کسی نے کہا، "بازار میں آسانی سے ساری چیزیں ہی دستیاب ہو جاتی ہیں، بس کچھ رقم ادا کریں اور چیزوں کے مالکانہ حقوق آپ کے۔"
جیسے ہی یہ باتیں میرے کانوں میں پڑیں، میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ میں نے اپنی اب تک کی ساری جمع پونجی ایک بیگ میں رکھی اور بازار کی طرف چل دی۔
وہاں دکانوں پر سجی کسی کی چاہت، ٹھیلے پر بکتے کسی کے خواب، تمناؤں کی بھیڑ میں گمشدہ حقیقت، جھریوں بھرے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے جھلکتے ہوئے زندگی کے کچھ تیکھے پھیکے لمحات، اور امنگوں میں الجھی بے بس مرادیں تھیں۔
نشیب و فراز کے راستوں سے گزرتی ہوئی زندگی جب بازار کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے، تو وہاں ساری چیزیں میسر تھیں، سوائے اس ایک پل کے جس میں نہ تو کوئی اداسی تھی، نہ ہی کوئی غم، نہ کسی کی فکر اور نہ ہی دنیا کی کوئی ہوس۔ بس کاغذ کے چند ٹکڑوں سے بنے ناؤ اور جہاز، جو کبھی پانی میں چلا کرتے تو کبھی آسمان کی فضاؤں میں اڑ کر کسی شاہی شخصیت ہونے کا احساس دلایا کرتے تھے۔
میں نے اپنے بیگ میں رکھی ہوئی پونجی کو بغور دیکھا، تو شاید اس کی قیمت اس قدر کم تھی کہ وہ لمحہ تو کیا، اس لمحے کا ایک پل بھی میرے لیے خریدنا ناممکن تھا۔
تبھی مجھے احساس ہوا کہ بچپن وہ نایاب خزانہ ہے جو ایک بار کھو جائے تو دنیا کی تمام دولت مل کر بھی اسے واپس نہیں خرید سکتی۔ اس لیے آج کے بڑوں سے میری یہی گزارش ہے کہ خدارا! بچوں کو ان کا بچپن جی لینے دیں۔ وہ اگر مستی کر رہے ہیں، کھیل رہے ہیں، تو انہیں کھیلنے دیں؛ ان کی معصوم امنگوں کو وقت سے پہلے پختگی کے بوجھ تلے نہ دبائیں۔ بچوں کی تربیت پر ضرور دھیان دیں، مگر مار پیٹ اور سختی سے سختی سے گریز کریں۔
صرف اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ بڑوں سے بدتمیزی نہ کریں اور ان میں اخلاقیات جھلکیں۔ اس کچی عمر میں اسلام نے جن اصولوں کا پابند بنانے کے لیے کہا ہے، بس وہی سکھائیں۔ انہیں نماز اور روزے کی عادت ڈالیں، تاکہ ان کی بنیاد مضبوط ہو۔ انہیں ایک اچھا انسان اور سچا مسلمان بنائیں، مگر ان کے حصے کی خوشیاں اور معصومیت ان سے نہ چھینیں۔
میں حسرت بھری نگاہوں سے اس چمکتے دمکتے بازار کو دیکھنے لگی، جہاں ہر شے پر قیمت کی چٹ لگی تھی، مگر سکونِ قلب اور بچپن کی وہ معصوم مسکراہٹ کسی دکان کے شوکیس میں موجود نہ تھی۔ میں نے ایک گہرا سانس لیا اور نوٹوں سے بھرے اس بیگ کی زپ بند کر دی، جو دنیا کی نظر میں بہت قیمتی تھا، مگر میری نظر میں بالکل بے مایہ ہو چکا تھا۔
یہ کڑوا سچ سیکھ کر واپس لوٹ آئی کہ بازار دنیا کی ہر آسائش تو بیچ سکتا ہے، مگر وہ گزرا ہوا بے فکر وقت اور حقیقی خوشی نہیں بیچ سکتا۔
ازقلم: زا-شیخ