آج کے معاشرے میں ایمان کی ضرورت


انسان کی زندگی خوشیوں، مشکلات، کامیابیوں اور ناکامیوں کا مجموعہ ہے۔ یہ سفر اس وقت بہتر اور بامقصد بن جاتا ہے جب دل میں ایمان کی روشنی موجود ہو۔ ایمان وہ قوت ہے جو انسان کو اللہ پر بھروسہ، نیکی کی طرف رغبت، اور برائی سے بچنے کی توفیق عطا کرتی ہے۔ آج کے جدید اور تیز رفتار معاشرے میں جہاں مادی وسائل بڑھ گئے ہیں، وہاں اخلاقی و روحانی کمزوری بھی بڑھتی جارہی ہے۔ ایسے حالات میں ایمان کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

ایمان انسان کے کردار کو سنوارتا ہے۔ یہ سچائی، دیانت، قربانی اور محبت کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں بے ایمانی، جھوٹ، بددیانتی اور لالچ عام ہوتا جا رہا ہے۔ ان برائیوں کی جڑ ایمان کی کمزوری ہے۔ اگر دل اللہ کے خوف اور جواب دہی کے یقین سے خالی ہو جائے تو انسان ہر غلط کام کو معمولی سمجھنے لگتا ہے۔ ایمان ہی انسان کو یاد دلاتا ہے کہ ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔

ایمان نہ صرف فرد کی زندگی بلکہ پورے معاشرے کے لیے سکون اور انصاف کی ضمانت ہے۔ ایک مومن جب لین دین میں دیانت دار ہوگا تو دوسروں کے حقوق محفوظ رہیں گے۔ جب حاکم ایمان دار ہوگا تو رعایا ظلم سے بچی رہے گی۔ جب استاد ایمان سے پڑھائے گا تو طلبہ میں کردار سازی ہوگی۔ گویا ایمان معاشرتی ڈھانچے کی بنیاد ہے۔

آج ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ دنیاوی ترقی کے باوجود دلوں میں بے چینی اور گھروں میں بے سکونی کیوں ہے؟ اس کی اصل وجہ ایمان کی کمی ہے۔ مال و دولت کی کثرت، ٹیکنالوجی کی ترقی اور وسائل کی فراوانی انسان کو سکون نہیں دے سکتے جب تک ایمان کی روشنی دل میں نہ ہو۔

لہٰذا آج کے معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت ایمان کی ہے۔ اگر ہم اپنے اعمال کو ایمان کے تابع کر لیں، اپنی سوچ کو قرآن و سنت کی روشنی سے سنوار لیں، تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی سنور جائے گی بلکہ پورا معاشرہ عدل، محبت اور امن کا گہوارہ بن جائے گا۔