*اسلام کی حقیقت اور اس کا آفاقی پیغام*

✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
________________________________

ہم سب خود کو مسلمان کہتے ہیں اسلام پر فخر بھی کرتے ہیں اور ایمان کا دعویٰ بھی رکھتے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ لفظ اسلام اور ایمان کے اصل معنی کیا ہیں؟ مسلم اور مؤمن کسے کہتے ہیں؟ اور یہ عظیم دین کب سے انسانیت کی رہنمائی کر رہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ان سوالات کے جوابات ہی اسلام کی اصل روح اور اس کے پیغام کی ابدی تعلیمات کو سمجھنے کی کنجی ہیں۔
مسلمان جس مذہب پر یقین رکھتے ہیں اس کے دو نام ہیں اسلام اور ایمان اسی لحاظ سے مسلمانوں کے بھی دو نام ہیں مسلم اور مؤمن اسلام کے معنی اپنے آپ کو حوالہ کر دینے کے ہیں یہ عربی گرامر کے لحاظ سے سلم اور سلام سے ماخوذ ہے جس کے معنی صلح سلامتی اور خود حوالگی کے ہیں اسی سے مسلم ہے یعنی ایسا شخص جو صلح کو پسند کرنے والا اور اپنے آپ کو خدا کے حوالے کر دینے والا ہو ایمان امن کے لفظ سے ماخوذ ہے امن کے معنی ہیں دوسرے کو امن دینا یقین کرنا اسی سے مؤمن ہے مومن کے معنی ہوئے امن دینے والا یقین کرنے والا۔
غور کیجئے تو اسلام اور ایمان ان دونوں میں امن سلامتی صلح اور خدا کے احکام کے سامنے جھک جانے کے معنی پائے جاتے ہی یہی اسلام کی تمام تعلیمات کا خلاصہ ہے قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ اسلام کی ابتداء پہلے پیغمبر حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی پہلے انسان پہلے مسلمان بھی تھے تاریخ کے مختلف ادوار میں جتنے پیغمبر گزرے ہیں وہ سب اپنے اپنے زمانے میں اسلام کی دعوت دینے والے تھے اور جن لوگوں نے ان کی دعوت قبول کی وہ سب مسلمان تھے کیوں کہ مسلمانوں میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو خدا کے احکام کے سامنے سر جھکا دیں ایسا نہیں ہے کہ اسلام کی ابتدا محمد رسول اللہ اللہ سے ہوئی ہے اسی لئے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لئے اپنے نام کی نسبت سے کوئی نام منتخب نہیں فرمایا اور اپنے ماننے والوں کو محمدی یا محمد ن نہیں کہا؟ بلکہ انھیں مسلم اور مؤمن کا نام دیا گیا جن کو ہمارے ملک ہندوستان میں عام طور پر مسلمان کہا جاتا ہے۔
اگر انسان کائنات کے نظام پر غور کرے تو اسے ہر طرف ایک حیرت انگیز نظم و ضبط دکھائی دیتا ہے۔ سورج مقررہ وقت پر طلوع اور غروب ہوتا ہے چاند اپنی منزلیں طے کرتا ہے موسم اپنے اوقات کے مطابق بدلتے ہیں زمین اپنی رفتار سے گردش کرتی ہے اور آسمانوں میں بے شمار ستارے اپنے اپنے مدار میں رواں دواں ہیں۔ یہ سب اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس عظیم کائنات کا ایک حکیم اور قادرِ مطلق رب ہے جس نے ہر چیز کو ایک خاص مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
ہم جس کا ئنات میں رہتے ہیں اس کو ہم نے پیدا نہیں کیا ہے بلکہ ہم نے خود اپنے آپ کو بھی نہیں بنایا ہے کوئی طاقت ہے جس نے اس کا ئنات کو بھی پیدا کیا ہے اور ہمیں بھی پھر غور کیجئے تو اس دنیا میں ساری چیزیں ایک توازن کے ساتھ پائی جاتی ہیں انسان کو آکسیجن کی ضرورت ہے آلودہ گیسیں انسان کے لئے نقصاندہ ہیں مگر یہی گیسیں درختوں کی خوراک ہیں وہ ان گیسوں کو صاف کر کے انسان کے لئے آکسیجن فراہم کرتے ہیں ہر مقام کی ضرورت کے لحاظ سے بارش ہوتی ہے ریگستانوں میں بارش کم ہوتی ہے جنگلات میں زیادہ ہوتی ہے ؟ کیوں کہ نباتات پانی کی زیادہ ضرورت ہے مقررہ اوقات کے مطابق ہی دن و رات کی آمد و رفت ہوتی ہے کائنات کے افق میں اربوں سیارے تھوڑی دیر کے لئے بھی رُکے بغیر گردش کر رہے ہیں لیکن تیز رفتاری کے باوجود ان کے درمیان کبھی تصادم نہیں ہوتا سورج اتنی حرارت خارج کرتا ہے کہ اگر وہ جوں کا توں زمین پر پہنچ جائے تو زمین جل کر بھسم ہو جائے ؟ کیوں کہ ایک سکنڈ میں سورج جو حرارت خارج کرتا ہے اس کی مقدار دس لاکھ ایٹم بم سے بھی زیادہ ہے زمین کے چاروں طرف ہوا کا ایک ایسا غلاف تان دیا گیا ہے کہ وہ ان بے پناہ حرارتوں کو جذب کر لیتا ہے اور انسان کی ضرورت کے بقدر ہی زمین پر پہنچنے دیتا ہے غرض کہ پوری کائنات ایک مربوط اور متوازن نظام کے ساتھ چل رہی ہے۔
اسلام کی بنیاد توحید پر قائم ہے توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ربّ العزت اپنی ذات صفات اور اختیارات میں یکتا ہے۔ وہی پیدا کرنے والا رزق دینے والا نفع و نقصان کا مالک اور زندگی و موت کا اختیار رکھنے والا ہے۔ جب یہ عقیدہ انسان کے دل میں راسخ ہو جاتا ہے تو وہ ہر قسم کے باطل خوف توہمات اور غیر اللہ کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے اور صرف اپنے خالق کے سامنے جھکتا ہے۔

اسلام میں خدا کے ایک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ذات بھی ایک ہے اور وہ اپنی صفات میں بھی یکتا ہے وہی پیدا کرتا ہے وہی موت دیتا ہے انسان اس کے حکم سے بیمار پڑتا ہے اور اس کے حکم سے شفا حاصل ہوتی ہے وہی روزی دینے والا ہے اس کے حکم سے کسی کی روزی بڑھتی ہے اور کسی کی کم ہوتی ہے یہ تصور انسان کو ایک تقدس عطا کرتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ اس کی پیشانی صرف اللہ کے سامنے جھکنے کے لئے ہے وہ مخلوقات کے خوف کے وہم سے آزاد ہو جاتا ہے پھر یہ یقین اس کے اندر کائنات کے بارے میں تحقیق کا جذبہ پیدا کرتا ہے کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ خدا نے یہ ساری چیزیں اس کی خدمت کے لئے پیدا کی ہیں جب انسان کسی چیز کو اپنا خادم سمجھتا ہے تو اس کے بارے میں تحقیق اور جستجو سے کوئی جھجھک نہیں ہوتی اور اگر وہ کسی چیز کو اپنا معبود سمجھ لے تو احترام کا تقاضہ ہوتا ہے کہ وہ اس کی کھوج میں نہ پڑے۔
ہمارا یقین ہے کہ اسلام جتنا جامع آسان معتدل اور انسانیت کے لیے رحمت و فلاح کا پیغام دینے والا دین ہے اس کی مثال کسی اور نظامِ حیات میں نہیں ملتی۔ اسلام زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی سکون عدل اور آسانی فراہم کرتا ہے اور دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔
ہمارا یقین ہے کہ اسلام ہمیشہ غالب اور سر بلند رہے گا اس کو دنیا کی کوئی چیز مغلوب نہیں کرسکتی۔