*ڈاکٹر اقبال کی خودی کا استعارہ اور بلند پروازی کا فلسفہ*
ڈاکٹر اقبال کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا فلسفیانہ نظام ہے جو انسان کو پستی سے نکال کر بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے، *نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر، تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں* اقبال کے فکر کا نچوڑ ہے، اس شعر میں *شاہین* ایک ایسا استعارہ ہے جو غیرتِ ایمانی، استغنا، اور آزاد منشی کی علامت ہے، اقبال کا شاہین محلات کی آسائشوں کو ٹھکرا کر پہاڑوں کی مشکل چوٹیوں کو اپنا مسکن بناتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ غلامی کی زندگی کسی بھی عالیشان محل میں ہو، وہ ذلت ہے، جبکہ آزادی کے ساتھ چٹانوں پر بسر کی گئی زندگی عزت و توقیر کا نام ہے، یہ فکر انسان کو یہ باور کراتی ہے کہ تمہاری اصلیت اسبابِ مادی میں نہیں بلکہ تمہاری روح کی بلندی اور خودداری میں پوشیدہ ہے۔
تاریخ کے صفحات اٹھا کر دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے *قصرِ سلطانی* یعنی مادی آسائشوں اور آرام پسندی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا، تب ہی ان کا زوال شروع ہوا، خلافتِ راشدہ کے بعد جب مسلم حکمرانوں نے شاہانہ طرزِ زندگی کو اختیار کیا، تو ان کی قوتِ ایمانی اور عزمِ جہاد میں کمی آنے لگی، اندلس کے الحمراء سے لے کر مغلوں کے ایوانِ شاہی تک، جب تک مسلمانوں میں شاہین جیسی تڑپ اور بلندی رہی، دنیا ان کی محکوم رہی، لیکن جونہی وہ محلوں کی رنگینیوں میں کھو گئے، ان کا رعب و دبدبہ ختم ہو گیا، اقبال اسی تاریخی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کو شاہین کی فطرت اپنانے کی دعوت دیتے ہیں کہ تمہارا تعلق اس مٹی اور محلوں سے نہیں، بلکہ تمہارا نصب العین تو کائنات کی تسخیر ہے۔
شاہین کی زندگی کی سب سے بڑی صفت اس کی *خودداری* ہے، وہ کبھی کسی دوسرے کا شکار نہیں کھاتا، وہ اپنا رزق خود حاصل کرتا ہے، اسی طرح ایک باضمیر انسان کو بھی کسی کے آگے دستِ سوال دراز کرنے کے بجائے اپنی محنت اور بازوؤں کی طاقت پر بھروسہ کرنا چاہیے، اقبال کہتے ہیں کہ جو لوگ دوسروں کے ٹکڑوں پر پلتے ہیں، ان کی نگاہیں بلند نہیں ہو سکتیں اور نہ ہی ان کے اندر کوئی عظیم تبدیلی لانے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، *یہ خودداری ہی ہے جو ایک فرد کو قوم اور ایک قوم کو فاتحِ عالم بناتی ہے،* تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنی محنت کو اپنا شعار بنایا اور محلوں کی چکاچوند سے دوری اختیار کی، انہوں نے ہی تاریخ کے دھارے کو بدلا ہے اور دنیا کی قیادت کی ہے۔
آج کے دور میں جب انسان ٹیکنالوجی اور مادیت کی چکاچوند میں کھو گیا ہے، اقبال کا یہ پیغام اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے، ہم نے اپنے لیے ایسے قصرِ سلطانی بنا لیے ہیں جو ہمیں آرام طلب بنا رہے ہیں، اور اسی وجہ سے ہمارے اندر سے وہ شاہینی صفت غائب ہو رہی ہے جو مشکلات سے لڑنے اور ناموافق حالات میں بھی اپنا راستہ نکالنے کا نام ہے، شاہین کبھی طوفان سے نہیں گھبراتا، بلکہ وہ طوفان کے سینے کو چیر کر آگے بڑھتا ہے، اسی طرح ہمیں بھی زندگی کی مشکلات اور چیلنجوں کو دیکھ کر گھبرانے کے بجائے ان کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا، یہ پہاڑوں کی چٹانیں دراصل زندگی کی آزمائشیں ہیں، اور جو ان آزمائشوں میں ثابت قدم رہتا ہے، وہی اصل شاہین ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اقبال کا یہ کلام محض نصیحت نہیں بلکہ ایک زندہ و تابندہ حقیقت ہے، اگر ہم اپنے وجود میں اس شاہین کو بیدار کر لیں جو پست مقاصد کی جگہ بلند عزائم کو ترجیح دیتا ہے، تو ہم اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زندگی کا اصل مقصد محلوں میں عیش کرنا نہیں بلکہ کائنات کی وسعتوں میں اپنی پہچان بنانا ہے، اگر ہم اپنی ذات سے مادی غلامی کے بت توڑ دیں اور خودی کو بیدار کر لیں، تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی، اٹھو اپنی فطرت کو پہچانو، قصرِ سلطانی کی غلامی سے آزاد ہو کر بلند نظری کی چوٹیوں پر بسیرا کرو، کیونکہ یہی کامیابی کا واحد راستہ ہے۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*