-: قیامت کی چند چھوٹی علامات :-
1. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور وفات۔
2. چاند کا دو ٹکڑے ہونا۔
3. بیت المقدس فتح ہو گا۔
4. طاعون کی وبا پھیلے گی۔
5. ارض حجاز سے آگ کا ظہور ہوگا۔
6. ترکوں سے جنگ ہوگی۔
7. فتنوں کا ظہور ہوگا۔
8. ہر آنے والا زمانہ پہلے زمانے سے برا ہو گا۔
9. شدت فتن کے باعث انسان موت کی تمنا کرے گا۔
10. جھوٹے نبیوں اور دجالوں کا ظہور ہوگا۔
11. علم کا خاتمہ ہو جائے گا۔
12. علم کا خاتمہ علماء کے خاتمے کے ذریعے ہوگا۔
13. بدعتی استاد بنا لیے جائیں گے۔
14. مال و دولت کی فراوانی ہوگی۔
15. نشر و اشاعت کے کام کا عروج ہو گا۔
16. عمل کا فقدان ہوگا۔
17. شراب کو حلال سمجھ لیا جائے گا۔
18. گانے بجانے کا رواج عام ہو جائے گا۔
19. فحاشی و عریانی کا فروغ ہوگا۔
20. عورتیں عریاں لباس پہن کر باہر نکلیں گی۔
21. زنا کاری عام ہو جائے گی۔
22. امانت اٹھ جائے گی۔
23. جھوٹ کی کثرت ہوگ۔
24. جھوٹی گواہی دی جائے گی۔
25. سود پھیل جائے گا۔
26. حلال و حرام ہر ذریعے سے مال کمایا جائے گا۔
27. خواتین کا روبار میں شریک ہو جائیں گی۔
28. لوگوں میں بخیلی پھیل جائے گی۔
29. ہمسائیگی بری ہو گی۔
30. حق چھپایا جائے گا۔
31. سیاه خضاب استعمال کیا جائے گا۔
32. رشتہ داری توڑی جائے گی۔
33. شرک کی کثرت ہوگی۔
34. بدعات پھیل جائیں گی۔
35. مساجد میں خوب تزئین و آرائش کی جائے گی۔
36. سلام صرف جان پہچان کے لوگوں کو کیا جائے گا۔
37. زمانہ قریب ہو جائے گا۔
38. لوگ اجنبی ہو جائیں گے۔
39. دھوکہ بازی عام ہو جائے گی۔
40. نا اہل افراد عہدوں پر متمکن ہو جائیں گے۔
41. لونڈی اپنے مالک کو جنم دے گی۔
42. قرآن کے ذریعے بھیک مانگی جائے گی۔
43. بلند و بالا عمارتیں بنانے میں مقابلے کیے جائیں گے۔
44. بازار قریب ہو جائیں گے۔
45. غریب امیر ہو جائیں گے۔
46. قتل و غارت بڑھ جائے گی۔
47. مساجد کو راستہ بنالیا جائے گا۔
48. اچانک اموات واقع ہوں گی۔
49. پہلی رات کا چاند بڑا نظر آئے گا۔
50. دین کو دنیاوی متاع کے عوض بیچا جائے گا۔
51. دعا اور طہارت میں حد سے تجاوز کیا جائے گا۔
52. امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ختم ہو جائے گا۔
53. دنیا سے محبت اور موت سے نفرت کی جائے گی۔
54. مرد کم اور عورتیں زیادہ ہو جائیں گی۔
55. گمراہ حکمرانوں کا ظہور ہو گا۔
56. تجارت بڑھ جائے گی۔
57. زلزلے بہت زیادہ آئیں گے۔
58. خواہشات، پیٹوں اور شرمگاہوں کے فتنے کا باعث ہوں گی۔
59. بارش ہو گی مگر اناج نہیں اُگے گا۔
60. یہود و نصاری کی مشابہت شروع ہو جائے گی۔
61. قبیلہ قریش فنا ہو جائے گا۔
62. اخلاقی قدریں برباد ہو جائیں گی۔
63. مسلمان کا ہر خواب سچا ہو گا۔
64. درندے اور بے جان اشیاء کلام کریں گی۔
65. عرب کی زمین سرسبز و شاداب ہو جائے گی۔
66. قحطان کا ایک آدمی حکمران بنے گا۔
67. جهجاه نامی حص بادشاہ بنے گا۔
68. ایمان حرمین تک محصور ہو جائے گا۔
69. اہل ایمان اجنبی ہو جائیں گے۔
70. فتنۂ دجال۔
71. رومیوں کی تعداد میں اضافہ۔
72. مسلمانوں اور عیسائیوں کا باہم مل کر کسی دشمن سے جنگ کرنا۔
73. مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جنگ عظیم برپا ہونا۔
74. سونے کے پہاڑ کا ظہور۔
75. قسطنطنیہ کی فتح۔
76. تلواروں کے دور کی دو بارہ واپسی۔
-ماخوذ: دجال اور علامات قیامت (صفحہ: 5)-