منہجِ نبوی میں قوت کی تعمیر: انسان سازی کا ایک درخشاں باب
محمد صادق اصلاحی ندوی
تاریخ کے بعض مناظر اپنی ظاہری سادگی کے باوجود اتنے معنی خیز ہوتے ہیں کہ صدیوں بعد بھی انسانیت کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ بنے رہتے ہیں۔ سیرتِ نبوی کے صفحات میں ایسے بے شمار واقعات محفوظ ہیں جو بظاہر معمولی نظر آتے ہیں، لیکن ان کے اندر تربیت، قیادت اور انسان سازی کے وہ اصول پوشیدہ ہیں جنہوں نے ایک منتشر اور بے سمت معاشرے کو دنیا کی سب سے باکردار اور باوقار امت میں تبدیل کر دیا۔
ایسا ہی ایک دل نشین منظر اُس وقت سامنے آتا ہے جب رسولِ اکرم ﷺ کا گزر چند بچوں کے پاس سے ہوتا ہے جو تیر اندازی کی مشق میں مصروف تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں محض ایک کھیل میں مشغول بچے سمجھ کر نظر انداز نہیں فرمایا، بلکہ اُن کے درمیان تشریف لائے، ان کی سرگرمی میں شریک ہوئے اور خود بھی اُن کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ پھر ارشاد فرمایا:
«ارموا، فإن أباكم إسماعيل كان رامياً»
"تیر چلاؤ، اس لیے کہ تمہارے جدِّ امجد حضرت اسماعیل علیہ السلام بہترین تیر انداز تھے۔"
یہ محض ایک جملہ نہیں تھا، بلکہ ایک مکمل تربیتی فلسفہ تھا۔ ان چند الفاظ کے ذریعے آپ ﷺ نے نئی نسل کو اس کے عظیم ماضی سے جوڑ دیا، اسے اس کے شاندار نسب اور تہذیبی ورثے کا شعور بخشا اور یہ احساس دلایا کہ قوت، مہارت، استقلال اور مردانگی اس کی تاریخ کا حصہ ہیں، کوئی عارضی یا درآمد شدہ اوصاف نہیں۔
یہ نبوی اسلوبِ تربیت کا ایک اہم پہلو ہے کہ بچے کی صلاحیت کو محض تفریح نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے مقصد، شناخت اور اقدار سے وابستہ کر دیا جائے۔ ایک کھیل کو کردار سازی کا ذریعہ بنا دینا اور ایک معمولی مشق کو تاریخی شعور سے آراستہ کر دینا، صرف معلمِ انسانیت ﷺ ہی کا امتیاز تھا۔
پھر غزوۂ اُحد کا وہ نازک مرحلہ سامنے آتا ہے جب میدانِ جنگ کی صورتِ حال انتہائی سنگین ہو چکی تھی۔ مسلمان شدید آزمائش سے دوچار تھے، صفیں منتشر ہو رہی تھیں اور خوف و اضطراب کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ ایسے میں چند جاں نثار صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کے گرد سپر بن کر کھڑے رہے۔
انہی عظیم نفوس میں ایک نام حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بھی ہے، جو اسلام کے ممتاز تیر اندازوں میں شمار ہوتے تھے۔ اُس فیصلہ کن لمحے میں نبی کریم ﷺ نے اُن کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا:
«ارمِ يا سعد، فداك أبي وأمي»
"اے سعد! تیر چلاتے رہو، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔"
تاریخِ سیرت میں یہ جملہ ایک غیر معمولی اعزاز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ صرف تشجیع نہ تھی، بلکہ اعتماد کا اظہار، وفاداری کا اعتراف اور اس مجاہد کے دل کو استقامت سے بھر دینے والی روحانی قوت تھی جو امت کے دفاع کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھے کھڑا تھا۔
ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تربیت کا دائرہ محض عبادات اور روحانی تعلیمات تک محدود نہ تھا۔ آپ ﷺ ایسی متوازن شخصیتیں تشکیل دے رہے تھے جو ایمان کی حرارت، کردار کی پختگی، جسمانی توانائی، فکری بصیرت اور اخلاقی ذمہ داری کا حسین امتزاج ہوں۔ آپ ﷺ نے قوت کو تہذیب کے تابع رکھا، شجاعت کو اخلاق کے سانچے میں ڈھالا اور جنگی مہارت کو عدل و رحمت کے اصولوں کا پابند بنایا۔
آج کی دنیا میں "قوت" کا تصور اکثر غلبے، تشدد اور طاقت کے بے جا استعمال سے وابستہ کر دیا گیا ہے، جبکہ منہجِ نبوی ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حقیقی قوت شوریدہ جذبات کا نام نہیں، بلکہ نظم و ضبط، خود احتسابی، صبر، مقصدیت اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا دوسرا نام ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے بچوں کو اعتماد دیا، نوجوانوں کو مہارت عطا کی، مجاہدوں کے حوصلے بلند کیے اور پوری امت کے اندر یہ شعور پیدا کیا کہ طاقت کا اصل حسن اس کے درست استعمال میں ہے۔ اسی تربیت کا ثمر تھا کہ ایک ایسی نسل وجود میں آئی جو قوت کی متلاشی نہیں تھی، بلکہ خود قوت، وقار اور استقامت کی علامت بن گئی۔ وہ نسل جب تاریخ کے افق پر نمودار ہوئی تو اس نے دنیا کے فکری اور تہذیبی توازن کو بدل کر رکھ دیا۔
آج جبکہ ہماری نئی نسل شناخت کے بحران، فکری انتشار اور عملی کمزوریوں سے دوچار ہے، سیرتِ نبوی کے یہ درخشاں نقوش ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ ہم تربیت کے نبوی اصولوں کی طرف رجوع کریں؛ اپنے بچوں میں اعتماد پیدا کریں، انہیں اپنی عظیم روایت سے جوڑیں، ان کی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کی آبیاری کریں اور انہیں قوت کے ساتھ ذمہ داری، شجاعت کے ساتھ اخلاق اور مہارت کے ساتھ مقصدیت کا شعور بھی عطا کریں۔
اسی میں ہماری اجتماعی قوت کا راز پوشیدہ ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ایک بار پھر افراد کو کردار، معاشروں کو استحکام اور امت کو عزت و وقار عطا کر سکتا ہے۔
مراجع و مصادر:
- صحیح البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب فضل الرمي۔
- صحیح مسلم، کتاب الفضائل، روایاتِ غزوۂ اُحد۔
- الشمائل المحمدیۃ للإمام الترمذی۔
- السیرۃ النبویۃ لابن ہشام۔