گھریلو عورت کے اخلاقی و سماجی بگاڑ میں بھارتی فلموں اور پاکستانی ڈراموں کا کردار ۔

شائع شدہ: 30 Nov, 2025

گھریلو عورت کے اخلاقی و سماجی بگاڑ میں بھارتی فلموں اور پاکستانی ڈراموں کا کردار ۔


✍🏻 محمد عادل ارریاوی 

__________________________________

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی 

خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

(اقبال)

محترم قارئین مغربی تہذیب جو اخلاق و شرافت اور حیا سے بالکل آزاد ہو چکی ہے وہ بجائے اپنی بے حیائی پر شرمسار ہونے کے مشرقی اور مذہبی اقدار و روایات کو ہی نشانہ بنا رہی ہے جیسے پاگل خانہ میں ایک صحت مند آدمی پہنچ جائے تو وہ اپنے آپ کو تنہا محسوس کرنے لگے گا اور سارے پاگل سمجھیں گے کہ یہی شخص بیمار ہے ٹھیک اسی طرح بے حیائی کے غلبہ کی اس فضا میں جو لوگ شرم و حیا اور مذہبی اور اخلاقی قدروں کی بات کرتے ہیں وہ اجنبی شہر نظر آنے لگتے ہیں لیکن اس سے سچائی بدل نہیں سکتی حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کے لیے پردہ فطرت کی آواز ہے یہ مہذب معاشرہ کی علامت ہے یہ مذاہب کی مشترکہ تعلیمات کا حصہ ہے ۔

آج کل عورتوں کے اندر سے حیا کا چادر چاک کرنے کی سب سے اہم کردار انڈین فلمیں اور پاکستانی ڈراموں کا رہا ہے گھروں میں بیٹھی کچھ عورتیں جو ڈراموں میں دیکھتی ہیں وہی اصل زندگی میں کرتی ہے جیسے ماں باپ سے زیادتی کرنا ان سے زبان درازی کرنا ان کے پیٹھ پیچھے غیر محرموں سے چھپ چھپ کر چیٹنگ کرنا بے شمار باتیں ہیں جیسے ایک شارٹ کلپ میں میں نے دیکھا تھا کہ ایک لڑکی اپنے شوہر کے ماں کے ساتھ زیادتی کرتی ہے وہ ان سے معافی مانگے کو کہتا ہے تو وہ لڑکی انکار کردیتی ہے غصہ میں اس کے شوہر اس لڑکی کو ایک تھپر رسید کرتا ہے تو وہ لڑکی بھی اپنے شوہر کو بدلہ میں ایک تھپر رسید کرتی ہے کتنی غیرت کی بات ہے استغفراللہ اور جو لڑکیاں اس طرح ڈراموں میں دیکھے گی ظاہر ہے وہ بھی اپنی زندگی میں کچھ اس طرح کر بیٹھے گی۔

 جدید دور میں میڈیا انسانی زندگی کے ہر گوشے پر اثر انداز ہو رہا ہے خاص طور پر برصغیر کا الیکٹرانک میڈیا جس میں بھارتی فلمیں بھارتی ڈرامے اور پاکستانی ڈرامے شامل ہیں معاشرتی اقدار اور گھریلو رویّوں کو شکل دینے میں ایک طاقتور قوت بن چکا ہے گھریلو عورت جو خاندان کی بنیادی اکائی کی تربیت کار ہوتی ہے اس کے طرزِ فکر اور رویّوں پر بھی میڈیا کا گہرا اثر پڑتا ہے افسوس کا مقام یہ ہے کہ موجودہ دور میں بھارتی فلمیں اور پاکستانی ڈرامے مثبت کردار کے ساتھ ساتھ بعض حوالوں سے بگاڑ کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ 

بھارتی فلمیں اور متعدد پاکستانی ڈرامے ایک ایسی دنیا دکھاتے ہیں جو عملی زندگی سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ بھارتی فلموں میں انتہائی شاہانہ طرزِ زندگی امیروں جیسی فیشن زدہ رواشیں اور رومانوی حسین وادیوں میں گزرنے والی زندگی اکثر گھریلو خواتین میں غیر ضروری خواہشات پیدا کرتی ہیں۔

پاکستانی ڈراموں میں حد سے زیادہ سجاوٹ ہر وقت تیار عورت اور غیر حقیقی گھرانے خواتین کو یہ باور کراتے ہیں کہ اصل زندگی ایسی ہی ہونی چاہیے۔ نتیجتاً بہت سی خواتین اپنی زندگی اپنے شوہر یا اپنے گھر سے غیر ضروری موازنہ شروع کر دیتی ہیں جو گھریلو ناچاقیوں کا سبب بنتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں پاکستانی ڈراموں میں بے وفائی دوسری شادی بہو ساس کی لڑائی نند بھابھی کی چپقلش اور گھریلو سازشیں کلائمیکس کے طور پر دکھائی جاتی ہیں۔ ایسی کہانیاں شکوک و شبہات کو عام کرتی ہیں۔ گھر میں سکون پیدا کرنے کے بجائے عدم اعتماد اور بے اعتمادی بڑھاتی ہیں۔ بھارتی شوز میں بھی یہی رجحان پایا جاتا ہے جہاں چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑا تنازع بنا کر پیش کیا جاتا ہے نتیجہ یہ کہ گھریلو عورت حقیقی زندگی میں بھی ان رویّوں کی عادی ہو جاتی ہے۔

بھارتی فلموں نے فیشن رقص اور بے پردگی کو جس طرح عام کیا ہے وہ براہِ راست گھریلو خواتین کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے اسی طرح کئی پاکستانی ڈراموں میں بھی مغربی طرز کے لباس بے جا آرائش غیر ضروری میل جول کو معمول بنا دیا گیا ہے یہ تمام عناصر معاشرتی اقدار خاندانی اصول اور مذہبی حدود سے ٹکراؤ پیدا کرتے ہیں جس سے گھر کے ماحول میں بے چینی بڑھنے لگتی ہے میڈیا نے عورت کو دکھایا ہے کہ اس کی زندگی کا اصل مقصد محبت کی ڈرامائی کہانی مہنگا فیشن اور اعلیٰ لائف اسٹائل ہی ہونا چاہیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ گھریلو عورت گھر کے حقیقی مسائل اولاد کی تربیت خاندانی رشتے مالی منصوبہ بندی اخلاقی تربیت سے غافل ہو جاتی ہے اور وقت کا بڑا حصہ ڈراموں میں دکھائی جانے والی خیالی دنیا میں گزارنے لگتی ہے۔ ماضی کے ڈراموں میں باحمیت باوقار اور مضبوط کرداروں والی عورت دیکھی جاتی تھی جو خاندان کی مضبوطی کا محور ہوتی تھی۔ مگر آج حسد غصہ انتقام اور موقع پرستی چکنی چپڑی باتوں اور مصنوعی جذبات کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ یوں مثبت کردار پس منظر میں چلے گئے اور بگاڑ والے کردار نمایاں ہو کر گھریلو خواتین کے مزاج کو متاثر کرنے لگے۔

لمبی قسطوں والے ڈرامے مسلسل آنے والی فلمیں اور پلیٹ فارمز نے عورت کے قیمتی وقت کو گھنٹوں کی اسیری میں بدل دیا ہے۔ کھانا پکانے میں دیر صفائی میں غفلت بچوں کی تربیت میں کمی شوہر سے بے توجہی یہ سب اس میڈیا لائف اسٹائل کی دین ہیں جو گھر کے نظم کو متاثر کرتا ہے بھارتی فلمیں اور پاکستانی ڈرامے بلاشبہ طاقتور تفریحی ذرائع ہیں مگر جب یہ تفریح بگاڑ میں تبدیل ہو جائے تو معاشرہ اور خاندان دونوں خطرات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

گھریلو عورت معاشرتی تربیت کی بنیاد ہے اس کے فکر و رویّے میں بگاڑ دراصل پورے معاشرے کے بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ میڈیا دیکھنے میں اعتدال رکھا جائے مثبت اور تعمیری مواد کو ترجیح دی جائے اور خاندان کے اندر مضبوط روابط قائم کیے جائیں۔ اگر گھر کی عورت مضبوط ہو باشعور ہو اور مثبت سوچ رکھتی ہو تو خاندان ہی نہیں معاشرہ بھی سنور جاتا ہے۔

اے اللہ ربّ العزت ان ڈرامہ بازوں کو ہدایت دے اور تمام بہن بیٹیوں کو بھی صحیح راستہ پر چلنے کی توفیق عطا کرے آمین یارب العالمین ۔