میں اکثر اپنے والد کی اُس شفقت و عنایت کو محسوس کیا کرتی تھی جو ہمیشہ ہم پر رہا کرتی تھی، لیکن اس کا شدید احساس ہمیں ان کی وفات کے بعد ہوا۔ ان کا میرا خوش دلی سے استقبال کرنا اور ان کا سایہ سر پر ہونا ایک ایسی نعمت تھی، جس کے بغیر اب زندگی کی حالت کچھ ایسے لگنے لگی ہے کہ جسم کا دھڑ تو ہے، لیکن سر نہیں؛ گھنا اور سایہ دار درخت تو ہے، لیکن اس کی سایہ دینے والی شاخیں نہیں؛ گھر کی دیواریں تو قائم ہیں، لیکن ان کا وہ مضبوط ستون ہی نہیں؛ سر پر چھت تو ہے، لیکن وہ پہلے جیسا تحفظ کا احساس نہیں۔
اب گھر تو ہے، لیکن اس میں صرف ویرانیاں ہیں؛ مسکراہٹیں تو ہیں، لیکن ان میں چھپی اداسیاں ہیں؛ لوگوں کی بھیڑ تو ہے، لیکن دل میں صرف تنہائیاں ہیں؛ دسترخوان پر سجے پکوان تو ہیں، لیکن اب وہ ذائقہ نہیں؛ رنگینی تو ہے، لیکن اس میں کوئی کسش نہیں؛ خوشیاں تو ہیں، مگر ان میں کوئی دلچسپی نہیں؛ دنیا کی ہر نعمت اور آسائش تو ہے، لیکن سر پر دعا دینے والا وہ ہاتھ نہیں ہے۔ وقت تو اپنی رفتار سے چل رہا ہے، لیکن میری دنیا وہیں ٹھہر گئی ہے۔
اب کوئی بات دل پر بوجھ بن جائے، تو بے اختیار اُن کی یاد آتی ہے؛ کوئی کامیابی مل جائے، تو دل سب سے پہلے اُنہیں ڈھونڈتا ہے؛ کوئی مشکل آ جائے، تو احساس ہوتا ہے کہ میرا سب سے مضبوط سہارا اب میرے ساتھ نہیں۔ دروازہ تو آج بھی ویسے ہی کھلتا ہے، مگر اُس دروازے سے آنے والی وہ مانوس آہٹ نہیں؛ آنکھیں تو آج بھی اُنہیں تلاش کرتی ہیں، مگر نگاہوں کو اب اُن کا دیدار نصیب نہیں۔ دعائیں تو بہت لوگ دیتے ہیں، مگر باپ کی دعا جیسا اعتماد اور سکون کہیں نہیں ملتا۔ زندگی تو چل رہی ہے، مگر جیسے روح کا ایک حصہ اُن کے ساتھ ہی رخصت ہو گیا ہو۔
کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ صرف ایک بار پھر اُن کی آواز سن لوں؛ ایک بار پھر وہ شفقت بھرا ہاتھ سر پر محسوس کر لوں؛ ایک بار پھر اُنہیں اپنے حالِ دل کی داستان سنا دوں۔ آج بھی جب کسی خوشی کی خبر ملتی ہے تو دل بے اختیار اُن کی طرف دوڑتا ہے، پھر اچانک یاد آتا ہے کہ وہ سننے کے لیے موجود نہیں۔ اور جب کوئی غم ستاتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ اُن کے سامنے بیٹھ کر چند لمحے خاموش رہوں، کیونکہ بعض رشتے الفاظ کے محتاج نہیں ہوتے۔ باپ کے جانے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ گھر کا سب سے قیمتی سرمایہ دولت نہیں، بلکہ وہ ہستی تھی جس کی موجودگی سے ہر خوف چھوٹا اور ہر خوشی بڑی لگتی تھی۔
میرے والد! آپ اس دنیا میں نہیں ہیں، مگر آپ کی محبت، آپ کی نصیحتیں، آپ کی دعائیں اور آپ کی یادیں آج بھی میری زندگی کا سہارا ہیں۔ آپ کی کمی کبھی پوری نہیں ہو سکتی، لیکن آپ کے لیے کی جانے والی ہر دعا میرے دل کو یہ تسلی دیتی ہے کہ ہمارا رشتہ موت کے بعد بھی ختم نہیں ہوا، بلکہ ان شاء اللہ—جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم (سورہ الرعد اور سورہ الطور) میں وعدہ فرمایا ہے کہ ایمان لانے والے نیک آباء و اجداد اور ان کی صالح اولاد کو جنت میں دوبارہ ایک ساتھ اکٹھا کیا جائے گا—ہم وہاں پھر ایک ہوں گے۔
اللّٰہ تعالیٰ میرے والدِ محترم کی مغفرت فرمائے، اُن کی قبر کو نور سے بھر دے، اُن کے درجات بلند فرمائے، اور ہمیں اُن کے لیے صدقۂ جاریہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤍🥀
ازقلم: زا-شیخ