*دل گھر میں رہ گیا میں سفر پر نکل پڑا*
*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
_______________________________
آج میں پھر اُس مقام کی طرف لوٹ رہا ہوں جہاں سے چند دنوں کے لیے وقت لے کر اپنے گھر آیا تھا۔ چھٹیاں ختم ہوئیں تو واپسی کا وقت بھی آن پہنچا دیکھنے میں تو یہ ایک عام سفر تھا مگر دل کے لیے نہایت کٹھن اور جذبات سے بھرپور لمحہ تھا۔
جب مدرسے واپسی کی تیاری ہو رہی تھی تو میری والدہ اور بہنوں نے محبت و شفقت کے ساتھ نہ جانے کتنی اقسام کے کھانے تیار کیے۔ سفر کے لیے بھی مختلف قسم کی غذائیں ساتھ رکھ دیں تاکہ راستے میں کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو۔ گھر کے ہر فرد کی محبت اپنے اپنے انداز میں جھلک رہی تھی۔
روانگی سے پہلے امی، ابو، نانی اور بڑی بہن نے مجھے اپنے پاس بٹھایا اور نصیحتوں، دعاؤں اور خیر خواہی کے قیمتی الفاظ سے نوازا۔ ہر ایک کی بات میں محبت بھی تھی، فکر بھی تھی اور میرے بہتر مستقبل کی تمنا بھی۔ والدہ نے اپنے ہاتھوں سے بڑے پیار سے کھانا کھلایا۔ اُس وقت گھر کا ماحول عجیب سی اداسی میں ڈوبا ہوا تھا۔ سب کی آنکھیں نم تھیں اور چہروں پر جدائی کے آثار نمایاں تھے۔
میرا دل بالکل نہیں چاہتا تھا کہ گھر چھوڑ کر جاؤں۔ والدہ نے میرے ہاتھ اور پیشانی کو بوسہ دیا، میرے چہرے پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرا اور ڈھیر ساری دعائیں دیں۔ ماں کی محبت کا یہ لمحہ دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان دنیا کے کسی بھی کونے میں چلا جائے اُس کے دل کا سکون آخرکار اپنے گھر ہی میں ہوتا ہے۔ گھر والوں کی باتوں میں جو مٹھاس اپنائیت اور خلوص ہوتا ہے وہ کہیں اور نہیں ملتا۔ خصوصاً ماں کے ہاتھوں کے کھانے کا لطف تو ایک الگ ہی نعمت ہے جس کا کوئی بدل نہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ ماں باپ بھائی بہن اور گھر کے دیگر افراد اللہ ربّ العزت کی عظیم نعمتیں ہیں۔ ہر ایک کی محبت کا انداز جدا ہوتا ہے مگر سب کی محبت دل کو ایک ہی طرح سکون پہنچاتی ہے۔ جب بھی گھر سے دور جاتا ہوں تو دل پر ایک عجیب سی کیفیت طاری رہتی ہے۔ بار بار یہی خیال آتا ہے کہ کاش انسان کو پردیس کی زندگی نہ گزارنی پڑتی۔ اگرچہ مستقبل کی تعمیر اور حالات کی مجبوری انسان کو گھر سے دور لے جاتی ہے مگر گھر کی یادیں ہر لمحہ ساتھ رہتی ہیں۔
گھر سے نکلنے کے بعد پورے راستے میں اپنے والدین کے لیے دعائیں کرتا رہا۔ اللہ ربّ العزت سے یہی التجا کرتا رہا کہ وہ میرے والدین کو سلامت رکھے انہیں ہر قسم کی آفت مصیبت نظرِ بد اور دشمنوں کے شر سے محفوظ فرمائے ان کی عمر میں برکت عطا فرمائے اور انہیں ہمیشہ خوش و خرم رکھے آمین ۔
میرے والد صاحب مجھے ارریہ ریلوے اسٹیشن تک گاڑی میں بٹھانے آئے اور اپنی دعاؤں کے سائے میں ٹرین میں بٹھا کر رخصت کیا۔ اُن کی شفقت محبت اور دعاؤں نے میرے دل کو مضبوط تو کیا مگر جدائی کا غم پھر بھی دل میں موجود رہا۔ دل تو چاہتا تھا کہ اُن کے ساتھ واپس گھر لوٹ جاؤں لیکن کچھ مجبوریاں کچھ ذمہ داریاں اور مستقبل کے روشن خواب انسان کو اپنے جذبات پر قابو پانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
آج بھی یہی دعا ہے کہ اللہ رب العزت میرے والدین کو اپنی حفظ و امان میں رکھے انہیں صحت عافیت خوشی اور سکون عطا فرمائے ان کی عمر دراز کرے اور دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔