بس تھوڑا صبر اور۔۔۔
14 جون، 2026
زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ کبھی خوشیوں کے موسم دل کو مہکا دیتے ہیں اور کبھی آزمائشوں کی تیز ہوائیں انسان کے حوصلوں کو آزمانے لگتی ہیں۔ بعض اوقات حالات اس قدر دشوار ہو جاتے ہیں کہ انسان خود کو بے بس محسوس کرنے لگتا ہے۔ دعائیں مانگتے مانگتے ہونٹ تھک جاتے ہیں، انتظار کرتے کرتے دل بوجھل ہو جاتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے وقت ٹھہر گیا ہو۔ مگر ایسے ہی لمحوں میں ایمان انسان کا ہاتھ تھامتا ہے اور اسے یاد دلاتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
صبر دراصل اسی یقین کا نام ہے۔ صبر یہ نہیں کہ انسان کو درد محسوس نہ ہو، بلکہ صبر یہ ہے کہ دل دکھنے کے باوجود زبان شکوے سے محفوظ رہے اور دل اپنے رب کے بارے میں حسنِ ظن قائم رکھے۔ آنکھیں نم ہوں، راتیں بے چین گزریں، مگر یقین قائم رہے کہ اللہ جو کرتا ہے، بہتر ہی کرتا ہے۔
اکثر انسان اپنی آزمائش کو زوال سمجھ لیتا ہے، حالانکہ وہ اس کی بلندی کی تیاری ہوتی ہے۔ رب تعالیٰ اپنے بندے کو کبھی بے مقصد تکلیف نہیں دیتا۔ ہر آزمائش میں کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے، ہر تاخیر کے پیچھے کوئی مصلحت ہوتی ہے اور ہر محرومی کے پسِ پردہ عطا کا ایک نیا دروازہ کھلنے والا ہوتا ہے۔ مگر یہ حقیقت اکثر وقت گزرنے کے بعد سمجھ آتی ہے۔
اللہ کے فیصلے ہمیشہ فوراً سمجھ نہیں آتے۔ بعض اوقات برسوں بعد انسان ماضی کی طرف دیکھتا ہے تو اس کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اور دل بے اختیار کہہ اٹھتا ہے: "الحمدللہ! جو ہوا، بہترین ہوا۔" تب اسے احساس ہوتا ہے کہ جن راستوں کے بند ہونے پر وہ غمگین تھا، وہ دراصل اسے بہتر منزل کی طرف لے جانے کے لیے بند کیے گئے تھے۔
صبر آسان نہیں ہوتا۔ کبھی ایک لمحے کا صبر بھی برسوں کے سفر جتنا طویل محسوس ہوتا ہے۔ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انسان چاہتا ہے کہ اپنے دل کا بوجھ آنسوؤں کے ساتھ بہا دے، مگر پھر وہ اپنے رب کی طرف دیکھتا ہے اور خاموشی سے خود کو سنبھال لیتا ہے۔ یہ خاموشی کمزوری نہیں، بلکہ یقین کی طاقت ہوتی ہے۔
صبر ایسے کیجیے جیسے روزہ دار مغرب کی اذان کا انتظار کرتا ہے۔ دن بھر کی بھوک اور پیاس اسے کمزور نہیں کرتی، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ افطار کا وقت ضرور آئے گا۔ اسی طرح مومن بھی مشکلات کے درمیان امید کا دامن نہیں چھوڑتا، کیونکہ اسے اپنے رب کے وعدوں پر یقین ہوتا ہے۔
اگر آج آپ کی دعاؤں کے جواب نظر نہیں آ رہے تو مایوس نہ ہوں۔ ممکن ہے قبولیت کا وقت ابھی باقی ہو۔ ممکن ہے اللہ آپ کے لیے وہ کچھ تیار کر رہا ہو جو آپ کی خواہشات سے کہیں زیادہ بہتر ہو۔ وہ آپ کے آنسوؤں کو بھی جانتا ہے اور ان دعاؤں کو بھی سنتا ہے جو صرف دل میں کی جاتی ہیں۔
اس لیے ہمت نہ ہاریے۔ امید کا چراغ روشن رکھیے۔ اپنی نگاہوں کو رحمتِ الٰہی سے وابستہ رکھیے۔ ہوسکتا ہے سکون آپ کے بہت قریب ہو، ہوسکتا ہے آپ کی زندگی کا مشکل ترین باب اختتام کے قریب ہو، اور ہوسکتا ہے کہ اللہ آپ سے یہی فرما رہا ہو:
"میرے بندے! بس تھوڑا صبر اور..."
یقین رکھیے، رب کا وعدہ سچا ہے۔ ایک دن آپ کو اپنی ہر آزمائش کی حکمت سمجھ آ جائے گی، ہر دعا کی قبولیت نظر آ جائے گی اور ہر آنسو کا صلہ مل جائے گا۔ پھر آپ دل کی گہرائیوں سے کہیں گے کہ میرا رب میرے گمان سے بھی زیادہ مہربان نکلا۔