لکھنا کسی خاص طبقے کی وراثت نہیں، اور نہ ہی یہ چند چُنندہ لوگوں کی جاگیر ہے۔ یہ تو ہر اس انسان کا سانس لیتا ہوا عمل ہے، جو سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پھر چاہے وہ ادب کی دنیا کا کوئی مانا ہوا تاجدار ہو، یا زندگی کی دھوپ میں چلتا ہوا کوئی عام انسان۔
میرا ماننا ہے کہ کائنات کا ہر شخص قلمکار ہے۔ کیونکہ ہر انسان کچھ نہ کچھ لکھ رہا ہوتا ہے...
جب ایک ماں اپنے بچے کی پہلی توتلی زبان کو ڈائری میں اتارتی ہے،
جب ایک پریشان دل رات کے اندھیرے میں کسی کو میسج پر اپنے جذبات کا حال لکھتا ہے، یا....
جب ایک معصوم بچہ پہلی بار زندگی سے مسکرا کر کاغذ پر ایک ٹیڑھی لکیر(~) کھینچتا ہے تو وہ کسی داستان کی شروعات ہی کر رہا ہوتا ہے۔
ماضی میں جو بات خط کے کاغذ پر آنسو بن کر گرتی تھی، آج وہ اسکرین پر ٹائپ ہوتے ہوئے الفاظ کی شکل میں دھڑکتی ہے۔
خود قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ نے قلم کے ذریعے ہمیں علم سکھایا:
پہلی وحی کی پانچ آیتوں میں پہلا لفظ: "اقراء (پڑھو) کے بعد چوتھی آیت میں "علم بالقلم" کا ذکر آیا۔ یعنی اس نے علم سکھایا قلم کے ذریعے۔ قلم وہ نعمت ہے جس کی "ن والقلم" کہہ کر قسم کھائی گئی۔
غور کیجیے تو اس کائنات کے اسٹیج پر ہر انسان اپنا ایک الگ افسانہ لکھ رہا ہے:
• شاعر اپنے خوابوں کو بحروں میں ڈھالتا ہے،
• دکاندار سفید کاغذ پر اپنے خون پسینے کا حساب لکھتا ہے،
• ڈاکٹر ایک پرچے پر کسی کی زندگی کی امید لکھتا ہے،
طالب علم اپنے روشن مستقبل کے اسباق لکھتا ہے...
اور استاد سیاہ تختے پر قوم کا مقدر لکھتا ہے۔
غرض کہ ہر انسان کچھ نہ کچھ لکھ رہا ہوتا ہے، ہر انسان قلمکار ہے۔
لکھنا عبادت بھی ہے اور ضرورت بھی، قلم قبر تک کا ساتھی ہے۔
بس فرق اتنا ہے کہ عام قلمکار اپنی ضرورت کی باتیں لکھتا ہے۔ اور وہ انسان جس کا شمار قلمکار کی فہرست میں ہوتا ہے، وہ ہر جگہ لکھنے کے لیے کردار ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔ پھر اپنے خیالات کو الفاظ کا لباس پہنا کر دنیا کے سامنے لے آتا ہے۔
"قلم لکڑی یا پلاسٹک کا ٹکڑا نہیں، قلم سوچ کا نام ہے۔" اور سوچ ہر انسان کے پاس ہے تو قلم بھی ہر انسان کے پاس ہے۔ اس طرح ہر خاص و عام قلمکار ہے۔
"اپنے دل و دماغ کے خیال کو لفظوں کا لباس پہنانے کا نام ہی قلمکاری ہے۔"
سورۃ البقرۃ میں قرض کا معاملہ لکھنے کا حکم دیا گیا:
﴿يا أيها الذين آمنوا إذا تداينتم
بدين إلى أجل مسمى فاكتبوه﴾
" اے ایمان والوں! جب تم کسی مقررہ مدت کے لیے آپس میں قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔"
اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ لکھنے سے چیزیں ذہن نشین ہو جاتی ہیں۔ انسانی دماغ میں ہر بات ہمیشہ کے لیے پیوست نہیں ہو پاتی، کبھی نا کبھی ذہن سے نکل جاتی ہے۔ اس لیے جس چیز کو انسان ہمیشہ یاد رکھنا چاہتا ہے اسے لکھ لیتا ہے۔ لکھی ہوئی چیز ہمیشہ ذہن میں ترو تازہ رہتی ہے۔ سنی ہوئی بات کے مقابلے لکھی ہوئی بات زیادہ دیر تک ہمارے ذہن میں محفوظ رہتی ہے۔
اسی لیے تو ہم لکھتے ہیں:
جب کوئی مسکراہٹ دل کو چھو جائے، ہم لکھ لیتے ہیں۔
جب کسی کا لہجہ روح میں چبھ جائے، ہم لکھ لیتے ہیں۔
جب دل و دماغ میں شور ہو،لیکن لہجے میں خاموشی اتر جاۓ تو ہم لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔
جب کوئی وعدہ وفا کرنا ہو یا کوئی خوبصورت منظر آنکھوں میں ٹھہر جائے، ہم اسے کاغذ کے سپرد کر دیتے ہیں۔
تاکہ جب زندگی ہمیں تھکا دے، تو ہم ان لکھی ہوئی لکیروں میں واپس جا کر سانس لے سکیں۔ اور جہاں بھی، جس شکل میں بھی کوئی لفظ کاغذ یا اسکرین پر اترا.....
بس وہیں قلمکاری کی ایک نئی تاریخ رقم ہو گئی۔
"اور ہر حرف کا رقم کر دینا ہی قلمکاری ہے۔"
✍️ بنت شہاب💫