انسان اس کائنات کا سب سے انوکھا اور پراسرار شاہکار ہے۔ صدیوں سے فلسفیوں اور مفکروں کے درمیان یہ بحث جاری ہے کہ انسان کی حیثیت اس دنیا میں کیا ہے۔ مشہور شاعرِ مشرق علامہ اقبال کا ایک خوبصورت مصرعہ ہے: "جہاں تجھ سے ہے، تو جہاں سے نہیں"۔
یہ محض ایک مصرعہ نہیں، بلکہ انسان کی عظمت، اس کی خودی اور کائنات میں اس کے مرکزی مقام کا ایک جامع اعلان ہے۔ اقبال اسی تصور کو ایک اور جگہ یوں بیان کرتے ہیں:
ہر ایک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں
تو نہ مٹ جائے گا اعداء کے مٹانے سے کبھی
جہاں تجھ سے ہے قائم، تو جہاں سے نہیں
کائنات کا مرکز: انسان
بظاہر اگر دیکھا جائے تو یہ دنیا بہت وسیع ہے؛ بڑے بڑے سمندر، اونچے پہاڑ اور لامتناہی کہکشائیں موجود ہیں۔ ان کے سامنے انسان ایک ذرے کے برابر بھی نظر نہیں آتا۔ لیکن اگر گہرائی میں جا کر سوچا جائے تو:
اس پوری کائنات میں صرف انسان ہی وہ واحد مخلوق ہے جسے اللہ نے عقل، شعور اور ارادے کی طاقت دی ہے۔
پہاڑ، دریا اور ستارے اپنے وجود سے بے خبر ہیں۔ وہ صرف طے شدہ قوانین کے پابند ہیں۔ انسان وہ ہے جو ان ستاروں پر کمند ڈالتا ہے، سمندروں کا سینہ چیرتا ہے اور کائنات کے رازوں کو فاش کرتا ہے۔
اگر دنیا میں انسان ہی نہ ہو، تو اس خوبصورتی کو دیکھنے والا، اس پر غور کرنے والا اور اس کی تعریف کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ یہ جہاں انسان کی وجہ سے آباد اور بامعنی ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق انسان کو "اشرف المخلوقات" (تمام مخلوقات سے افضل) بنایا گیا ہے اور اسے زمین پر اللہ کا خلیفہ مقرر کیا گیا ہے۔
"خدا نے کائنات کی ہر چیز کو انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے، اور انسان کو اپنی بندگی اور معرفت کے لیے۔
جب علامہ اقبال کہتے ہیں کہ "تو جہاں سے نہیں" تو ان کا مقصد انسان کو اس کی غلامانہ سوچ اور مادی پستی سے آزاد کرانا ہوتا ہے۔ انسان حالات کا غلام نہیں ہے، نہ ہی وہ اس مادی دنیا کے اشاروں پر ناچنے کے لیے پیدا ہوا ہے۔ اس کے اندر وہ طاقت موجود ہے کہ وہ اپنے عزم اور حوصلے سے اپنے حالات کو بدل سکتا ہے اور اپنی دنیا خود تخلیق کر سکتا ہے۔
دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر
خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو
سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر
انسان کو مٹی کا ایک پتلا سمجھ لینا بہت بڑی بھول ہے۔ اس کے اندر وہ روحِ ربانی پھونکی گئی ہے جو اسے فرشتوں سے بھی افضل بناتی ہے:
عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے
جب یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ جہاں انسان کی وجہ سے آباد اور بامعنی ہے، تو انسان پر ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ انسان کا کام صرف دنیا میں آ کر وقت گزارنا نہیں، بلکہ اپنی خودی کو پہچان کر کائنات کو اپنے تابع کرنا ہے۔
اقبال نے کیا خوبصورت انداز میں انسان کو اس کا مقام یاد دلایا ہے:
خورشیدِ جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میں
آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے نظر میں
جی اٹھ کہ تری خاک میں ہے روحِ الٰہی
مقصودِ سجدہ ہے تو، کائنات ہے تیرے سفر میں
"
مختصر یہ کہ "جہاں تجھ سے ہے، تو جہاں سے نہیں" کا فلسفہ ہمیں خود اعتمادی اور جینے کا اصل مقصد سکھاتا ہے۔ یہ ہمیں سستی، مایوسی اور بے بسی کے اندھیروں سے نکال کر امید اور عمل کی روشنی میں لاتا ہے۔ انسان اس دنیا کا محتاج نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا انسان کی محتاج ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انسان اپنے اندر چھپی ہوئی طاقتوں اور اپنی "خودی" کو پہچانے، تاکہ وہ نہ صرف اپنی بلکہ اس پوری کائنات کی تقدیر کو بدل سکے۔ جب انسان اپنی اصل حقیقت اور خدا کے دیے ہوئے شعور کو پہچان لیتا ہے، تو وہ زمانے کے دھارے پر بہنے کے بجائے زمانے کا رخ موڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔ بقولِ شاعر:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن!