آخر قرآن سے اتنی غفلت کیوں ؟
آخر ہم قرآن پہ غور کیوں نہیں کرتے؟
ایسی کیا چیز ہے جو ہمیں قرآن میں غور وفکر کرنے سے روکتی ہے..؟
کبھی سوچا ہے قرآن سے اتنی دوری کیوں...؟
آخر ایسی کیا چیز ہے جو ہمارے اور قرآن کے بیچ آرہی ہے..؟
اللہ تعالیٰ خود ہمیں قرآن میں تدبر کی دعوت دیتے ہیں:
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا [سورۃ محمد: 24]
''کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں؟''
ہم نے خود کو اتنا مصروف کر لیا ہیکہ ہمیں وقت ہی نہیں ملتا ہم قرآن کا لفظ تو پڑھ لیتے ہیں لیکن کیا کبھی ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ قرآن ہم سے کیا چاہتا ہے؟
قرآن ہم سے کیا کہہ رہا ہے؟
کیا ہم نے جاننے کی کوشش کی کہ کہاں ہمیں عذاب سے ڈرایا جارہا ہے یا پھر کہاں ہمیں بشارت دی جارہی ہے، کہاں ہمیں نصیحت کی جارہی ہے، کہاں ہمیں غور وفکر کرنے کا حکم دیا جارہا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں، بلکہ ہدایت کے لیے نازل کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ [سورۃ بنی اسرائیل: 9]
''حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔''
ہم قرآن کے صرف الفاظ پڑھ لیتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے قرآن پڑھنے کا حق ادا کردیا ، کیا واقعی جیسی اسکی تلاوت کرنے کا حق تھا ہم نے ویسی تلاوت کی؟
کیا کبھی ہم نے قرآن کے ذریعے اللہ سے کلام کی کوشش کی، کیا کبھی سوچا ہے آخر ہم پر اتنے مصاںٔب کیوں؟
آخر ہم پستی کی طرف کیوں جارہے ہیں؟ یہ قوم زوال کی زوال کی طرف کیوں جارہی ہے۔
شیخ الہند محمود الحسن صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ:-
میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا ہے کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیاوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہو رہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے۔ ایک ان کا قرآن چھوڑ دینا، دوسرے ان کے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی۔
مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا خلاصہ کلام یہ ہے کہ:-
آج بھی مسلمان جن بلاؤں میں مبتلا اور جن حوادث سے دوچار ہیں اگر بصیرت سے کام لیا جائے تو ان کے سب سے بڑے سبب یہی دو ثابت ہوں گے، "قرآن کو چھوڑنا اور آپس میں لڑنا۔"
غور کیا جائے تو یہ آپس کی لڑائی بھی قرآن کو چھوڑنے ہی کا لازمی نتیجہ ہے۔ قرآن پر کسی درجے میں بھی عمل ہوتا تو خانہ جنگی یہاں تک نہ پہنچتی۔
قرآن مجید میں غور و تدبر شاہ ولی اللہ دہلوی کی نظر میں:-
اگر تم انصاف سے کام لو تو نزول قرآن کا اصل فائدہ یہ ہے کہ اس سے نصیحت اور عبرت حاصل کی جائے اور اس کی ہدایت سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ قرآن کا صرف تلفظ مقصود نہیں ہے، اگرچہ وہ بھی غنیمت ہے، مسلمانوں نے یہ کیا شیو اختیار کر لیا ہے کہ وہ قرآن کا مفہوم ومعنی کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اس شخص کو تلاوتِ قران کے وقت کیا حلاوت نصیب ہو سکتی ہے جو قرآن کے مدلول کو نہیں سمجھتا۔
کبھی سوچا ہے کل قیامت کے دن جب رسول اللہ ﷺ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کریں گے:-
وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا
" اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔"
کبھی سوچا ہےاس کا کیا جواب دیں گے؟
ہم عہد کریں کہ روزآنہ زیادہ نہ سہی ایک ہی آیت پڑھیں گے لیکن صرف لفظ نہیں بلکہ اس کے معنی مفہوم کو سمجھ کر،
اس آیت میں ہمارے لیے کیا پیغام ہے، اللہ رب العالمین ہم سے کیا کہہ رہا ہے ، ہمیں کس چیز سے روک رہا ہے اور کس چیز کا حکم دے رہا ہے... اس کو سمجھیں گے اور ان شاء اللہ عمل بھی کریں گے۔
قرآن کو تھام لو ، یہی شکوہ مٹائے گا
ورنہ قیامت میں نبیؐ کا رونا رُلائے گا
انمول ✍️