وقت اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جو ہر لمحہ انسان کے ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے، مگر افسوس کہ اکثر لوگ اس کی قدر و قیمت سے ناواقف ہیں۔ دنیا کی ہر کھوئی ہوئی چیز دوبارہ حاصل ہوسکتی ہے، لیکن گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ مال چلا جائے تو کمایا جاسکتا ہے، صحت خراب ہوجائے تو علاج ممکن ہے، لیکن جو لمحہ زندگی سے نکل گیا وہ قیامت تک واپس نہیں آسکتا۔ اسی لیے قرآنِ کریم نے وقت کی غیر معمولی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف اوقات کی قسمیں کھائی ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَالْفَجْرِ، قسم ہے فجر کے وقت کی، وَالضُّحَى، قسم ہے چاشت کے وقت کی، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، "قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے۔ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى قسم ہے دن کی جب وہ روشن ہوجائے، اور فرمایا: ﴿وَالْعَصْرِ ۝ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۝ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ۔ زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر لوگ صرف سورۂ عصر میں غور کرلیں تو یہ ان کی ہدایت کے لیے کافی ہے۔
قرآنِ مجید نے انسان کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا: أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ۔ کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟ اسی طرح فرمایا: أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ۝ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ۔ زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی دوڑ نے تمہیں غفلت میں ڈال دیا یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے۔ آج اس آیت کا مصداق صرف مال و دولت کی دوڑ نہیں بلکہ موبائل فون، سوشل میڈیا، ویڈیوز، ریلز، گیمز اور فضول مصروفیات بھی ہیں جنہوں نے انسان کو ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن اور فکرِ آخرت سے غافل کردیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے وقت کی اہمیت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان فرمایا: نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ۔ دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ خسارے میں ہیں: صحت اور فراغت۔ آج صحت مند نوجوان گھنٹوں موبائل اسکرینوں کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں، لیکن قرآن کی چند آیات پڑھنے یا چند صفحات کا مطالعہ کرنے کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ، وَغِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ، وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ۔ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، فراغت کو مصروفیت سے پہلے، مالداری کو فقر سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔
نبی کریم ﷺ نے قیامت کے دن ہونے والی جواب دہی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ، وَعَنْ عِلْمِهِ مَاذَا عَمِلَ بِهِ۔ قیامت کے دن بندہ اپنے رب کے سامنے سے اس وقت تک نہیں ہٹے گا جب تک اس سے اس کی عمر، جوانی، مال اور علم کے بارے میں سوال نہ کرلیا جائے۔" غور کیجیے! روزانہ موبائل پر گزرنے والے گھنٹے بھی اسی عمر کا حصہ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دینا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے کامیاب مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ۔ وہ لوگ جو لغو اور بے فائدہ کاموں سے اعراض کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ۔ آدمی کے اسلام کے حسن میں سے یہ ہے کہ وہ بے فائدہ چیزوں کو چھوڑ دے۔ آج سوشل میڈیا پر گھنٹوں فضول ویڈیوز دیکھنا، دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنا، بے مقصد تبصرے کرنا، جھگڑوں اور مناظروں میں وقت ضائع کرنا، افواہوں کو پھیلانا اور غیر ضروری پوسٹوں کے پیچھے زندگی برباد کرنا اسی لغو اور لایعنی مشغولیت کی جدید شکلیں ہیں۔
قرآن کریم نے زبان اور نگاہ دونوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ فرمایا: مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ۔ انسان جو بات بھی زبان سے نکالتا ہے اس پر ایک نگہبان فرشتہ مقرر ہے۔" اور فرمایا: قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ۔ مومنوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ موبائل اسکرین پر دیکھی جانے والی تصاویر، ویڈیوز اور مواد بھی ان احکام کے دائرے میں آتے ہیں۔ اسی طرح ارشاد فرمایا: وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا. جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو، بے شک کان، آنکھ اور دل، سب کے بارے میں سوال ہوگا۔
اے مسلمانو! موبائل فون بذاتِ خود حرام نہیں بلکہ ایک نعمت ہے، لیکن جب یہی نعمت نمازوں کے ضیاع، والدین کی نافرمانی، علم سے دوری، ذکرِ الٰہی سے غفلت، بے حیائی کے فروغ، جھوٹ اور افواہوں کی اشاعت، وقت کے زیاں اور دل کی سختی کا سبب بن جائے تو یہی نعمت فتنہ بن جاتی ہے۔ کتنے نوجوان فجر کی نماز کے لیے بیدار نہیں ہوسکتے لیکن رات کے دو دو اور تین تین بجے تک موبائل استعمال کرتے رہتے ہیں۔ کتنے طلبہ کتابوں سے دور اور اسکرینوں کے قریب ہوچکے ہیں۔ کتنے گھر ایسے ہیں جہاں افراد ایک ہی کمرے میں موجود ہوتے ہیں لیکن ہر شخص اپنے موبائل کی دنیا میں گم ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ خاندانی تعلقات کمزور، علمی صلاحیتیں محدود، روحانی کیفیت مفقود اور دل غفلت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے تھے: اے ابنِ آدم! تو چند دنوں کا مجموعہ ہے، جب ایک دن گزر جاتا ہے تو تیرا ایک حصہ بھی گزر جاتا ہے۔ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وقت سے زیادہ نفیس چیز کوئی نہیں اور افسوس کہ لوگ اسی کو سب سے زیادہ ضائع کرتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وقت تلوار کی مانند ہے، اگر تم اسے نہ کاٹو تو وہ تمہیں کاٹ دے گا۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے موبائل کے استعمال کو شریعت اور عقل کے تابع بنائے، روزانہ قرآنِ کریم کی تلاوت کے لیے وقت مقرر کرے، نمازوں کی پابندی کرے، سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرے، غیر ضروری گروپس اور فضول مواد سے اجتناب کرے، علمی و دینی استفادے کو ترجیح دے، اور ہر رات سونے سے پہلے اپنے دن کا محاسبہ کرے کہ اس کے چوبیس گھنٹے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صرف ہوئے یا خواہشاتِ نفس کی نذر ہوگئے۔ یاد رکھئے! قبر میں مال، منصب، شہرت اور موبائل ساتھ نہیں جائیں گے، البتہ انہی لمحات میں کیے گئے اعمال ساتھ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں وقت کی قدر کرنے، اپنی عمر کے ہر لمحے کو اطاعتِ الٰہی میں صرف کرنے، موبائل اور سوشل میڈیا کے فتنوں سے محفوظ رہنے اور آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین يا رب العالمين.