ﷺ سے وابستگی میں ہے۔
سنت اور امت کا مستقبل
امتِ مسلمہ کا روشن مستقبل کسی نئی فکر، نئے نظریے یا نئے نظام میں نہیں بلکہ اسی سنتِ مصطفوی ﷺ میں پوشیدہ ہے جس نے صحراؤں میں رہنے والی ایک منتشر قوم کو دنیا کا امام بنا دیا تھا۔ جب تک امت اپنے اعمال، اخلاق اور معاملات میں سنت کو اختیار کرتی رہی، دنیا اس کی عظمت کی معترف رہی، اور جب سنت سے دوری پیدا ہوئی تو زوال کے آثار نمایاں ہونے لگے۔
اس لیے آج امت کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ سنت کو نئی نسلوں تک محبت، حکمت اور عملی نمونہ کے ساتھ منتقل کیا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اسی چشمۂ ہدایت سے وابستہ رہیں جس سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم وابستہ تھے۔
عصرِ حاضر میں ہماری ذمہ داری
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سنت کو صرف کتابوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی زندگیوں میں زندہ کریں۔ ہمارے گھر سنت کے مطابق ہوں، ہماری تجارت سنت کے مطابق ہو، ہماری تعلیم، تربیت، عبادات اور معاشرت سنت کے سانچے میں ڈھل جائیں۔
والدین اپنے بچوں کو صرف دنیاوی کامیابی کا راستہ نہ دکھائیں بلکہ سنتِ رسول ﷺ سے محبت بھی سکھائیں۔ علماء اور خطباء سنت کی حقیقی روح کو عام کریں اور امت کو یہ احساس دلائیں کہ سنت کوئی اضافی چیز نہیں بلکہ دین کا لازمی حصہ ہے۔
سنتِ رسول ﷺ دراصل اسلام کی روح، ایمان کی جان اور نجات کا راستہ ہے۔ جس قوم نے سنت کو تھام لیا وہ عزت و سربلندی سے ہمکنار ہوئی، اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ ذلت و انتشار کا شکار ہوئی۔
آج اگر ہم اپنی انفرادی زندگی، خاندانی نظام اور اجتماعی معاشرے کو سنوارنا چاہتے ہیں تو ہمیں دوبارہ سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی طرف لوٹنا ہوگا۔ یہی وہ چراغ ہے جو دلوں کے اندھیرے دور کرتا ہے، یہی وہ کشتی ہے جو طوفانوں سے بچاتی ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کی نعمتوں تک پہنچاتا ہے۔
اے اہلِ ایمان! ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے کہ ہم رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کے کتنے دعوے کرتے ہیں، مگر ہماری زندگیوں میں سنت کا حصہ کتنا ہے؟ ہماری زبانیں محبتِ رسول ﷺ کے نعرے بلند کرتی ہیں، لیکن کیا ہمارے معاملات، ہماری معاشرت، ہماری تجارت اور ہماری عبادات بھی سنت کی خوشبو سے معطر ہیں؟ یاد رکھیے! امت کی عزت کا سورج اسی دن دوبارہ طلوع ہوگا جب گھروں میں سنت زندہ ہوگی، بازاروں میں سنت نظر آئے گی، تعلیم میں سنت کا نور ہوگا اور دلوں میں اتباعِ مصطفیٰ ﷺ کی تڑپ پیدا ہوگی۔ آئیے! آج عہد کریں کہ ہم صرف سنت کی فضیلت بیان کرنے والے نہیں بلکہ سنت پر چلنے والے بنیں گے، کیونکہ دنیا و آخرت کی کامیابی، اللہ تعالیٰ کی رضا اور رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کا راستہ اسی درِ مصطفیٰ ﷺ سے ہو کر گزرتا ہے۔
اللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الْمُتَّبِعِينَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ الْكَرِيمِ ﷺ، وَاحْشُرْنَا تَحْتَ لِوَائِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، آمِينَ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ۔