محمد صادق اصلاحی ندوی
یہ ایک نئے اور خطرناک زمینی حقائق کو مسلط کرنے کی منظم کوشش ہے؛ ایک ایسی کوشش جس کا مقصد مسجدِ اقصیٰ المبارک کے بعض حصوں پر عملاً قبضہ جما کر اس کے اصل وارثوں اور محافظوں کو ان سے بے دخل کرنا ہے۔ مگر جنہوں نے ظلم و تعدی کا یہ راستہ اختیار کیا، اللہ تعالیٰ ان کے شر سے انسانیت کو محفوظ فرمائے اور انہیں ان کے انجام تک پہنچائے۔
مسئلہ صرف اتنا نہیں کہ مسجدِ اقصیٰ کی حرمت پامال کی جا رہی ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ وہاں بتدریج ایک ایسا نقشہ تشکیل دیا جا رہا ہے جس کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔
پہلے تقسیمِ زمانی کا مرحلہ کامیاب بنایا گیا؛ یوں کہ مسجد کو اس کے اہل سے خالی کروا کر مخصوص اوقات میں دوسروں کو وہاں داخل ہونے، اپنے مذہبی نعرے بلند کرنے اور اپنی عباداتی رسومات ادا کرنے کی اجازت دی جانے لگی۔
اور اب پوری سرعت کے ساتھ تقسیمِ مکانی کی جانب قدم بڑھائے جا رہے ہیں؛ یعنی مسجدِ اقصیٰ کے بعض مستقل حصوں کو الگ کرکے ان پر ایسا حقِ تصرف قائم کر لیا جائے جیسا کہ ماضی میں الخلیل کی مسجدِ ابراہیمی کے ساتھ کیا گیا تھا۔ افسوس کہ ان تمام اقدامات پر دنیا کی خاموشی اور بے حسی نے ان کے حوصلوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ذیل میں مسجدِ اقصیٰ کے وہ مقامات درج ہیں جنہیں رفتہ رفتہ خالی کرا کے عملاً اپنی تحویل میں لیا جا چکا ہے:
۱۔ قبۃُ موسیٰ
اس گنبد کی تعمیر سنہ 649ھ میں سلطان الملک الصالح نجم الدین ایوب نے کروائی تھی۔ اس کا نام امیر موسیٰ بن حسن الہذبانی کے نام پر رکھا گیا، جبکہ قدیم زمانے میں یہ "قبۃ الشجرہ" کے نام سے معروف تھا۔
یہ مقام کبھی مجالسِ حدیث کا مرکز رہا۔ بعد ازاں نامور مؤرخ و فقیہ علامہ مجیر الدین حنبلی کی خلوت گاہ بنا اور یہاں عدالتی مجالس بھی منعقد ہوتی رہیں۔ عصرِ حاضر میں یہ دارالقرآن الکریم کے طور پر استعمال ہوتا تھا، جہاں قرآنِ کریم کی تعلیم و تدریس کے حلقے قائم رہتے تھے۔
۲۔ قبۃُ سلیمان
یہ ایک قدیم تعمیر ہے جس کی تجدید ایوبی دور میں کی گئی۔ اس کی نسبت اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کی طرف کی جاتی ہے۔
یہاں ماضی میں سماعِ حدیث کی مجالس منعقد ہوتی تھیں، جبکہ جدید دور میں یہ مسجدِ اقصیٰ کی خواتین واعظات کے مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔
۳۔ مصلّیٰ سلیمان پاشا (دارالحدیث)
دو گنبدوں پر مشتمل یہ خوب صورت عمارت 980ھ میں عثمانی عہد کے گورنرِ شام اور سنجقِ القدس سلیمان بن قباد پاشا نے تعمیر کروائی۔
ابتدا میں اسے نماز کے لیے مخصوص کیا گیا، لیکن سنہ 1402ھ سے یہ دارالحدیث کے طور پر معروف ہوئی، جہاں احادیثِ نبویہ کی تدریس اور اشاعت کا مبارک سلسلہ جاری تھا۔
۴۔ قبۃُ امام غزالی، مصلّیٰ بابُ الرحمہ کی چھت پر
یہ مقام ابتدا میں مدرسہ ناصریہ کہلاتا تھا، جس کی نسبت شیخ نصر مقدسی کی طرف تھی۔ بعد میں یہ غزالیہ کے نام سے مشہور ہوا، کیونکہ اسے امامِ وقت، حجۃ الاسلام امام ابو حامد غزالیؒ سے نسبت حاصل ہوئی۔
بعد ازاں یہ زاویۂ اقراء میں تبدیل ہو گیا، اور یہی وہ مقام ہے جہاں روایت کے مطابق امام غزالیؒ نے اعتکاف فرمایا اور اپنی شہرۂ آفاق تصنیف "احیاء علوم الدین" کے بعض اجزاء قلم بند کیے۔
آج یہ تمام مقامات ان لوگوں کے عملی تصرف میں جا چکے ہیں۔
اگر اس صورتِ حال پر کوئی مؤثر اور مضبوط ردِّ عمل سامنے نہ آیا، تو بعید نہیں کہ مسجدِ اقصیٰ المبارک کی تقسیم کا عمل مزید تیز ہو جائے؛ وہ مسجد جو مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے، اور مسجدِ حرام اور مسجدِ نبوی کے بعد تیسری مقدس ترین عبادت گاہ ہے، جس کی طرف سفر کرنا اور حاضری دینا اسلامی شعائر میں شامل ہے۔
ایسے نازک لمحے میں خاموشی محض خاموشی نہیں رہتی، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی خسارے کی بنیاد بن جاتی ہے۔