*روضة المحبين* میں ہے

> ومما يُستحسنُ في المَرأةِ طولُ أربعةٍ وهُنَّ أطرَافُها وقَامَتُها وشَعرُها وعُنقُهَا
عورت میں چار چیزیں لمبی ہونا *حسن* ہے
اس کی انگلیاں
اس کا قد
اس کے بال
اس کی گردن

> وقَصرُ أربعةٍ يَدُها ورِجلُها ولِسَانُها وعَينُها
چار چیزیں چھوٹی ہونا *حسن* ہے
اس کے ہاتھ
اس کے پاؤں
اس کی زبان
اس کی آنکھیں
یہاں معنوی طور پر چھوٹا ہونا مراد ہے کہ وہ کم سے کم ہاتھ بڑھائے کسی کی طرف کم زبان چلائے اور آنکھوں سے اِدھر اُدھر نہ دیکھے

> وحُمرَةُ أربعةٍ لِسَانُها وخَدُّها وشَفَتُها معَ لعَسٍ وإشرابُ بَياضِها بِحُمرَةٍ
اور چار چیزیں سرخ ہونا *حسن* ہے
اس کی زبان
اس کے گال
اس کے ہونٹ سیاہی مائل سرخ ہوں یعنی گہرے سرخ
اس کی رنگت سفیدی میں سرخی ملی ہو

> ودِقَّةُ أربعةٍ أنفُهَا وبَنانُها وخَصرُهَا وحاجِبُها
چار چیزیں باریک ہونا *حسن* ہے
اس کا ناک
اس کی انگلیوں کے پورے
اس کی کمر
اور اس کے بھنویں

ہم نے *یستحسن* کا ترجمہ حسن سے کیا ہے
ویسے اس کا معنی بنتا ہے کہ عورت میں یہ چیزیں پسند کی جاتی ہیں
اور جو پسند کی جائے وہی حسن و جمال ہے
علماء و فقہاء نے محاسنِ نسواں پر دل کھول کر قلم چلایا ہے مگر ایک عورت ہے جو غیروں کی باتوں میں آ کے کہتی ہے کہ اسلام سختی کرتا ہے
ہمیشہ مرد ہی عورت کے حسن و جمال کی تعریف کرتا ہے
`کبھی کسی عورت نے مرد کی شان میں غزلیں قصیدے تعریفیں نہیں کی ہیں`

اگرچہ مرد حسن و جمال میں زیادہ ہوتا ہے 😅

اس کی
{1} `پہلی دلیل`
تو یہ ہے کہ بناؤ سنگھار کے سارے سامان عورت کے لیئے ہیں *جس میں جس شے کی کمی ہوتی ہے وہ وہی کمی پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے*
میک اپ مرد تو نہیں کرتے

{2} *دوسری دلیل*
`آپ چرند پرند حتی کہ درندوں میں دیکھ لیں آپ کو نر مادہ سے زیادہ خوبصورت ملے گا` ☺️
یہی نظامِ قدرت ہے تو اشرف المخلوقات میں نر کم کیسے ہو سکتا ہے ؟
{3} *تیسری دلیل*
اشرف المخلوقات میں افضل البشر انبیاء کرام علیہم السلام ہیں اور انبیاء کرام علیہم السلام جنسِ مرد سے ہیں اور یہ بدیہی بات ہے کہ خِلقاً خُلقاً انبیاء کرام علیہم السلام سب سے زیادہ حسین و جمیل ہیں تو اِن کی جنس بھی زیادہ حسین و جمیل ہے
{4} `چوتھی دلیل`
رب العالمین نے فرمایا
*لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘*
بے شک ہم نے انسان کو سب سے اچھی صورت میں پیدا فرمایا

انسانوں میں دو گروہ ہیں مذکر و مؤنث تو کامل و اکمل حاکم و قوام مرد ہیں یہ پہلے احسنِ تقویم ہیں پھر ناقص کا درجہ ہے
{5} `پانچویں دلیل`
بخاری شریف کی حدیثِ مبارکہ ہے
*خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ*
الله رب العزت نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا
یہاں آدم علیہ السلام کی صورت کی نسبت اپنی طرف تشریفاً و تکریماً فرمائی ہے وہ خود تو شکل و صورت سے پاک ہے
تو *جب صورت مبارک کی نسبت اپنی طرف فرمائی وہاں آدم فرمایا جو کہ مرد ہیں انسان نہیں فرمایا* کیونکہ آدم میں مرد کی صورت مراد ہے جبکہ انسان مذکر و مؤنث کے لیئے بولا جاتا ہے

الله رب العزت نے نظامِ کائنات میں توازن رکھا ہے کہ مرد زیادہ `حسین و عقیل` { عقلمند }ہونے کے باجود حسین عورت نہیں صرف عورت دیکھتا ہے 😅
اگر عقل کا استعمال کرے تو لاکھوں میں کوئی ایک عورت پسند کرے
اس کی وجہ قدرت کا وہ نظام میں جو مرد میں رکھا گیا ہے کہ مرد کسی بھی عورت کو دیکھ کر صبر نہیں کر سکتا
سیدی عبد الله بن عباس نے یہ آیت مبارکہ پڑھی
*وَخُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِيفًا*
اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا
تو فرمانے لگے
`لا يصبر عن النساء`
ایسا کمزور کہ عورتوں کے معاملے میں صبر نہیں کر سکتا
❗تفسیر طبری و تفسیرِ قرطبی ❗
مرد اپنی عقل قابو کر لے تو عورتوں کے حسن و جمال خاص طور پہ میک اپ والے حسن و جمال کے دھوکے میں نہ آئے مگر یہ بے صبری مرد کی فطرت میں عورت قبول صورت ہونے کے باوجود مرد کی اسی بے صبری کا فائدہ اٹھاتی ہے

✍️ ۔۔ محمد مصعب پالنپوری