ایک باپ کی سسکیاں، ایک ماں کی آہیں، اور کھوتی ہوئی نسل
19 جون، 2026
میں نے اپنی زندگی میں بہت سے غم دیکھے ہیں، جنازے اٹھتے دیکھے ہیں، جوان بیٹوں کی میتوں پر باپوں کو بلکتے دیکھا ہے، لیکن خدا کی قسم! ایک مسلمان باپ کی وہ ٹوٹی ہوئی آواز آج بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے جس کی بیٹی اس کے جیتے جی اس سے چھن گئی تھی۔
وہ بار بار رو کر کہہ رہا تھا:
"کاش میری بیٹی مر جاتی، مگر اپنا دین نہ چھوڑتی... کاش میں اس کا جنازہ اٹھا لیتا، مگر آج یہ دن نہ دیکھتا۔"
اس کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ ماں دیوار سے لگی بیٹھی تھی، اس کی آنکھیں خشک ہو چکی تھیں، شاید آنسو بھی اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ گھر کا ہر کونا ماتم کدہ بنا ہوا تھا۔ لیکن افسوس! یہ ماتم کسی جسم کی موت پر نہیں تھا، بلکہ ایمان کے بچھڑ جانے پر تھا۔
وہی بیٹی جسے باپ نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا، جس کے لیے راتوں کو جاگ کر دعائیں مانگی تھیں، جس کی خوشیوں کے لیے اپنی خواہشات قربان کی تھیں، آج وہی بیٹی اپنے دین، اپنی تہذیب، اپنے خاندان اور اپنی اسلامی شناخت سے منہ موڑ کر چلی گئی۔
سوال یہ ہے کہ آخر یہ سانحہ پیدا کیسے ہوا؟
کیا یہ سب ایک دن میں ہو گیا؟
نہیں!
یہ اس دن شروع ہوا تھا جب گھر میں قرآن کی آوازیں خاموش ہو گئیں اور موبائل کی گھنٹیاں گونجنے لگیں۔
یہ اس دن شروع ہوا تھا جب والدین نے اولاد کے ہاتھ میں اسمارٹ فون تو دے دیا، مگر ان کے دل میں اللہ کا خوف پیدا نہ کیا۔
یہ اس دن شروع ہوا تھا جب ڈگری کو دین پر، کیریئر کو کردار پر، اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دے دی گئی۔
آج کتنے والدین ہیں جو اپنی بیٹی کے کالج کا نام تو جانتے ہیں مگر اس کی سہیلیوں کے نام نہیں جانتے۔ کتنے ایسے ہیں جو اس کی فیس وقت پر جمع کرتے ہیں مگر اس کی نمازوں کی خبر نہیں لیتے۔ کتنے ایسے ہیں جو اس کے امتحان کے نمبروں پر خوش ہوتے ہیں مگر اس کے ایمان کی کمزوری پر پریشان نہیں ہوتے۔
اور پھر وہ ماحول...
وہ اسکول، وہ کالج، وہ سوشل میڈیا، وہ آزادانہ میل جول، وہ بے پردگی، وہ جذباتی تعلقات، وہ خفیہ گفتگوئیں، وہ جھوٹے وعدے اور محبت کے دل فریب جال...
ایک معصوم دل آہستہ آہستہ ان فتنوں کی گرفت میں آتا ہے، اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ والدین کو خبر بھی نہیں ہوتی اور ان کے گھر کی بہار ان کے ہاتھوں سے نکل چکی ہوتی ہے۔
اے مسلم والدین!
اگر آج بھی تم نے اپنی اولاد کے ایمان کی فکر نہ کی تو کل تمہارے آنسو تمہاری بیٹیوں کو واپس نہیں لا سکیں گے۔
اگر آج تم نے ان کے دلوں میں اللہ اور رسول ﷺ کی محبت نہ بسائی تو کل دنیا کے فتنوں سے انہیں بچانا مشکل ہو جائے گا۔
یاد رکھو!
اولاد کے لیے سب سے بڑی میراث بنگلہ، زمین، جائیداد اور بینک بیلنس نہیں، بلکہ مضبوط ایمان اور صحیح دینی تربیت ہے۔
آج امت کی بیٹیاں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ ہمیں صرف تعلیم نہیں، تربیت بھی دو۔ ہمیں صرف ڈگری نہیں، دین بھی دو۔ ہمیں صرف دنیا میں جینے کا ہنر نہیں، آخرت سنوارنے کا شعور بھی دو۔
خدا را! اپنی بیٹیوں کو وقت دو، ان کے ایمان کی حفاظت کرو، ان کے دلوں کو قرآن سے جوڑو، ان کی زندگیوں کو حیا اور عفت سے آراستہ کرو، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اور پھر کسی گھر میں ایک اور باپ سسک سسک کر یہ کہتا پھرے:
"میری بیٹی تو زندہ ہے... مگر میرے لیے وہ اس دن مر گئی تھی جب وہ اپنے دین سے دور ہو گئی۔"
اللہ تعالیٰ ہماری نسلوں، ہماری بیٹیوں اور ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔