انسان ازل سے جس ایک چیز کی تلاش میں بھٹک رہا ہے، وہ 'خوشی' ہے۔ لیکن وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ انسان نے خوشی کے معیار بدل دیے ہیں۔ آج کے اس مادی اور تیز رفتار دور میں، جہاں ہر چیز کی قیمت مقرر ہے، انسان نے خوشی کو بھی بینک بیلنس، بڑی گاڑیوں اور پرتعیش محلات سے تولنا شروع کر دیا ہے۔ انسان کا خیال ہے کہ جتنی زیادہ دولت ہوگی، زندگی اتنی ہی خوشگوار ہوگی۔ مگر تاریخ اور روزمرہ کے مشاہدات گواہ ہیں کہ محلوں میں رہنے والے اکثر رات کو نیند کی گولیوں کے محتاج ہوتے ہیں، جبکہ دن بھر مشقت کرنے والا مزدور فٹ پاتھ پر بھی گہری نیند سوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان دنیا بھر کی نعمتیں پا کر بھی اندرونی طور پر خالی کا خالی رہتا ہے، کیونکہ وہ خوشی کو غلط جگہ تلاش کر رہا ہوتا ہے۔ اسی بات کو شاعر نے کتنے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے:
 سکوں کی تلاش میں ہم نے مکان بدلے ہیں
مگر یہ بھول گئے کہ دل کے دھڑکنے کی جگہ وہی ہے 
سچ تو یہ ہے کہ دولت سے بستر خریدا جا سکتا ہے نیند نہیں، اور دوا خریدی جا سکتی ہے صحت نہیں۔ حقیقی خوشی کا سرچشمہ انسان کے باہر نہیں، بلکہ اس کے اندر موجود ذہنی سکون اور قناعت میں چھپا ہے۔
جدید دور نے انسان کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ مادی اشیاء ہی کامیابی اور خوشی کی ضمانت ہیں۔ نیا اسمارٹ فون، برانڈڈ کپڑے یا مہنگی ترین گاڑی انسان کو ایک عارضی مسرت تو دے سکتے ہیں، لیکن یہ خوشی مستقل نہیں ہوتی۔ جیسے ہی وہ چیز پرانی ہو جاتی ہے، انسان کی خوشی غائب ہو جاتی ہے اور وہ پھر سے ایک نئی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے۔ دولت کی ہوس ایک ایسا سراب ہے جس کے پیچھے انسان جتنا بھاگتا ہے، پیاس اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔
اکبر الٰہ آبادی نے مادی آسائشوں کی اس اندھی دوڑ اور دلی بے سکونی کا نقشہ اس لافانی شعر میں کھینچا ہے:
دل بدل جائے تو دنیا ہی بدل جاتی ہے
کوئی محلوں میں اداس، کوئی کٹیا میں مگن
دنیا کے امیر ترین لوگوں کی زندگیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بے پناہ دولت کے باوجود وہ اکثر تنہائی، ڈپریشن اور ذہنی بے سکونی کا شکار رہتے ہیں۔
 ذہنی سکون کا حقیقی تصور
ذہنی سکون کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کے پاس کوئی پریشانی نہ ہو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرونی حالات جیسے بھی ہوں، انسان کا اندرون پرسکون رہے۔ ذہنی سکون قناعت (جو ملا اس پر راضی رہنا) اور شکر گزاری سے پیدا ہوتا ہے۔ جب انسان اپنی نعمتوں کا موازنہ اپنے سے اوپر والوں کے بجائے اپنے سے نیچے والوں سے کرتا ہے، تو اس کا دل اطمینان سے بھر جاتا ہے۔
اردو ادب کے صوفی منش شاعر اصغر گونڈوی نے اسی دلی سکون کو دنیا کی بادشاہت پر ترجیح دیتے ہوئے کہا تھا:
چاہ برباد کرے، فکرِ جہاں تنگ کرے**
بادشاہ وہ ہے جو دنیا سے الگ رنگ کرے
ایک پرسکون ذہن رشتوں کی قدر کرتا ہے، پرندوں کی چہچہاہٹ اور اپنوں کے ساتھ گزارے ہوئے سادہ لمحوں میں بھی وہ خوشی ڈھونڈ لیتا ہے جو ایک ارب پتی شخص کو اپنی بزنس میٹنگز میں نہیں ملتی۔
 دولت اور سکون میں توازن
یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے دولت کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ اچھا گھر، معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات کے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب دولت "ضرورت" کے دائرے سے نکل کر زندگی کا "واحد مقصد" بن جاتی ہے۔ جب انسان پیسہ کمانے کے لیے اپنی صحت، اپنے خاندان اور اپنے اخلاق کو داؤ پر لگا دیتا ہے، تو وہ دراصل خوشی کا سودا کر کے بے سکونی خرید رہا ہوتا ہے۔
حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے انسان کو خبردار کیا ہے کہ مادی چیزوں کی چمک دمک میں اپنے دل کا سکون اور ضمیر مت بیچنا:
مقامِ امن ہے کتنا فریب خوردہ ہے انسان
کہ ڈھونڈتا ہے سکوں چاندی کے پہاڑوں میں
دولت ہاتھ کا میل ہے، اسے دل میں نہیں بلکہ جیب میں ہونا چاہیے تاکہ ذہنی سکون متاثر نہ ہو۔
اگر ہم غور کریں تو حقیقی خوشی اور ذہنی سکون کے ذرائع بہت سادہ ہیں:
ایثار اور ہمدردی:** کسی ضرورت مند کی مدد کر کے جو دلی سکون ملتا ہے، اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔
سادہ طرزِ زندگی** خواہشات کومحدود رکھنے سے انسان ذہنی دباؤسےآزاد رہتا ہے
:مضبوط خاندانی رشتے

 اپنوں کے ساتھ بیٹھ کر ہنسنا بولنا تمام ذہنی تناؤ کو ختم کر دیتا ہے۔

حاصلِ کلام
یہ ہے کہ مادی دولت زندگی کو "آسان" اور آسائشوں سے بھرپور ضرور بنا سکتی ہے، لیکن اسے "خوشگوار" صرف ذہنی سکون ہی بنا سکتا ہے۔ دولت ایک بیرونی چیز ہے جبکہ خوشی ایک اندرونی کیفیت کا نام ہے۔ اگر انسان کا دل حسد، لالچ اور بے چینی سے بھرا ہو تو دنیا کی کوئی دولت اسے خوش نہیں کر سکتی۔
اس لیے، اگر ہمیں واقعی ایک خوشحال زندگی گزارنی ہے، تو ہمیں پیسوں کی دوڑ کے ساتھ ساتھ اپنے ذہنی سکون، اخلاقی اقدار اور رشتوں کی حفاظت بھی کرنی ہوگی، کیونکہ یہی وہ اصل سرمایہ ہے جو انسان کو حقیقی معنوں میں امیر بناتا ہے۔