*ڈاکٹر بشیر بدر رخصت ہوئے مگر ان کے الفاظ ہمیشہ زندہ رہیں گے*

*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
______________________________

*اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو*
*نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے* 

بقرہ عید کا دن اپنی تمام تر رونقوں کے ساتھ ہمارے درمیان موجود تھا کہیں قربانی کی تیاریاں تھیں کہیں تکبیرات کی صدائیں گونج رہی تھیں اور کہیں لوگ اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ عید کی خوشیاں سمیٹنے میں مصروف تھے ہر شخص سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی اور عید کی مسرتوں میں مگن تھا کہ اچانک سوشل میڈیا پر ایک ایسی دل سوز خبر نظر سے گزری جس نے دل کے کسی کونے میں اداسی کی ایک لہر دوڑا دی۔
یہ خبر اردو ادب کے نامور شاعر جدید اردو غزل کے درخشاں ستارے اور لاکھوں دلوں کی آواز ڈاکٹر بشیر بدر صاحب کی رحلت کی تھی خبر پڑھتے ہی دل ایک لمحے کے لیے ٹھہر سا گیا عجیب بات یہ تھی کہ ہم تو مدتوں سے یہی سمجھتے رہے کہ شاید وہ اس دنیا میں نہیں رہے لیکن جب واقعی ان کے انتقال کی خبر سامنے آئی تو محسوس ہوا کہ جیسے اردو ادب کے آسمان سے ایک روشن ستارہ ٹوٹ گیا ہو۔
ڈاکٹر بشیر بدر صاحب ایک شاعر ہی نہیں تھے بلکہ ایک احساس کا نام تھے۔ ان کے اشعار کتابوں کے صفحات تک ہی محدود نہیں تھے بلکہ لوگوں کی روزمرہ گفتگو محبتوں جدائیوں اور زندگی کے تجربات کا حصہ بن چکے تھے۔ کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ کوئی شعر دل کو چھو گیا زبان پر چڑھ گیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ یہ تو بشیر بدرؔ کا تخلیق کردہ موتی ہے۔
ان کی شاعری میں لفظ کم اور احساس زیادہ بولتے تھے۔ وہ دل کی بات اس انداز سے کہتے تھے کہ ہر شخص کو یوں محسوس ہوتا جیسے یہ شعر اسی کے لیے لکھا گیا ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار نسلوں کے فاصلے مٹا کر ہر عمر کے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتے تھے۔
آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ شاعر اپنے جسم سے نہیں بلکہ اپنے لفظوں سے زندہ رہتے ہیں۔ بشیر بدر بھی اپنی غزلوں اپنے اشعار اور اپنے خوبصورت خیالات کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ جب بھی اردو شاعری کا ذکر ہوگا جب بھی محبت اور احساس کی زبان بولی جائے گی ان کا نام احترام کے ساتھ لیا جاتا رہے گا۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر بشیر بدر صاحب کی کامل مغفرت فرمائے ان کی قبر کو اپنی رحمتوں کا گلزار بنائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔