*محبتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم جان مال اور اولاد سے بڑھ کر*
✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
________________________________
الحمد للہ اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب بندوں کے دلوں کو جن عظیم نعمتوں سے مالا مال فرمایا ان میں سب سے بڑی نعمت محبتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہے۔ یہی وہ لازوال دولت ہے جس نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو دنیا کی تمام محبتوں سے بے نیاز کر دیا تھا۔ ان کے نزدیک نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس اپنی جان مال اولاد والدین بلکہ ہر محبوب چیز سے بڑھ کر تھی۔ چنانچہ انہوں نے اپنی عملی زندگی سے عشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم وفاداری اور جانثاری کی ایسی روشن مثالیں قائم کیں کہ رہتی دنیا تک ان کی نظیر پیش کرنا ممکن نہیں۔
حضور اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم کائنات کی وہ عظیم ہستی ہیں جن کے ہمدموں اور دوستوں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے سب سے زیادہ اور ہر چیز سے بڑھ کر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے محبت کی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے محبت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وہ مثال پیش کی ہے جس کی نظیر لانے سے تمام مخلوقات عاجز و درماندہ ہیں۔ ہر ایک صحابی رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہر حال میں اور زندگی کے نشیب و فراز میں رضائے رسول کو بوجہ حب رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سب سے مقدم رکھا، اس لیے وہ ربانی اور ابدی ایوارڈ رضی اللہ عنہم ورضو عنہ سے نوازے گئے۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب رحمتہ اللہ علیہ حکایات صحابہ میں لکھتے ہیں کہ محبت ایک کیفیت ہے جو الفاظ و عبارات سے بالاتر ہے۔ محبت ہی ایک ایسی چیز ہے جو دل میں بس جانے کے بعد محبوب کو ہر چیز پر غالب کر دیتی ہے۔ نہ اس کے سامنے ننگ و ناموس کوئی چیز ہے، نہ عزت و شرافت کوئی شے ہے۔ حضرات صحابہ کرام کو یہ محبت حاصل تھی جس کی وجہ سے نہ جان کی پرواہ تھی نہ زندگی کی تمنا نہ مال کا خیال تھا نہ تکلیف کا خوف اور نہ موت سے ڈر۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو حضور اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کتنی محبت تھی؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ خدائے پاک کی قسم حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے نزدیک اپنے مالوں سے اور اپنی اولادوں سے اور اپنی ماؤں سے اور سخت پیاس کی حالت میں ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب تھے۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے
لا يؤ من احدكم حتى اكون احب اليه من والده وولده والناس اجمعين ۔ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کو اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔
حق تعالیٰ شانہ اپنے لطف سے اور اپنے محبوب کے وسیلہ سے اپنی اور اپنے پاک رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی محبت ہم سب کو نصیب فرمائیں۔ آمین یارب العالمین۔