بنت محمد رافع✍️

عاشورہ کا روزہ اور اس کی فضیلت

اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے، جو بہت بابرکت اور عظمت والا مہینہ ہے۔ ہمارا اسلامی کیلنڈر چاند کے حساب سے چلتا ہے، اور محرم اس کا پہلا مہینہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔"

لہٰذا محرم الحرام میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال، عبادت، ذکر و تلاوت اور روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے، اگرچہ نیکی کا کام ہمیشہ ہی کرنا چاہیے۔

یومِ عاشورہ (10 محرم) ایک عظیم دن ہے۔ اس دن کے بارے میں مختلف روایات میں کئی اہم واقعات کا ذکر ملتا ہے، جیسے:

- حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کی ملاقات ہوئی میدان عرفات میں۔
- حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری۔
- حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے نجات پا کر باہر آئے۔
- حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات ملی۔
- فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہوا۔

رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہود کو عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نجات عطا فرمائی تھی۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا:

ہم موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ حق دار ہیں۔

اس کے بعد آپ ﷺ نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور صحابۂ کرامؓ کو بھی اس کا حکم دیا۔

نبی کریم صلی اللہ وسلم نے دو روزوں کا حکم دیا تاکہ یہودیوں سے مشابہت نہ ہو ۔۔
لیکن علماء کہتے ہیں اب یہودی روزہ نہیں رکھتے ۔
تو یہ مشابہت ختم ہوگئی 
لیکن اگر کوئی 9 اور 10 محرم یا 10 اور 11 محرم کا روزہ رکھ لیں یعنی دو دن تو اچھی بات ہے ۔

عاشورہ کے روزے کی فضی

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

"مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ عاشورہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔"


شہادتِ امام حسینؓ

یومِ عاشورہ کا سب سے دردناک اور عظیم واقعہ 61 ہجری میں پیش آیا، جب رسول اللہ ﷺ کے نواسے، جنتی نوجوانوں کے سردار حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے جانثار ساتھی میدانِ کربلا میں شہید کر دیے گئے۔ یہ واقعہ امتِ مسلمہ کے لیے صبر، حق گوئی اور دین پر ثابت قدمی کا عظیم درس ہے۔

حضرت ام سلمہؓ روایت

ایک دن رسول اللہ ﷺ نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ میرے پاس ایک ایسا فرشتہ آیا ہے جو اس سے پہلے کبھی اس طرح نہیں آیا ۔ پھر اس فرشتے نے آپ ﷺ کو حضرت حسینؓ کی شہادت کی خبر دی اور کربلا کی سرخ مٹی بھی دکھائی۔ یہ سن کر آپ ﷺ بہت غمگین ہوئے اور بہت روئیں یہاں تک کی حچکیاں لینے لگیں ۔اگر چاہتے تو دعا کر کے روک بھی سکتے تھیں لیکِن نہیں کیے ایسا ۔۔
کن کے لیے؟؟ ہمارے لیے ہمیں تعلیم دینے کے لیے ۔
اسی امت کو جس امت کے لوگوں نے اُن کے جگر کے گوشے کو سولی دی تو ایک کے سر کو نیزے پر لٹکایا ۔
محرم ہمیں سکھاتا ہے کی اپنے اللہ پر جان دے دو 
میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا کی جب تمہیں اپنا صدمہ بڑا لگے تو تم میرا صدمہ یاد کر لینا ۔
میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت بڑی قربانی دی ہے کاش ہم سمجھ جاتے 

اللہ تعالیٰ ہمیں محرم الحرام کی برکتوں سے مالامال فرمائے، عاشورہ کے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، اور حضرت امام حسینؓ اور تمام شہدائے کربلا کی سیرت سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔