دنیا دارِ فانی ہے اور یہاں کی ہر شے کو زوال ہے۔ ہمیشگی کی جگہ تو صرف اور صرف آخرت ہے۔ یہ دنیا تو ایک ذریعہ اور سبب ہے تاکہ ہم یہاں رہ کر اپنی آخرت کو سنواریں اور کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی کو مزین کریں۔ یہ رشتے، ناطے، تعلقات اور معاشرت— ساری چیزیں اسی دنیا میں رہ جانی ہیں۔ ہاں، ان سے ملنے والے فائدے یا نقصانات کا صلہ دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی ملنے والا ہے۔ اس صلہ و جزا کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کا سلوک دوسروں کے ساتھ کیسا رہا اور آپ کی نیت کیسی تھی۔
         صلہ رحمی کے متعلق حدیثِ قدسی میں آتا ہے کہ رحم (رشتہ داری) عرشِ الٰہی سے لٹکی ہوئی ہے اور کہتی ہے: "جس نے مجھے جوڑا، اللہ اسے جوڑے اور جس نے مجھے توڑا، اللہ اسے توڑے" (صحیح بخاری و مسلم)۔
        مگر آج ہمارا المیہ بالکل مختلف ہے۔ معمولی نوعیت کے تنازعات پر رشتے ختم کر دینا، تعلقات خراب کر لینا اور بات چیت بند کر دینا اب کوئی بڑی بات نہیں رہی۔
       جہاں تک ہماری خودداری کا سوال ہے، تو وہ اب صرف برائے نام رہ گئی ہے۔ دراصل ہم خودداری اور انا پرستی کے فرق کو بھلا چکے ہیں۔ خودداری یہ ہے کہ ہم اپنی عزتِ نفس پر سمجھوتہ نہ کریں، لیکن دوسروں کو بھی برابر کی عزت دیں۔ جبکہ انا پرستی یہ ہے کہ انسان اپنی غلطی ماننے کو تیار نہ ہو اور اپنے سامنے سب کو حقیر سمجھے۔ آسان لفظوں میں، خودداری ہمیں جھکنے سے روکتی ہے جہاں اصولوں کا معاملہ ہو، مگر انا ہمیں وہاں بھی جھکنے نہیں دیتی جہاں رشتوں کو بچانا ضروری ہو۔ آج ہماری خودداری، عزتِ نفس نہیں بلکہ ہماری "انا" بن چکی ہے، اور اسی انا نے نہ صرف رشتوں کو، بلکہ ان کی حرمت کو بھی پامال کر رکھا ہے۔
رشتوں کی قدر کیجیے، خواہ وہ خون کے ہوں یا مروت اور تعلقات سے بنے ہوں۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور آخر میں ہمارے ہاتھ صرف پچھتاوے ہی لگتے ہیں۔   رشتے اس لیے مت نبھائیں کہ سامنے والے کا سلوک آپ    کے ساتھ اچھا ہے، بلکہ اس لیے نبھائیں کہ یہ اللہ کا حکم ہے، اور اس کے حکم کے آگے کسی کا حکم نہیں چلتا— خواہ وہ آپ کے اپنے نفس کا ہو یا شیطان کا۔
حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ: "صدقہ کرنے سے مال میں کمی نہیں ہوتی، اور جو بندہ اللہ کی رضا کے لیے عاجزی (انکساری) اختیار کرتا ہے، اللہ اس کا مرتبہ بلند فرما دیتا ہے" (صحیح مسلم)۔

     "روایات کا مفہوم ہے کہ اگر اللہ کی رضا کے لیے جھک جانے یا معاف کر دینے سے تمہاری عزت میں کمی آ جائے، تو قیامت کے دن وہ عزت مجھ سے لے لینا (یعنی رسول اللہ ﷺ نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ معاف کرنے سے عزت کم نہیں ہوتی)۔" 

      آئیے! آج ہی سے اپنے دلوں کو ٹٹولیں اور اس سے قبل کہ وقت رخصت ہو جائے، اپنی انا کی قربانی دے کر بکھرے ہوئے رشتوں کو سمیٹ لیں۔ یاد رکھیے، رشتوں کو جوڑنے کے لیے جھک جانا کمزوری نہیں، بلکہ ظرف اور اعلیٰ کردار کی نشانی ہے۔ اللہ پاک ہمارے دلوں سے حسد، بغض اور انا پرستی کا خاتمہ فرمائے، ہمیں ایک دوسرے کی خطاؤں کو درگزر کرنے کی توفیق دے، اور ہمارے دلوں میں رشتوں کی وہی حرمت اور مروت پیدا فرما دے جو اس کے رسول ﷺ کو پسند ہے۔ آمین یا رب العالمین۔
از قلم: زا- شیخ