*موبائل کے موجد کے بچوں کے پاس موبائل کیوں نہیں؟*
آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں موبائل فون محض ایک ضرورت نہیں رہا، بلکہ بہت سے لوگوں کے نزدیک زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، اگر کسی شخص کے پاس جدید لباس نہ ہو، بڑی گاڑی نہ ہو یا مال و دولت کی فراوانی نہ ہو تو شاید وہ اتنا پریشان نہ ہو، لیکن اگر اس کے پاس موبائل نہ ہو تو وہ خود کو زمانے کی دوڑ سے باہر سمجھنے لگتا ہے، گویا موبائل اب صرف ایک آلہ نہیں، بلکہ ایک ایسی عادت بن چکا ہے جس کے بغیر انسان خود کو نامکمل محسوس کرنے لگا ہے،لیکن کیا کبھی ہم نے یہ سوچا کہ جس چیز نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا، اس کے موجِد خود اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟
مطالعہ کے دوران ایک نہایت حیرت انگیز بات سامنے آئی کہ موبائل کے موجِد سے پوچھا گیا: آپ اس عظیم ایجاد کے مالک ہیں، *آپ کے پاس کون سا موبائل ہے؟ اور آپ کے بچوں کے پاس کون سا موبائل ہے؟جواب ملا:میرے پاس ایک سادہ سا فون ہے اور میرے بچوں کے پاس موبائل نہیں،جب حیرت سے پوچھا گیا آپ خود اس کے موجِد ہیں، پھر آپ اس سے دور کیوں ہیں؟تو اس نے جواب دیا کہ اس کا غیر ضروری استعمال وقت کو ضائع کرتا ہے، انسانوں کو ایک دوسرے سے دور کرتا ہے اور دلوں میں ایک ایسا خلا پیدا کر دیتا ہے جسے محسوس تو کیا جاتا ہے لیکن بیان کرنا آسان نہیں۔*
پھر سوال کیا گیا اگر ایسا ہے تو آپ نے اسے ایجاد کیوں کیا؟
*جواب ملا:میں نے اسے تفریح، بے مقصد مصروفیات اور انسانوں کو اسکرینوں کا غلام بنانے کے لیے نہیں بنایا تھا، بلکہ Communication اور Information کے لیے بنایا تھا،*
Communication کا مطلب یہ ہے کہ دو یا دو سے زیادہ افراد ایک دوسرے کے ساتھ خیالات، احساسات اور ضروری معلومات کا تبادلہ کریں، پہلے زمانے میں دور دراز رہنے والے لوگ مہینوں تک ایک دوسرے کی خیریت سے بے خبر رہتے تھے، خطوط لکھے جاتے تھے اور کئی کئی دن بلکہ مہینے ان کے پہنچنے میں لگ جاتے تھے، اس پوری خلا کے دروازے کو بند کر دیا گیا اب بہت سکون کے ساتھ کوئی کہیں بھی ہو اسکو آسانی سے سنا جا سکتا ہے،وہ ہمیشہ کونٹیکٹ میں رہتا ہے۔
اسی طرح Information کا مقصد یہ تھا کہ ضروری خبریں، علمی معلومات اور اہم پیغامات چند لمحوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جائیں، کسی کی بیماری، کسی کی خیریت یا کسی اہم معاملے کی خبر فوری طور پر لوگوں تک پہنچ سکے،یعنی موبائل کو انسانوں کو قریب کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، افسوس کہ ہم نے اسی چیز کو ایک دوسرے سے دوری کا ذریعہ بنا لیا،اور ہمارا حال بد سے بدتر ہو گیا،اور نہ جانے کتنے گھروں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے بچوں سے بیٹھ کر بات کرنے پر مجبور ہیں لیکن بچے موبائل سے ہی نہیں نکلتے،خدارا موبائل اس لیے نہیں بنایا بلکہ موبائل کو Communication اور Information کے لیے بنایا ہے۔
میرے عزیز سوچیے گا ذرا اگر کوئی شخص ایک گھنٹہ موبائل پر بے مقصد ویڈیوز، فضول تبصرے، غیر ضروری اسکرولنگ اور بے فائدہ مصروفیات میں گزار دے تو ایک گھنٹے کے بعد اس کے ہاتھ میں سوائے تھکاوٹ اور ضائع شدہ وقت کے کچھ نہیں ہوگا،لیکن اگر یہی ایک گھنٹہ اپنے والدین کے ساتھ بیٹھ کر گزارا جائے، اپنے بھائی بہنوں سے بات کی جائے، گھر والوں کی خیریت پوچھی جائے، ان کے مسائل سنے جائیں اور ان کے ساتھ مسکرا کر چند لمحے گزارے جائیں تو یہی ایک گھنٹہ گھر کے ماحول کو بدل سکتا ہے،محبتیں بڑھتی ہیں، دل قریب ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی فکر پیدا ہوتی ہے، حسنِ اخلاق پروان چڑھتا ہے اور گھر جنت کا نمونہ بن جاتا ہے،افسوس یہ ہے کہ آج بچے اپنے موبائل میں مصروف ہیں، والدین اپنے فون میں گم ہیں، بھائی اپنی دنیا میں مگن ہیں اور بہنیں اپنی اسکرینوں میں کھوئی ہوئی ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ بچوں کی شکایت ہے کہ والدین ان سے بات نہیں کرتے، اور والدین کا شکوہ ہے کہ بچے ان کے قریب نہیں بیٹھتے،گویا ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے لوگ جسمانی طور پر تو اکٹھے ہیں، لیکن دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔
*یہ بھی ایک دور تھا* کسی زمانے میں جب خاندان کے افراد رات کا کھانا کھانے کے لیے ایک دسترخوان پر بیٹھتے تھے تو ساتھ میں محبتیں بھی بیٹھتی تھیں، ہنسی مذاق بھی ہوتا تھا، دن بھر کے واقعات بھی بیان ہوتے تھے اور ایک دوسرے کے غم و خوشی میں شریک ہونے کا موقع بھی ملتا تھا،لیکن آج اکثر ایسا منظر دیکھنے کو ملتا ہے کہ دسترخوان پر پانچ افراد موجود ہوتے ہیں، مگر خاموشی چھائی ہوتی ہے، ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل ہے، نظریں اسکرینوں پر ہیں اور دل ایک دوسرے سے غافل ہیں، جسم ایک جگہ ہیں، مگر ذہن کہیں اور،یہ ترقی نہیں، بلکہ تعلقات کی خاموش موت ہے۔
*جب موبائل اپنے کام سے نہیں ہٹا تب ہم کیوں ہٹ گئے؟*
آپ نے کبھی غور کیا؟ اپ اگر موبائل میں کوئی ویڈیو دیکھ رہے ہوں، کوئی کتاب پڑھ رہے ہوں، پی ڈی ایف کھول رکھی ہو یا کسی اور کام میں مصروف ہوں، اور اسی دوران کسی کا فون آجائے تو موبائل فوراً آپ کی تمام سرگرمیوں کو روک کر کال کی اطلاع دیتا ہے،گویا موبائل بنانے والوں نے بھی اس بات کو اہم سمجھا کہ اصل مقصد رابطہ اور معلومات کی ترسیل ہے، نہ کہ لامتناہی تفریح اور وقت کا ضیاع،لیکن ہم اس چیز کو بھولے ہوئے ہیں،سوچنے کا مقام ہے ہم کس موڑ پر کھڑے ہوئے ہیں۔
آج دنیا مغربی تہذیب کو آزادی، ترقی اور خوشحالی کی علامت سمجھتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر چیز میں آزاد ضرور دکھائی دیتے ہیں، لیکن ٹیکنالوجی کے معاملے میں وہ خود اس کے محتاج بن چکے ہیں،مال و دولت کی فراوانی کی وجہ سے وہاں چھوٹی عمر سے ہی بچوں کے ہاتھوں میں موبائل، ٹیبلٹ اور دیگر ڈیجیٹل آلات آجاتے ہیں، بچپن کھیل کے میدانوں، کتابوں اور خاندان کی محبتوں میں گزرنے کے بجائے اسکرینوں کی قید میں گزرنے لگتے ہیں،نتیجتاً تحقیق کرنے والے ماہرین مسلسل اس بات کی طرف متوجہ کر رہے ہیں کہ حد سے زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کی توجہ، یادداشت، سوچنے کی صلاحیت اور گہرے غور و فکر کی قوت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے،ایک تحقیق کے مطابق وہاں کے لوگوں کا IQ لیول اتنا ڈاؤن ہو چکا ہے کہ مغربی تہذیب کا پروان چڑھا ہوا پچیس سال کا کڑیل جوان مشرقی تہذیب خصوصاً ہندوستان پاکستان بنگلادیش وغیرہ وغیرہ ملک کے دس سال کے بچے کا مقابلہ نہیں کر سکتا تدبر و تفکر کے میدان میں سوچنے کا مقام ہے،سوچیے اگر انسان کے پاس ہر قسم کی آسائش موجود ہو، لیکن تدبر، تفکر، تعلقات اور سکونِ قلب چھن جائے تو ایسی ترقی کا فائدہ کیا؟
*اصل مسئلہ موبائل نہیں، ہمارا طرزِ استعمال ہے*
موبائل نہ اچھا ہے اور نہ برا، یہ ایک نعمت بھی بن سکتا ہے اور ایک آزمائش بھی،یہ علم کا خزانہ بھی بن سکتا ہے اور وقت کا قاتل بھی،
یہ والدین کی خدمت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اور ان سے دوری کا سبب بھی،یہ قرآن سننے، علم حاصل کرنے اور خیر پھیلانے کا وسیلہ بھی بن سکتا ہے اور فضولیات، غفلت اور تنہائی کا راستہ بھی،اس لیے ضرورت موبائل کو چھوڑنے کی نہیں، بلکہ اس کے غلام بننے سے بچنے کی ہے،کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ جب تک انسان ٹیکنالوجی کا مالک ہے، ٹیکنالوجی اس کے لیے نعمت ہے، اور جس دن ٹیکنالوجی انسان کی مالک بن جائے، اسی دن ترقی کے نام پر ایک نئی غلامی شروع ہو جاتی ہے۔
اور شاید اسی لیے کہا جاتا ہے، موبائل کو اپنی جیب میں رکھو، اپنی زندگی میں نہیں، کیونکہ جن چیزوں کو انسان ہاتھ میں رکھتا ہے وہ اس کے تابع ہوتی ہیں، لیکن جن چیزوں کو انسان دل میں جگہ دے دیتا ہے، وہ اس پر حکومت کرنے لگتی ہیں۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*