*عظمتِ صحابیت اور مقامِ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ*
✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
15 محرم الحرام 1448ھ
___________________________________
الحمد للہ دینِ اسلام ہمیں جن پاکیزہ اور مستند ذرائع سے ملا ہے ان میں سب سے عظیم اور قابلِ اعتماد جماعت حضراتِ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ہے۔ یہی وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جنہوں نے بارگاہِ نبوت سے ایمان قرآن حدیث اور تعلیماتِ اسلام کو براہِ راست حاصل کیا پھر اپنی جانوں کی قربانی بے مثال اخلاص اور غیر معمولی امانت و دیانت کے ساتھ اسے آنے والی امت تک پہنچایا۔ اس لیے صحابۂ کرام کا مقام تاریخی شخصیات کا ہی نہیں بلکہ وہ دین کے امین شریعت کے محافظ اور امت کے لیے مینارۂ ہدایت ہیں۔ ان کی عظمت عدالت اور فضیلت پر ایمان رکھنا اہلِ سنت والجماعت کے بنیادی عقائد میں سے ہے اور ان کے بارے میں زبان و قلم کو ادب و احتیاط کا پابند رکھنا ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور امت کے درمیان کی سب سے مضبوط کڑی اور واسطہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں اور ظاہر ہے کہ اس واسطہ کو درمیان سے ہٹا دینے یا غیر معتبر کر دینے کے بعد امت کے پاس کچھ بھی نہیں بچتا نہ قرآن نہ حدیث نہ ہی سیرت رسول اور تعلیمات اسلام ۔
یہ مقدس جماعت صحبت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لئے اللہ ربّ العزت کی طرف سے منتخب کی گئی تھی وہ دنیا کے عام انسانوں کی طرح نہیں تھے اسی لئے قرآن وحدیث میں ان کو خاص مقام اور امتیاز عطا کیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ خصوصی رعایت کا حکم دیا ہے کیونکہ خود رب ذو الجلال نے صحابہ کی وکالت کرتے ہوئے اپنے محبوب پیغمبر کو ان کی رعایت کا حکم دیا تھا۔ اس کے ساتھ قرآن کے مطالعہ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اللہ ربّ العزت نے متعدد مقامات پر جہاں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا تذکرہ کیا ہے وہیں نہایت عظمت و فضیلت کے ساتھ صحابہ کرام کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لئے اگر کوئی بشارت ہے تو صحابہ کرام بھی اس بشارت میں شریک ہیں جس طرح آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیروی کرنے والوں سے اللہ ربّ العزت نے اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے اس طرح صحابہ کی پیروی کرنے والوں سے اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا ہے اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر سکینہ نازل فرمایا تو صحابہ کو بھی اس میں شامل فرمالیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے محبت کرنے اور ان کی برائی و بدگوئی سے بچنے کا تاکیدی حکم دیا ہے اور اس میں کوئی تخصیص نہیں فرمائی۔ اس جماعت صحابہ میں سیدنا حضرت امیر معاویہ بھی ہیں ۔ جو قرابت نسبت علم و عمل فقہ و اجتہاد علم و متانت عقل و فراست اور شجاعت کی وجہ سے اکابر صحابہ میں سے ہیں۔ اس لئے ان سے محبت کرنا اور ان کی طرف سے بدظنی اور بدگوئی سے بچنا بھی ہر مسلمان کے لئے سے ضروری ہے۔
صحابہ کرام کے خلاف دور اول سے ہی بد گمانیوں اور بد زبانیوں کا بازار حاسدین کی طرف سے گرم رہا ہے اور یہ فتنہ ہر دور میں علم و تحقیق کے نام پر صرف تاریخ کے سہارے دینی فضا کو مسموم کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ بعض صحابہ کے مریضوں کا متعدی وائرس کبھی کبھی جب صحابہ کا دم بھرنے والوں کو بھی متاثر کر دیتا ہے اور وہ جاہ پسندی دولت اندوزی اور شہرت طلبی کی ہوس میں یا نسبی تعصب اور خاندانی عناد کی بھراس نکالنے کے لئے چند صحابہ کو مطعون کرنے لگتے ہیں ۔ اور ان طاعنین کا نشانہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی ضرور بنتی ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ حب علی رضی اللہ عنہ واہل بیت کی تکمیل بغض معاویہ رضی اللہ عنہ کے بغیر ہوہی نہیں سکتی۔
اہلِ سنت والجماعت کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابۂ کرام عادل ثقہ اور قابلِ احترام ہیں۔ ان کے باہمی اختلافات کو موضوعِ بحث بنا کر ان پر زبان درازی کرنا یا ان کے بارے میں بدگمانی پیدا کرنا نہ صرف قرآن و سنت کے مزاج کے خلاف ہے بلکہ امت کے اتحاد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم ان تمام مقدس ہستیوں کا ادب کریں ان کے لیے دعائے مغفرت کریں اور ان کے بارے میں ہمیشہ خیر ہی کا گمان رکھیں۔
خصوصاً سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کتابتِ وحی کی سعادت اور اسلام کی عظیم خدمات کا شرف حاصل ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی بصیرت حکمت تدبر اور حسنِ انتظام کے ذریعے امت کی گراں قدر خدمت انجام دی۔ اس لیے ان کی ذاتِ گرامی کو تنقید کا نشانہ بنانا درحقیقت صحابیت کے عظیم منصب کو مشکوک بنانے کی کوشش ہے حالانکہ اہلِ ایمان کا شیوہ یہ ہے کہ وہ تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا احترام کرتے ہیں۔ ان کی فضیلت کا اعتراف کرتے ہیں اور ان کے بارے میں اپنی زبان کو ہر قسم کی گستاخی اور بے ادبی سے محفوظ رکھتے ہیں۔
اے اللہ ربّ العزت ہمارے دلوں کو صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سچی محبت سے بھر دے ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما ان کی شان میں گستاخی اور بدگمانی سے ہماری حفاظت فرما اور ہمیں ایمان و سنت پر ثابت قدم رکھتے ہوئے خاتمہ بالخیر نصیب فرما آمین یا ربّ العالمین۔