لہجہ لفظ نہیں بدلتا لفظوں کا مطلب بدل دیتا ہے...😢
27 جون، 2026
لہجہ، وہ پتھر جو آواز نہیں کرتا
ضروری نہیں کہ کچھ توڑنے کے لیے پتھر ہی اٹھاؤ۔
بس لہجہ بدل کر بولنے سے بھی دل ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔
پتھر اور لہجے کا فرق
1. پتھر _ سامنے والے کو نظر آتا ہے۔
بندہ بچ بھی سکتا ہے، جھک بھی سکتا ہے۔
2. لہجہ_ لہجے کا وار بڑا خطرناک ہوتا ہے
بچنے کی بھی گنجائش نہیں دیتا اس کا وار بھی وہ کرتے ہیں' جس کی ہم خود ڈھال بنے ہو۔
سچ پوچھو تو پتھر کا زخم بھر جاتا ہے۔
دوا لگا لو، ٹانکے لگوا لو، نشان بھی وقت کے ساتھ مدھم پڑ جاتا ہے۔ مگر لہجے کا وار؟ وہ اندر تک جاتا ہے۔
نہ خون نکلتا ہے، نہ پٹی بندھتی ہے۔
بس ایک چپ سی لگ جاتی ہے جو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے ۔
"بیٹا" جب ماں کی جگہ "بڑھیا" کہہ دے، تو کھانا بھی حلق سے نہیں اترتا۔
استاذ جب شاباش کی جگہ طنز کر دے، تو سبق یاد نہیں ہوتا،
بس وہ جملہ یاد رہ جاتا ہے۔
دوست جب مذاق میں عزت اتار دے، تو محفل میں قہقہے گونجتے ہیں، دل میں سناٹا چھا جاتا ہے۔
لہجہ لفظ نہیں بدلتا، لفظوں کا مطلب بدل دیتا ہے۔
"آ جاؤ" محبت سے بولو تو دعوت ہے،
اکتا کر بولو تو بوجھ ہے۔
"ٹھیک ہے" مان کر بولو تو تسلی ہے،
چڑ کر بولو تو جنگ کا اعلان ہے۔
ہم لوگ پتھر اٹھانے سے ڈرتے ہیں، کیونکہ یہ سب کو دکھائ دیتا ہے پولیس کیس بھی بن سکتا ہے۔
مگر لہجہ؟
اس پر کوئی دفعہ نہیں لگتی۔
اسی لیے یہ ہتھیار سب سے زیادہ چلتا ہے۔ گھروں میں، دفتروں میں، رشتوں میں۔
مرہم بھی لہجہ ہی ہے:
جیسے لہجہ توڑتا ہے، ویسے ہی جوڑتا بھی ہے۔ ٹوٹے دل پر "معذرت" کا نرم لہجہ وہ مرہم ہے جو میڈیکل اسٹور پر نہیں ملتا۔
تھکے ہوئے شخص کو "خیریت سے ہو؟" والا اپنا پن والا لہجہ نیند سے زیادہ سکون دے دیتا ہے۔
لہجہ سکون بھی ہے تکلیف بھی ہے
غلطی لفظوں کی نہیں آپ کے لہجے کی ہوتی ہے
ارے آ جاؤ نہ 🌹
آنا تو آجاؤ 😡
دونوں بات بولنے میں اتنا ہی وقت لگ رہا ہے لیکن ایک بات میں محبت کا اشارہ اور ایک میں بوجھ محسوس ہو رہا ہے
اس بات سے مجھے اپنے بچپن کی ایک بات یاد آ گئ۔
میری ایک بہت اچھی سہیلی تھی۔
ہم دونوں ایک ہی مدرسہ میں قرآن شریف پڑھتے تھے صبح کے وقت وہ مجھے بلانے میرے گھر آتی، اور شام کو میں اسے بلانے اس کے گھر چلی جاتی۔
ہماری دوستی بے حد مخلصانہ تھی۔
جب اسکا قرآنِ کریم مکمل ہو گیا تو اس نے آنا بند کر دیا۔ ایک دن میں خود اس کے گھر گئی۔ باہر سے اشارے سے آواز دی تو اس نے مجھے دیکھ کر کہا:
"آ جاؤ۔"
میں نے کہا: "تم ہی باہر آ جاؤ، میں مدرسے سے آ رہی ہوں، دیر ہو جائے گی قاری صاحب ماریں گے ۔"
اس نے دوبارہ کہا:
"آنا ہے تو آ جاؤ۔"
یہ سنتے ہی میں اندر نہیں گئی اور خاموشی سے واپس آ گئی۔
باخدا! آج اس بات کو تقریباً 13–14 سال گزر چکے ہیں، مگر میں نے آج تک اس کے گھر کی دہلیز پر قدم نہیں رکھا۔
اللہ تعالیٰ گواہ ہے، خودداری بچپن سے ہی میری فطرت کا حصہ رہی ہے، الحمدللہ۔
اللہ تعالی ہمیں ہماری خودداری اور ملن ساری پر ہمیشہ قائم رکھے آمین
اس لیے کہتے ہیں لہجے سنبھالو، رشتے بچے رہیں گے۔
عائشہ 🍁