میں نے دیکھا ہے گاؤں کی گلیوں میں اکثر عورتوں کو بے نقاب گھومتے ہوۓ، مجھے ہمیشہ سے یہ چیز کھٹکتی تھی اور میرے ذہن میں یہ سوال گردش کرتا تھا کہ کیا واقعی اسلام میں پردہ اسی طرح ہے؟
کیا نبی کے دور کی عورتوں نے بھی اپنے محلوں اور گلیوں میں ایسا ہی پردہ کیا تھا؟
اکثر یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ اپنا گاؤں ہے، اپنا ہی محلہ ہے، کیا ہوا....
کون سا بازاروں میں بے حجاب گھوم رہے ہیں....
گاؤں کی گلیوں میں بے نقاب گھومتی رہیں جہاں غیر محرموں کا آنا جانا ہو لیکن ہماری ذہنیت یہ ہو کہ فلاں شخص تو بھائی لگتا ہے، فلاں چچا ہے، فلاں بزرگ...وہ تو دادا لگتے ہیں۔
ان سے کیا پردہ؟
لیکن ایک لمحے کیلئے سوچیں،
کیا ہمارے سوچنے سے رشتے بدل جاتے ہیں، کیا ہمارے چاہنے سے پردے کی فرضیت میں کچھ کمی آ جاتی ہے؟
یہ تو ایسا ہی ہوا نا کہ جب مرضی آئی پردہ کیا اور جب مرضی ہوئی اتار کے پھینک دیا۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ﴾
ترجمہ: "اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے اوپر لٹکا لیا کریں۔"
(سورۃ الأحزاب: 59)
غور کیجیئے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف بازار میں پردہ کرو، محلے کی گلیوں میں نہیں، یہ ہر اس جگہ کیلئے حکم ہے جہاں نامحرم موجود ہوں پھر چاہے وہ چار دیواری کے اندر گھر میں ہی کیوں نا ہوں۔
نبی کے زمانے کی عورتیں مدینہ منورہ کی گلیوں میں رہتی تھیں، وہ بھی ان کا اپنا محلہ تھا، اپنی گلی تھی لیکن جب وہ گھر سے باہر نکلتیں تو چادر اوڑھ لیتی تھیں انہوں نے یہ نہیں کہا انصار تو اپنے ہیں پردہ کیسا، اپنے محلے کی گلی ہے، چھوڑو پردہ۔
پردہ کسی علاقے، موسم یا جگہ کے حساب سے فرض نہیں ہوا، وہ ہم پر ہر حال میں فرض ہے جہاں نامحرم ہوں۔
یہ حکم بازار کے لئے الگ اور گھر کے لئے الگ نہیں تھا۔
پردہ اللہ کا حکم ہے معاشرے کا رواج نہیں اگر ہم یہ سوچیں گاؤں ہے تو چھوٹ ہے، یا بزرگ ہیں تو پردہ نہیں، گرمی لگی تو اتار دیا، شادی میں جانا ہوا تو پہن لیا، گاؤں میں ہیں تو چھوڑ دیا، شہر گئے تو اوڑھ لیا
اس کا مطلب یہ ہیکہ ہم اللہ کے حکم کو اپنی سہولت کے مطابق بدل رہے ہیں،
اپنی مرضی کا حجاب اپنی مرضی کا دین
کیا اللہ نے پردہ ہماری مرضی پہ چھوڑا تھا؟
یہ طرز عمل بتاتا ہے کہ ہم نے دین کو اپنی خواہش کے تابع کر لیا ہے جبکہ ایک مومن کی شان یہ ہیکہ وہ اپنی خواہش کو دین کے تابع کرتا ہے نا کہ دین کو اپنی خواہش کے۔
فرض میں کمی نہیں آتی چاہے ہم چاہیں یا نہ چاہیں، فرض وہ ہوتا ہے جو ہر حال میں فرض رہے۔
نماز جیسے گھر میں فرض ہے ویسے ہی سفر میں فرض ہے، اسی طرح پردہ جیسے بازار میں فرض ہے ویسے ہی محلے کی گلیوں میں بھی فرض ہے۔
﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾
ترجمہ: "اور وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے۔"
(سورۃ النور: 31)
پردہ عورت کو قید کرنے کے لئے نہیں بلکہ عورت کی حفاظت کرنے کے لئے ہے، "یہ اللہ کا تحفہ ہے" اسے اپنی مرضی، اپنے گاؤں، یا اپنے رواج کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔
گلیاں اپنی ہوں یا پرائی حکم وہی رہتا ہے،
کیونکہ دین ہماری سہولت پر نہیں، ہم دین کی اطاعت پر معمور ہیں۔
پردے کے متعلق ہمارے معاشرے میں ایک اور چیز دیکھنے کو ملتی ہے کہ اگر ایک عورت بہو ہے تو وہ مکمل پردے میں رہے، اور اگر وہی عورت بیٹی ہو تو یہ سننے کو ملتا ہیکہ "یہ تو بیٹی ہے، اسکا مائیکہ ہے، کیا ہوا.."
مطلب پردے کو بہو اور بیٹی میں بھی تقسیم کر دیا گیا، بہو پر پردہ لازم کر دیا گیا اور بیٹی کو بنا پردے کے گھومنے کی پوری آزادی دے دی گئ،
یہ کہاں کا انصاف ہے؟
یہ کون سی شریعت ہے؟
کیا قرآن نے بہو اور بیٹی کے لئے الگ الگ حکم نازل کیا ہے؟
ہرگز نہیں!!
بلکہ مومن کی تمام عورتوں کو پردے کا حکم دیا گیا ہے۔
یاد رکھیے..!! پردہ عورت کو قید کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اس کی عزت، وقار اور حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ عظیم حکم ہے۔
اس لیے اپنے گاؤں، اپنے محلے، اپنے رسم و رواج یا اپنی سہولت کی خاطر اللہ کے حکم میں کمی بیشی نہ کریں۔
گلیاں اپنی ہوں یا پرائی، حکمِ الٰہی وہی رہتا ہے۔
بنت شہاب✍🏻