✍🏻 محمد صائم طاؔلب قریشی
📅 21/02/2025 — جمعۃ المبارک
___________________________________
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله الصلاۃ والسلام علیٰ رسول اللہ
أما بعد!
تمام تعریفیں اس اللّٰہ پاک کے لیے کہ جس نے انسانوں کے لیے اپنے محبوب ﷺ کو "أسوہ حسنہ" بھی بنا کر مبعوث فرمایا اور درود و سلام ہو اس ذات پر کہ جو خاتم النبیین ﷺ ہیں۔
اللّٰہ پاک نے قرآن مجید میں فرمایا:
> "اے ایمان والو! اللّٰہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو"
(پ5 ،النساء،آیت 59)
جن باتوں پر عمل کرنے کا حضور ﷺ نے فرمایا ان پر عمل لازم ہے اور حضور ﷺ کے بعض افعال پر عمل لازم ہے تو بعض افعال پر لوگ اس لیے عمل کرتے کہ یہ ہمارے نبی ﷺ کا فعل ہے اور ہمارے لیے ذریعہ نجات ہے۔
جاننا چاہئے کہ اسلام ایک ایسا دین ہے کے جس نے انسان کو زندگی گزانے کے حوالے سے رہنمائی فرمائی۔
دین کے ہر حکم میں دنیا و آخرت کے بے شمار فوائد ہوتے ہیں جو کہ ہم عام لوگوں کی سمجھ نہیں آتے یا دیر سے آتے ہیں۔
بہر کیف شریعت کے احکام پر عمل کرنا ہم پر لازم ہے چاہے ہمارے سمجھ آۓ کہ نہیں کیونکہ ہم شریعت کے پابند ہیں۔
🌿داڑھی رکھنا شعاںٔرِ اسلام میں سے ہے 🌿
اج کے دور میں لوگ داڑھی منڈوا دیتے ہیں یا بعض نادان رکھتے ہی نہیں۔
داڑھی رکھنا "شعاںٔر اسلام میں سے ہے اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہے"۔
اس کی اہمیت کا اندازہ ہم اس سے لگا سکتے ہیں کہ "خود نبی کریم ﷺ اور تمام انبیاء سابقین نے داڑھی رکھی اور رکھنے کا حکم دیا۔ تقریبآ 70 احادیث میں داڑھی بڑھانے کا حکم آیا ہے۔"
جب اس کی اہمیت معلوم ہوگئی تو اس کے احکام بھی معلوم کرلیتے ہیں تاکہ شریعت پر عمل کرکے نجات حاصل کر سکیں کیونکہ کبھی کبھی ہم لا علمی کی وجہ سے غلطی کر جاتے ہیں۔
وقار الفتاوی میں داڑھی کے متعلق تیرہ فتاوی میں پوچھے گۓ تقریباً 40 سوالات کے جوابات کا خلاصہ پیش خدمت ہے:
🕌 داڑھی:
رخسار اور گلے کے درمیان، نیچے کے جبڑے پر جو بال ہیں وہ داڑھی ہے۔
🕌 داڑھی رکھنے کا حکم:
داڑھی رکھنا واجب ہے۔
🕌 داڑھی کی مقدار:
شرعی مقدار ایک قبضہ یعنی ایک مشت ہے۔
بخاری شریف کے حوالے سے ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ کا یہ فعل نقل کیا ہے کہ وہ داڑھی مٹھی میں پکڑ کر جو اس سے بڑھی ہوتی تھی اسے کاٹ دیتے۔
اور در مختار کے حوالے سے نقل ہے والسنة فيها القبضه
🕌 ایک مٹھی داڑھی رکھنے کا حکم:
ایک مٹھی کے برابر رکھنا سنت مؤکدہ قریب من الواجب۔ محققین کے نزدیک واجب ہے۔
🕌 داڑھی نہ رکھنا:
داڑھی نہ رکھنا یا حد شرعی سے کم رکھنا فسق ہے۔ اور ایسا کرنے والا فاسق ہے۔
🕌 فاسق کا حکم:
فاسق کی عدالت (گواہی) ساقط اور فاسق کی امامت مکرہ تحریمی ہے۔
ایسے شخص کے پیچھے جو نمازیں پڑھی ان کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے اگرچہ کئی سالوں کی ہوں۔
فاسق کا امام بنانا گناہ ہے کیونکہ امام بنانے میں اس کی تعظیم ہے جبکہ شرعاً فاسق کی اہانت واجب ہے۔
تراویح وغیرہ نمازوں کا بھی یہی حکم ہے۔
فاسق کی اذان و اقامت مکرہ ہے۔ جو لوگ ایسے شخص کی اذان، اقامت اور امامت پر راضی وہ بھی گنہگار ہیں۔
🕌 داڑھی منڈوانا صغیرہ گناہ ہے یا کبیرہ گناہ؟
داڑھی منڈوانا صغیرہ گناہ ہے۔ صغیرہ پر اصرار کرنے سے وہ کبیرہ ہوجاتا ہے۔ کبیرہ گناہ کرنے والے کی عدالت ساقط ہو جاتی ہے۔
🕌 اصرار:
کسی عمل کو تین بار بلا توبہ کے کرنا۔
🕌 تھوڑی کے نیچے کے بال:
تھوڑی کے نیچے اور اس کے اطراف (Side) میں ایک مشت داڑھی رکھنے کا حکم ہے۔ مشت سے زیادہ ہوں تو کاٹ سکتا ہے۔
🕌 خط:
رخساروں کے بال اور حلق کے نیچے گلے کے بال — ان کو منڈوا سکتا ہے۔
🕌 بُچی:
وہ بال جو نیچے کے ہونٹ اور تھوڑی کے بیچ میں ہوتے ہیں۔
اس کے طرفین کے بال منڈوانا مکروہ ہے، بدعتِ سئیہ اور خلافِ سنت ہے۔
🕌 داڑھی کس طرح تراشے؟
فتاویٰ شامی کے حوالے سے لکھا ہے کہ آدمی مٹھی میں داڑھی پکڑے اور جتنی زیادہ ہو اسے کاٹ دے۔
ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ کا ایک قول نقل ہے:
"آدمی کی سعادت داڑھی ہلکا کرنے میں ہے۔"
یہ بات مشہور کہ داڑھی کا زیادہ لمبا ہونا بے وقوفی ہے۔
🕌 گلے کے بال کا حکم:
جبڑے کی ہڈی کے نیچے سے گلے کے بال صاف کردینے میں کوئی حرج نہیں۔
🌿 اج کے دور میں لوگ فیشن کی وجہ سے داڑھی منڈوا دیتے ہیں یا بعض نادان رکھتے ہی نہیں تو ان کے لیے فرمایا:
"تمام صحابہ کرام، بزرگان دین، علمائے کرام اور تمام نیک مسلمانوں کا عمل یہی رہا ہے کہ وہ داڑھی کٹوانے اور منڈوانے کو گناہ سمجھتے ہیں۔"
مزید فرمایا:
"جن لوگوں کے نزدیک داڑھی رکھنا واجب ہے ان کے نزدیک منڈوانا حرام ہے۔ اور ترکِ واجب کبیرہ گناہ ہے اور اس پر عذاب بالنار ہے۔"
اور جن کے نزدیک سنتِ مؤکدہ ہے، ان کے نزدیک بھی گناہ ہے۔
سنت کے ترک کی وعیدیں بھی حدیث شریف میں ہیں —
> من رغب عن سنتی فلیس منی
التوضیح التلویح کے حوالے سے لکھا ہے:
"ترک سنت پر جو عتاب ہے وہ نبی کریم ﷺ کی شفاعت سے محرومی ہے۔"
ہماری دعاؤں میں شامل ایک سوال حضور ﷺ کی شفاعت کا ملنا بھی ہوتا ہے۔
جب حضور کی شفاعت نہ ملی تو ہمارا کیا بنے گا؟ کہاں جائیں گے؟
🕌 داڑھی رکھ کر منڈوانا:
بعض لوگ شرعی مجبوری کے بغیر کسی کے کہنے پر یا شادی کے موقع پر اپنی داڑھی منڈوا دیتے ہیں۔
ان کے بارے میں فرمایا:
"کسی کے کہنے پر یا شادی کے لیے داڑھی کا منڈوانا حرام ہے۔"
مزید فرمایا:
"ایک مرتبہ داڑھی رکھ لینے کے بعد کسی دنیاوی مقصد کے لیے داڑھی منڈوانا یا حد شرعی سے کم کردینا سخت حرام اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے کے مترادف ہے۔"
🕌 والدین کی ذمہ داری:
فرمایا:
والدین پر لازم ہے کہ اپنے بیٹوں کو داڑھی منڈوانے سے منع کریں اور قرآن کے حکم امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر عمل کریں۔
اپنی اولاد کو سختی سے سنت پر عمل کرنے کا حکم دیں۔
جب ہم یہ سن چکے کہ داڑھی منڈوانا گناہ ہے، اس کے باوجود اگر کوئی اس کو گناہ نہ سمجھے تو ایسے لوگوں کے لیے فرمایا:
"جو گناہ کو گناہ نہ سمجھے وہ گمراہ ہے"
یا کوئی اس طرح کہے کہ "اسلام داڑھی میں نہیں رکھا" — یہ انتہائی جہالت ہے۔
🤲 اللّٰہ پاک سے دعا ہے:
وہ ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے اور اپنے تمام کاموں کو شریعت کے مطابق کرنے اور خلافِ شرع کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
📖 (وقار الفتاوی جلد اول، صفحہ 138 تا 148، ناشر: بزمِ وقارالدین)
__________________________________
✍🏻 تحریر: محمد صائم طاؔلب قریشی
📘 Saim Qureshi Official