تمہید

محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ اسلام میں اس مہینے کو نہایت عظمت، احترام اور فضیلت حاصل ہے۔ قرآنِ کریم نے جن چار مہینوں کو "اشہرِ حرم" قرار دیا ہے، محرم ان میں سے ایک ہے۔ اس مہینے کا پیغام صرف غم یا خوشی تک محدود نہیں بلکہ ایمان، تقویٰ، صبر، قربانی، عدل، اخلاص، توبہ، اتحادِ امت اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔

بدقسمتی سے آج کے جدید دور میں محرم کے اصل پیغام کو مختلف رسومات، فرقہ واریت، سوشل میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ معلومات اور جذباتی نعروں کے درمیان کہیں کھو دیا گیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں محرم کے حقیقی اسلامی تصور کو سمجھیں۔

---

محرم کی فضیلت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔"

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ محرم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ایک عظیم مہینہ ہے۔ اس مہینے میں عبادت، تلاوتِ قرآن، ذکر، دعا، صدقہ اور نیک اعمال کی خصوصی اہمیت ہے۔

---

یومِ عاشوراء کی تاریخی اہمیت

دس محرم، یعنی یومِ عاشوراء، اسلام کی تاریخ کا عظیم دن ہے۔

اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات عطا فرمائی۔ اس شکرانے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا۔

جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے یہ واقعہ معلوم فرمایا اور ارشاد فرمایا:

"ہم موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ حق دار ہیں۔"

چنانچہ آپ ﷺ نے خود بھی عاشوراء کا روزہ رکھا اور صحابۂ کرامؓ کو بھی رکھنے کی ترغیب دی۔

---

حضرت امام حسینؓ کی عظیم قربانی

محرم کا ذکر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔

سن 61 ہجری میں کربلا کے میدان میں حضرت امام حسینؓ نے ظلم، جبر، آمریت اور باطل کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق، انصاف اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جان، اپنے اہلِ بیت اور اپنے جانثار ساتھیوں کی قربانی پیش کی۔

یہ قربانی اقتدار کے لیے نہیں بلکہ اسلام کی حفاظت، عدل کے قیام اور امت کی اصلاح کے لیے تھی۔

حضرت امام حسینؓ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ مسلمان کبھی ظلم کے سامنے نہیں جھکتا، چاہے اس کے لیے کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔

---

جدید دور میں محرم کا پیغام

آج دنیا بدل چکی ہے۔

سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت (AI)، انٹرنیٹ، ڈیجیٹل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی نے انسان کی زندگی کو آسان بنایا ہے، مگر ساتھ ہی بہت سے فکری اور اخلاقی چیلنجز بھی پیدا کیے ہیں۔

ایسے دور میں محرم کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

1۔ سچائی کی حفاظت

آج جھوٹی خبریں چند لمحوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہیں۔

مسلمان کا فرض ہے کہ کسی بھی خبر کو تحقیق کے بغیر آگے نہ بڑھائے۔

---

2۔ سوشل میڈیا پر اخلاق

محرم کے دوران نفرت انگیز پوسٹس، گالم گلوچ، فرقہ وارانہ بحث اور اشتعال انگیز ویڈیوز شیئر کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

اسلام ہمیں حسنِ اخلاق، احترام اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔

---

3۔ اتحادِ امت

آج امتِ مسلمہ مختلف اختلافات میں بٹی ہوئی ہے۔

محرم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔

اگر امت متحد ہوگی تو دنیا میں دوبارہ عزت حاصل کرے گی۔

---

4۔ نوجوانوں کی ذمہ داری

آج کا نوجوان سوشل میڈیا پر گھنٹوں گزارتا ہے۔

اگر یہی وقت قرآن، حدیث، علم، تحقیق اور امت کی خدمت میں لگایا جائے تو پوری قوم بدل سکتی ہے۔

حضرت امام حسینؓ کی زندگی نوجوانوں کے لیے بہترین نمونہ ہے۔

---

5۔ خواتین کا کردار

کربلا کے بعد حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے جس صبر، حکمت اور جرات کے ساتھ حق کا پیغام دنیا تک پہنچایا، وہ خواتین کے لیے عظیم مثال ہے۔

انہوں نے ثابت کیا کہ علم، صبر اور حق گوئی عورت کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

---

محرم میں مسنون اعمال

- نو اور دس محرم یا دس اور گیارہ محرم کے روزے رکھنا۔
- قرآن کریم کی تلاوت۔
- کثرت سے استغفار۔
- درود شریف پڑھنا۔
- صدقہ و خیرات کرنا۔
- صلہ رحمی کرنا۔
- یتیموں اور محتاجوں کی مدد کرنا۔
- دعا اور ذکر میں مشغول رہنا۔
- اپنے نفس کا محاسبہ کرنا۔

---

جن کاموں سے بچنا چاہیے

اسلام ہمیں ہر ایسے عمل سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے جس کی بنیاد شریعت میں نہ ہو یا جو مسلمانوں کے درمیان نفرت اور فساد پیدا کرے۔

لہٰذا محرم میں:

- فرقہ وارانہ نفرت سے بچیں۔
- جھوٹی روایات بیان نہ کریں۔
- بغیر تحقیق کے سوشل میڈیا پوسٹس شیئر نہ کریں۔
- گالی، سبّ و شتم اور نفرت انگیز گفتگو سے اجتناب کریں۔
- ہر ایسے عمل سے بچیں جو شریعت کی تعلیمات کے خلاف ہو۔

---

نوجوان نسل کے لیے چند اہم پیغامات

- نماز کی پابندی کریں۔
- قرآن کو سمجھ کر پڑھیں۔
- سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریں۔
- والدین کی خدمت کریں۔
- علم حاصل کریں۔
- سچ بولیں۔
- انصاف پر قائم رہیں۔
- کمزوروں کی مدد کریں۔
- اپنے کردار سے اسلام کی نمائندگی کریں۔

---

محرم اور امت کا مستقبل

اگر مسلمان محرم کے حقیقی پیغام کو سمجھ لیں تو امت میں بہت سی برائیاں ختم ہوسکتی ہیں۔

کربلا ہمیں صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں سناتی بلکہ یہ ہر زمانے کے انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ ایمان، عدل، صبر، قربانی اور اللہ پر بھروسہ کبھی شکست نہیں کھاتے۔

---

اختتامیہ

محرم الحرام ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ مکمل طرزِ زندگی ہے۔ حضرت امام حسینؓ کی قربانی ہمیں حق پر ثابت قدم رہنے، ظلم کی مخالفت کرنے، اتحادِ امت کو مضبوط بنانے، اخلاق کو سنوارنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کا درس دیتی ہے۔

آئیے اس محرم ہم عہد کریں کہ قرآن و سنت کو اپنی زندگی کا مرکز بنائیں گے، فرقہ واریت سے دور رہیں گے، سچائی اور عدل کا ساتھ دیں گے، اور اپنی ذات، اپنے معاشرے اور پوری امت کی اصلاح کے لیے عملی کوشش کریں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں محرم الحرام کے حقیقی پیغام کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


تحریر: شیخ مصطفی الرحمٰن