تاریخ انسانی میں جب بھی تہذیب و تمدن کی بات آتی ہے، اس وقت انسانوں کے سامنے ایک مسئلہ بہت زیادہ گردش کرتا ہے، جس کے بارے میں سب اپنا اپنا حصہ ڈال کر خود کو انسانیت کا پیشوا اور خیرخواہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جن کے متوازن حل اور بہترین مشورہ جات انسانیت کو ترقی کی راہ دکھاتے ہیں۔ بالعکس ان کے غلط مشورہ جات اور نامناسب حل سے انسانی معاشرہ نہایت ہی پریشانی اور تلخ نتائج سے گزرتا ہے؛ جس کی بھر پائی صدیوں تک معاشرۂ انسانیت کو کرنی پڑتی ہے۔۔
   اسی طرح معاشرۂ انسانی کا سب سے اہم اور دلچسپ مسئلہ صنف نازک ہے، ہاں! وہی صنف نازک جو انسانی تاریخ کی کتاب کا ایک اہم باب ہے، جس کے بارے تاریخ کے ہر دور میں دنیا بھر کے حکماء، عقلاء، اور بڑے بڑے ماہرین پریشان و سرگرداں رہے 
مغربی تہذیب کا پس منظر 
جب بات مغربی تہذیب کی ہو ، تو ان کے یہاں مسئلۂ صنف نازک بڑا ہی کھینچ تان کا شکار ہے، گوکہ وہ مسئلۂ نسواں پر الگ الگ تجربات کرتے ہیں۔  
جس کے نتیجہ میں” کبھی عرش پر کبھی فرش پر “ جیسی حالت ہوجاتی ہے ، انہیں تجربات کے برے نتائج کو اخلاقی زبان میں افراط و تفریط کہتے ہیں۔ 

زیر نظر چند سطروں میں مغربی تہذیب کا پس منظر پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں، کیونکہ ہر تہذیب اپنے تاریخ کے ساتھ ہی جانی جاتی ہے۔ 

:— تاریخ اقوام قدیمہ پر جب بھی نظر ڈالی جائے تو یونان و یورپ اور روم کی تاریخ پیش نظر آتی ہے۔ 
 یونانی قوم :-

  یونانی قوم نے ابتدائی دور میں اخلاقی نظریات، قانونی اور معاشرتی حقوق سے عورت کو نکال دیا، کہ یہ بہت گری ہوئی شئی ہے اور انسانوں کے لیے مصائب کا باعث ہے، ان کی نظر میں صنف نازک ادنیٰ درجہ کی کم حیثیت مخلوق تھی۔ لیکن جب یونانی قوم نے ترقی کی اس وقت تہذیب کے پیشواؤں نے اس طرز میں ترمیم کی۔ عورت کے دائرۂ حیات کو گھر تک محدود کیا اور اسے عزت بخشنے کے لیے پردے کو مروج کیا، عورتوں کے لیے بذریعہ نکاح ایک مرد کے ساتھ وابستہ رہنا شرافت اور عزت کے معنی میں تھا ،عورتوں کی اخلاقی تربیت کی جاتی اور ان میں عفت اور عصمت کو محترم جانا جاتا تھا،لیکن جہاں عورتوں کی عصمت و پاکیزگی اور اخلاقی معیار کی بات کی جاتی وہاں مرد مستثنیٰ ہوتے، اُن سے نا ہی کسی اخلاقی معیار جس مطالبہ ہوتا اور نا ہی پاکیزگی اور عصمت کی توقع کی جاتی؛ حتى کہ بیسوا (طوائف)طبقہ سے تعلق بھی معیوب نا سمجھا جاتا۔ یہ یونانی قوم کے لیے ایک چور دروازہ ثابت ہوا ؛ اور یہی ان کے زوال کا ذریعہ بنا۔ 
  حد تو تب ہوئی جب معلمینِ اخلاق نے معیارِ اخلاق کو اتنا بدل دیا کہ انہوں نے زنا اور فحش کام میں کوئی قباحت اور قابلِ ملامت شئی نہ پائی، 
پھر انحطاط کے سمندر میں فاحشہ دیوداسیاں بن گئیں قحبہ گری کو مذہبی تقدس حاصل ہو گیا اور قحبہ خانہ عبادت خانہ میں تبدیل ہوگیا۔ 
حال یوں ہوا کہ مسئلہ صنف نازک کو حل کرنے والے ، حقوق نسواں کے علمبردار اور صنف نازک کے نام نہاد محافظ فلاسفہ، شعراء ، اہل ادب ، غرض تمام ہی معلمینِ اخلاق اسی انحطاط کے سمندر میں غرق ہونے لگے۔ 
تاریخ یونان اس بات کی شاہد ہے کہ اس کے بعد یونانی قوم کو زندگی کا دوسرا دور نصیب نہیں ہوا 
 رومی قوم :-
 یونانی قوم کے عروج و زوال ،کھینچ تان، افراط تفریط کو دیکھنے کے بعد تاریخ کے صفحات شہرِ روم کی طرف کھلتے ہیں ، کیونکہ یونان کے بعد روم ہی وہ قوم ہے جس کے عروج کو دنیا نے یاد رکھا۔ 
  مگر مسئلہ صنف نازک میں یہاں بھی وہی کشمکش اور کھینچ تان کا ماحول نظر میں آیا، تاریخ کے صفحات کی ورق گردانی کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رومی قوم کے پیشوا حضرات نے عورت کو پردے میں تو نا رکھا، مگر ان میں خاندانی نظام کو قیام کیا، اور ان کو عصمت اور عفت کی شئی سمجھا، اہل روم نے صنف نازک اخلاق کا بلند معیار عطا کیا؛ مگر یہاں بھی مردوں کے لیے طبقۂ بیسوا سے تعلق رکھنا غیر اخلاقی بات نہ تھی۔ 
  ساتھ ہی تہذیب وتمدن کی ترقی کے ساتھ اہل روم کے نظریات عورتوں کے ساتھ مختلف ہونے لگے، نتیجۃً خاندانی نظام کی بربادی سامنے آنے لگی ‌‌؛ آہستہ آہستہ نکاح و طلاق کے قوانین کو ختم کر دیا گیا۔ جہاں معلمینِ اخلاق نے رشتۂ ازدواج اور خاندانی نظام کی وجہ سے عورت کو عزت دی۔ وہیں آزادئ نسواں کے حوالے دے کر عورت اور مرد کے غیر نکاحی تعلق کو معیوب سمجھنے کے خیالات کو ذہنوں سے نکالا۔ 
  ستم یہ کہ اخلاق و معاشرت کے ترجمان حضرات نے زنا کو ایک معمولی شئی سمجھنا شروع کردیا، ظاہر ہے جب اخلاقیات اور معاشرت کے بند اتنے ڈھیلے ہو گئے تو پھر روم بھی یونان کی طرح انحطاط و عریانیت کے طوفان کا شکار ہوا ۔ فحش تصاویر کو گھروں کی زینت بنایا جانے لگا، طوائف خانے اور قحبہ گری کو معزز سمجھا جانے لگا۔ 
  الغرض جس قوم پر شہوانیت و عریانیت اس قدر غالب آجائے تو پھر اس کا قصرِ عظمت کیسے پیوند خاک نا ہو۔ 
پھر یہی ہوا کہ تحفظ نسواں کے نام نہاد امین زمیں بوس ہو گئے. اور کبھی نہ اٹھے 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں (جاری)