محرم الحرام اور رائج رسومات: جھرنی، ماتم، تعزیہ اور ہماری ذمہ داریاں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (106)
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الأنبیاء والمرسلین، نبینا محمد ﷺ، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین، أما بعد:
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ اور ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرمت و عظمت عطا فرمائی ہے۔ یہ مہینہ عبادت، تقویٰ، صبر، استقامت اور سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی کا پیغام دیتا ہے۔ لیکن افسوس کہ امت کے بعض علاقوں میں اس مبارک مہینے کی اصل روح کو پسِ پشت ڈال کر مختلف رسومات، خرافات اور غیر شرعی اعمال کو رواج دے دیا گیا ہے۔
خصوصاً صوبہ بہار اور برصغیر کے بعض دیگر علاقوں میں محرم کے موقع پر "جھرنی" کے نام سے ایک مخصوص کھیل کھیلا جاتا ہے۔ بعض مقامات پر لاٹھی بازی، مرثیہ خوانی، ڈھول باجے، ماتم، سینہ کوبی اور تعزیہ سازی کو بھی اس مہینے کا لازمی حصہ سمجھ لیا گیا ہے۔ بزرگوں کی دیکھا دیکھی نوجوان نسل بھی ان سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے، حالانکہ ان اعمال کی شرعی حیثیت کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔
محرم الحرام کی اصل اہمیت.
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ ... مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ" ترجمہ: "بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔" (التوبہ: 36)
محرم انہی حرمت والے مہینوں میں شامل ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"أفضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم"
ترجمہ: "رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔"
(صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2755)
غور کیجیے! قرآن و حدیث نے محرم کو روزہ، عبادت، ذکر اور تقویٰ کا مہینہ قرار دیا، نہ کہ کھیل تماشے، ماتم یا رسم و رواج کا۔
جھرنی کیا ہے اور اس کی حقیقت.
بہار کے بعض علاقوں میں محرم کے دنوں میں لوگ بانس یا لکڑی کے باریک ٹکڑوں کو کنگھی نما شکل دے کر ایک حلقہ بناتے ہیں۔ پھر ایک شخص دوسرے کی جھرنی پر مخصوص انداز سے ضرب لگاتا ہے اورساتھ ہی سانحۂ کربلا کے متعلق مرثیے پڑھے جاتے ہیں۔ بعض مقامات پر اس کے ساتھ ڈھول، لاٹھی بازی اور دیگر نمائشی سرگرمیاں بھی شامل ہو جاتی ہیں۔اگرچہ بعض لوگ اسے محض ثقافتی کھیل قرار دیتے ہیں، لیکن جب اسے محرم، شہادتِ حسینؓ یا دین سے جوڑ کر مذہبی رنگ دیا جائے تو یہ ایک قابلِ غور مسئلہ بن جاتا ہے، کیونکہ نہ رسول اللہ ﷺ، نہ صحابۂ کرامؓ، نہ اہلِ بیتؓ اور نہ ہی سلفِ صالحین سے اس عمل کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔
ماتم اور نوحہ کی شرعی حیثیت.
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ , وَشَقَّ الْجُيُوبَ , وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ".ترجمہ: "جو شخص (کسی میت پر) اپنے رخسار پیٹے ‘ گریبان پھاڑے اور عہد جاہلیت کی سی باتیں کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1297)
اسی طرح ایک اور حدیث میں نوحہ کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔
اسلام صبر، استقامت اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ خود کو تکلیف دینے یا غم کے اظہار میں حدود سے تجاوز کرنے کی۔
تعزیہ سازی اور جلوس.
محرم میں بڑے بڑے تعزیے بنانا، ان کی تعظیم کرنا، ان کے گرد مخصوص رسومات ادا کرنا یا انہیں مذہبی شعار سمجھنا قرآن و سنت سے ثابت نہیں۔
واقعۂ کربلا یقیناً اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور دردناک باب ہے، لیکن اس کی یاد منانے کا طریقہ وہی معتبر ہوگا جو شریعت سے ثابت ہو۔ جو طریقہ رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرامؓ نے اختیار نہیں کیا، اسے دین کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔
مرثیہ خوانی میں غلو.
حضرت حسینؓ سے محبت ایمان کا حصہ ہے، کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے نواسے اور اہلِ بیت میں سے ہیں۔ لیکن محبت اور
عقیدت کا مطلب یہ نہیں کہ ایسے اشعار یا مرثیے پڑھے جائیں جن میں مبالغہ، غلو یا غیر شرعی عقائد شامل ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:"قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ....... و وَضَلُّوا عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ
ترجمہ: "اپنے دین میں غلو نہ کرو۔"(سورہ المائدہ. 77)
غلو ہمیشہ حق سے انحراف کا سبب بنتا ہے۔
ان رسومات کے نقصانات
دینی نقصانات
سنت سے دوری پیدا ہوتی ہے۔ بدعات کو دین سمجھا جانے لگتا ہے۔ نئی نسل اصل تعلیمات سے محروم رہ جاتی ہے۔ واقعۂ کربلا کے حقیقی اسباق پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
معاشرتی نقصانات
وقت اور صلاحیتوں کا ضیاع ہوتا ہے نوجوانوں کی توجہ عبادت کے بجائے رسموں پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ فرقہ واریت اور باہمی کشیدگی جنم لیتی ہے۔
مالی نقصانات
تعزیوں، جلوسوں اور دیگر رسومات پر بڑی رقم خرچ ہوتی ہے۔
غرباء اور ضرورت مندوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں.
واقعۂ کربلا کا اصل پیغام
حضرت حسینؓ نے ہمیں ماتم نہیں بلکہ استقامت سکھائی۔
انہوں نے ہمیں:حق پر ثابت قدم رہنے،ظلم کے سامنے نہ جھکنے،دین کو دنیا پر مقدم رکھنے،اور اللہ پر کامل بھروسہ کرنے کا درس دیا۔اگر ہم واقعی امام حسینؓ سے محبت کرتے ہیں تو ان کے کردار، صبر، تقویٰ اور حق گوئی کو اپنانا ہوگا۔
علماء، خطباء اور والدین کی ذمہ داری
محرم کے فضائل کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کریں۔بدعات اور رسومات کی حقیقت حکمت کے ساتھ واضح کریں۔نوجوانوں کو واقعۂ کربلا کے حقیقی اسباق سے روشناس کرائیں عاشوراء کے روزے کی ترغیب دیں۔امت میں اتحاد اور اعتدال کا ماحول پیدا کریں۔
جذبات کے بجائے علم اور دلیل کو فروغ دیں۔کیونکہ محرم الحرام صرف حرمت، عبادت، تقویٰ اور قربانی کا مہینہ ہے۔ لہذا اس مبارک مہینے کو جھرنی، لاٹھی بازی، ماتم، نوحہ، تعزیہ سازی اور دیگر غیر ثابت رسومات کا مہینہ بنا دینا اس کی اصل روح سے دوری کی علامت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس مہینے کو سمجھیں، حضرت حسینؓ اور شہدائے کربلا سے صحیح سبق حاصل کریں اور اپنی نسلوں کو بھی اسی راستے پر چلنے کی دعوت دیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس پر عمل کرنے اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اور محرم الحرام کی حقیقی برکتوں سے مستفید ہونے والا بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
وما توفیقی إلا باللہ، علیہ توکلت وإلیہ أنیب۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com