*محرم الحرام کا چاند اور شادی شدہ بیٹیوں کا میکہ۔*

اللہ تعالیٰ نے اسلام کو آسانی، اعتدال اور رحمت کا دین بنایا ہے،اس دین نے بیٹی کو رحمت، بہن کو نعمت اور عورت کو عزت و تکریم کا تاج عطا فرمایا ہے، افسوس کہ بعض معاشروں نے دین کی روشن تعلیمات سے دور ہو کر اپنی خود ساختہ رسموں اور توہمات کو اس قدر اہم بنا لیا ہے کہ وہی رسمیں دین کا درجہ اختیار کر گئی ہیں، اور جو ان رسموں کی پابندی نہ کر سکے وہ لوگوں کی زبانوں کا نشانہ بن جاتا ہے،محرم الحرام، جو حرمت والے مہینوں میں سے ایک عظیم اور بابرکت مہینہ ہے، اس کی اصل روح تقویٰ، عبادت، ذکرِ الٰہی، توبہ اور اصلاحِ نفس ہے، لیکن بعض علاقوں میں اس مبارک مہینے کے ساتھ ایک ایسی رسم بھی وابستہ کر دی گئی ہے جس کا نہ قرآن میں کوئی ثبوت ہے، نہ حدیث میں کوئی ذکر، نہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اس کا کوئی عمل منقول ہے، اور نہ ہی فقہائے امت نے اس کی کوئی حیثیت بیان فرمائی ہے۔
یہ تصور عام کر دیا گیا ہے کہ *شادی شدہ لڑکی کے لیے ضروری ہے کہ وہ محرم الحرام کا چاند اپنے میکے میں دیکھے،* گویا یہ کوئی شرعی فریضہ ہو، اگر کسی بیٹی کے حالات، شوہر کی مصروفیات، بچوں کی ذمہ داریوں، بیماری، مالی دشواری یا کسی اور مجبوری کی بنا پر اس کا میکے جانا ممکن نہ ہو، تو اسے طعنوں، ملامتوں اور لعن طعن کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بعض نادان لوگ تو یہاں تک ظلم کرتے ہیں کہ ایسی لڑکی کو منحوس، بے برکت اور بدقسمت قرار دے دیتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے صاف ارشاد فرمایا: *لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ* (بخاری، مسلم) کوئی چیز بذاتِ خود منحوس نہیں اور نہ بدشگونی کی کوئی حقیقت ہے۔
لہٰذا کسی انسان، خصوصاً ایک مجبور بیٹی کو منحوس کہنا، نہ صرف جہالت ہے بلکہ تعلیماتِ نبوی ﷺ کے خلاف بھی ہے، جس بیٹی نے اپنا بچپن، اپنی یادیں، اپنی خوشیاں اسی گھر میں گزاری تھیں، شادی کے بعد وہ ایک نئے گھر کی ذمہ داریوں سے وابستہ ہو جاتی ہے، اب اس کی زندگی صرف اس کی اپنی نہیں رہتی، بلکہ شوہر، بچوں اور گھر کے بے شمار فرائض اس کے ساتھ جڑ جاتے ہیں، اگر وہ کسی مجبوری کے تحت محرم کا چاند میکے میں نہ دیکھ سکے، تو کیا اس سے اس کے دل میں والدین کی محبت کم ہو جاتی ہے؟ کیا اس کی وفاداری مشکوک ہو جاتی ہے؟ کیا اس کا احترام ختم ہو جاتا ہے؟ ہرگز نہیں،حقیقت یہ ہے کہ محبت کیلنڈر کے چند دنوں کی محتاج نہیں ہوتی، اور نہ ہی بیٹیوں کی محبت چاند دیکھنے کی جگہوں سے ناپی جاتی ہے۔
افسوس تو ان لوگوں پر ہے جو ایک بے بس اور مجبور عورت کے حالات کو سمجھے بغیر اس پر زبان کے تیر برسانے لگتے ہیں، انہیں نہ اس کے حالات کا احساس ہوتا ہے، نہ اس کے دل کے زخموں کا، چند لمحوں میں عدالت لگا کر فیصلے سنا دیے جاتے ہیں، گویا کسی بیٹی کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ ایک رسم پوری نہ کر سکی،یہ کیسی محبت ہے کہ اگر بیٹی نہ آ سکے تو اس کے لیے دعائیں نہیں بلکہ بددعائیں نکلتی ہیں؟ یہ کیسی اپنائیت ہے کہ اگر حالات ساتھ نہ دیں تو اسے منحوس قرار دیا جاتا ہے؟ حقیقت میں نحوست کسی بیٹی میں نہیں، بلکہ ان سوچوں میں ہے جو محبت کو رسموں کا غلام بنا دیتی ہیں، اور ان زبانوں میں ہے جو ایک مجبور انسان کے دل کو زخمی کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتیں۔
کاش لوگ اتنی حساسیت نمازوں کے بارے میں رکھتے، اتنی فکر والدین کے حقوق، صلہ رحمی، سچائی، حسنِ اخلاق اور حقوق العباد کے بارے میں کرتے، جتنی ایک بے بنیاد رسم کے ٹوٹنے پر کرتے ہیں، کاش انہیں اس بات کا احساس ہوتا کہ کسی مظلوم کے دل سے نکلی ہوئی آہ، رسموں کی حفاظت سے کہیں زیادہ خطرناک ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے *{وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾* رسول تمہیں جو کچھ عطا فرمائیں اسے لے لو اور جس سے منع فرمائیں اس سے باز آ جاؤ۔
جب شریعت نے ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی، تو پھر اسے فرض یا ضروری سمجھنا، اور اس کے نہ ہونے پر لوگوں کو موردِ الزام ٹھہرانا، دین نہیں بلکہ محض معاشرتی جہالت ہے،محرم الحرام کی برکتیں کسی بیٹی کے میکے آنے یا نہ آنے سے وابستہ نہیں، بلکہ اللہ کی اطاعت، تقویٰ، حسنِ اخلاق اور بندوں کے حقوق ادا کرنے سے وابستہ ہیں، اور یاد رکھیے کسی بیٹی کو رلانے، اسے طعنے دینے، اس کے کردار پر انگلی اٹھانے اور اسے منحوس کہنے سے نہ برکتیں نازل ہوتی ہیں اور نہ گھروں میں خوشیاں آتی ہیں، بلکہ دل ٹوٹتے ہیں، رشتے بکھرتے ہیں اور محبتیں دم توڑ دیتی ہیں۔
اگر بیٹی محبت سے میکے آئے تو یہ خوشی اور سعادت کی بات ہے، لیکن اگر حالات اجازت نہ دیں تو اس پر زبانوں کے تیر چلانا، اسے بے برکت یا منحوس قرار دینا محبت نہیں، بلکہ جہالت، سنگ دلی اور ظلم کی بدترین صورت ہے،بیٹیاں منحوس نہیں ہوتیں، منحوس وہ سوچیں ہوتی ہیں جو محبت سے زیادہ رسموں کو اہمیت دیتی ہیں اور بدقسمت وہ زبانیں ہوتی ہیں جو ایک مجبور بیٹی کے آنسوؤں کی قیمت نہیں جانتیں،رشتے محبت سے قائم رہتے ہیں، رسموں سے نہیں اور بیٹیوں کی قدر ان کے قدموں سے نہیں، بلکہ ان کے دلوں سے کی جاتی ہے۔

               *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*