حج محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ عشقِ الٰہی، بندگی، اطاعت اور کامل سپردگی کا ایک ایسا عظیم سفر ہے جو انسان کے دل کو بدل دیتا ہے۔ یہ وہ مبارک راستہ ہے جہاں بندہ اپنے رب کے دربار میں حاضر ہو کر اپنی خواہشات، اپنی انا، اپنی چاہتوں اور اپنی دنیا کو اللہ کی رضا کے قدموں میں رکھ دیتا ہے۔

جب ایک مسلمان “لبیک اللہم لبیک” کی صدائیں بلند کرتا ہوا اپنے گھر سے نکلتا ہے تو گویا وہ دنیا کو پیچھے چھوڑ کر اپنے رب کی طرف سفر شروع کرتا ہے۔ اس کے دل میں ایک عجیب کیفیت ہوتی ہے، آنکھوں میں عقیدت کے آنسو ہوتے ہیں اور روح میں محبتِ الٰہی کی ایک نئی روشنی جاگ اٹھتی ہے۔ وہ اعلان کرتا ہے کہ اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیری رضا کے لیے حاضر ہوں، تیرے حکم کے آگے سر جھکانے کے لیے حاضر ہوں۔

احرام کی دو سفید چادریں انسان کے غرور کو توڑ دیتی ہیں۔ نہ کوئی امیری باقی رہتی ہے، نہ کوئی بڑائی، نہ کوئی شان و شوکت۔ سب ایک جیسے لباس میں، ایک ہی میدان میں، ایک ہی رب کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری انسانیت اپنے خالق کے حضور عاجزی کا پیکر بن گئی ہو۔ حج انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کے دربار میں اصل عزت صرف تقویٰ اور بندگی کی ہے۔

میدانِ عرفات میں جب لاکھوں انسان ہاتھ اٹھا کر رو رہے ہوتے ہیں تو وہاں دلوں کی دنیا بدلتی ہے۔ انسان اپنی خطاؤں کو یاد کرتا ہے، اپنے گناہوں پر نادم ہوتا ہے اور اپنے رب سے معافی مانگتا ہے۔ عرفات دراصل بندے کو یہ سکھاتا ہے کہ اللہ کے سامنے جھک جانا ہی اصل کامیابی ہے۔ وہاں انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کی ہر خوشی عارضی ہے اور حقیقی سکون صرف اللہ کی رضا میں ہے۔

حج کی پوری تاریخ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی بے مثال قربانیوں سے روشن ہے۔ ایک باپ اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے، ایک بیٹا اللہ کی رضا کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے، اور ایک ماں تپتے ہوئے صحرا میں اللہ پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے صفا و مروہ کے درمیان دوڑتی ہے۔ یہی وہ روح ہے جو حج کے ہر رکن میں نظر آتی ہے۔

صفا و مروہ کی سعی انسان کو سکھاتی ہے کہ بندہ کوشش بھی کرے اور اللہ پر بھروسہ بھی رکھے۔ رمیِ جمرات یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کو اپنی زندگی سے شیطان اور نفس کے فریبوں کو نکالنا ہوگا۔ قربانی یہ پیغام دیتی ہے کہ اللہ کی محبت میں اپنی سب سے محبوب چیز بھی قربان کر دینی چاہیے۔

حج انسان کو بدل دیتا ہے۔ وہاں جا کر انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کا مقصد صرف دنیا کمانا نہیں بلکہ اللہ کو راضی کرنا ہے۔ بیت اللہ کو دیکھ کر دل کی دنیا بدل جاتی ہے، روح نرم ہوجاتی ہے اور انسان کی سوچ کا رخ دنیا سے آخرت کی طرف مڑ جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سفرِ حج بندے کو “میں” سے نکال کر “تو” تک پہنچاتا ہے۔ وہاں انسان اپنی مرضی چھوڑ کر اللہ کی مرضی میں جینا سیکھتا ہے۔ یہی تسلیم و رضا کی وہ منزل ہے جو ایک عاشقِ الٰہی کی پہچان بنتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حج کی حقیقی روح نصیب فرمائے، اپنے حکموں کے سامنے جھکنے والا دل عطا فرمائے، اور اپنی رضا کو ہماری زندگی کا
سب سے بڑا مقصد بنا دے۔ آمین۔

از قلم۔ مفتی محمد ابراہیم غفاری 
مہتمم مدرسہ ابوذر غفاری رضی الله عنه 
abzghifariedu@gmail.com