محمد صادق اصلاحی ندوی 

سنہ 1947ء میں فرانس کے معروف مفکر و فلسفی روجے گارودی نے الجزائر کے عظیم مفکر، دانش ور اور فلسفی مالک بن نبی سے ایک سوال کیا:

"مغربی تہذیب آج بھی زندہ اور متحرک ہے، جبکہ اسلامی تہذیب کا دور ختم ہو چکا ہے، آخر کیوں؟"

مالک بن نبی نے نہایت بصیرت افروز انداز میں جواب دیا:

"کیوں؟ اس لیے کہ تمہاری علمی و ثقافتی تربیت میں ایک بہت بڑا خلا موجود ہے، اور تم خود اس سے بے خبر ہو۔ اسی خلا کی وجہ سے تم یہ فیصلہ صادر کر رہے ہو۔

بچپن سے تمہیں یہ پڑھایا گیا کہ تہذیب کا آغاز ایتھنز سے ہوا، پھر وہ چھ صدیوں تک سفر کرتی ہوئی روم تک پہنچی، اور پانچویں صدی عیسوی میں اس کا خاتمہ ہو گیا۔

اب اگر تم تاریخ کے افق پر اس پیمانے کو رکھ کر دیکھو تو پانچویں صدی سے لے کر 1453ء تک تقریباً ایک ہزار برس کا ایک وسیع عرصہ تمہارے سامنے آتا ہے۔

تم اسے تاریخ کا خلا، عہدِ تاریکی یا "Dark Ages" قرار دیتے ہو، حالانکہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں اسلامی تہذیب اپنے عروج پر تھی۔

اگر تم اسلامی تہذیب اور اس سے پہلے کی قدیم تہذیبوں کو جدید مغربی تہذیب سے الگ کر دو تو جدید تہذیب کے پاس کھڑے ہونے کے لیے کوئی مضبوط بنیاد باقی نہیں رہتی، الا یہ کہ مان لیا جائے کہ تہذیبیں بھی محض اتفاقات اور عبثیت سے جنم لیتی ہیں!"

مالک بن نبی نے کہا:
"جب میں نے یہ جواب دیا تو گارودی اپنے سوال پر شرمندہ ہو گیا۔"

بعد ازاں گارودی نے خود اعتراف کیا کہ واقعی اس کے ذہن میں ایک گہرا "علمی خلا" موجود تھا، حالانکہ وہ اعلیٰ ترین علمی اسناد کا حامل تھا۔ اپنے اس اعتراف کو اس نے تقریباً اڑتیس برس بعد اپنی فکری وصیت اور خودنوشت "بیسویں صدی کی یادداشتیں" (1985ء) میں قلم بند کیا۔ وہ لکھتا ہے:

"میں نے فلسفے کی تعلیم مکمل کی، تمام اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں؛ لیسانس، پروفیسری اور ڈاکٹریٹ تک پہنچا، مگر اس کے باوجود غیر مغربی فلسفوں کے بارے میں میری لاعلمی مکمل اور حیرت انگیز تھی۔"

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تہذیب محض دو تہذیبوں کے درمیان واقع ایک زمانی وقفہ نہیں تھی، بلکہ انسانی تمدن کی مسلسل تعمیر و ارتقا میں ایک بنیادی اور ناگزیر کڑی تھی۔

یہ وہ تہذیب تھی جس نے الجبرا اور الگورتھم کو جنم دیا؛ جس میں امام محمد بن موسیٰ خوارزمی نے ریاضی کے نئے افق روشن کیے؛ جس کے دانش وروں نے طب، کیمیا، بصریات، فلکیات اور جغرافیہ کے میدانوں میں ایسی تحقیقات پیش کیں جنہوں نے بعد کی دنیا کی علمی بنیادیں استوار کیں۔

اندلس، بغداد، دمشق، قاہرہ اور سمرقند کے علمی مراکز سے اٹھنے والی روشنی یورپ پہنچی اور وہاں کی نشاۃِ ثانیہ کے چراغ روشن کرنے میں مددگار بنی۔

صرف علوم ہی نہیں، مسلمانوں نے زراعت، آب پاشی اور زرعی پیداوار کے میدان میں بھی انقلابی خدمات انجام دیں۔ نارنجی، لیموں، گنا، چاول، کپاس اور بے شمار فصلیں مختلف خطوں تک پہنچیں، حتیٰ کہ قہوہ بھی، جو آج دنیا کے مقبول ترین مشروبات میں شمار ہوتا ہے، انسانی تہذیب کے اسی سفر کا ایک حصہ ہے۔

تہذیبیں خلا میں جنم نہیں لیتیں اور نہ ہی عدم سے وجود میں آتی ہیں۔ ہر تہذیب اپنے پیش روؤں سے فیض حاصل کرتی ہے، پھر اس میں اضافہ کرتی ہے اور اسے آگے بڑھا دیتی ہے۔

یونانیوں نے اپنے سے پہلے کی اقوام سے سیکھا، مسلمانوں نے قدیم تہذیبوں کے علمی ورثے کو محفوظ کیا، اس میں اضافہ کیا اور اسے نئی جہتیں عطا کیں، جبکہ جدید یورپ نے یونانی اور اسلامی دونوں علمی ذخائر سے استفادہ کیا۔

یہ دراصل انسانی فکر و دانش کا ایک مسلسل سفر ہے؛ ایسا سفر جس میں قومیں ایک دوسرے سے علم، تجربہ اور حکمت کا ورثہ حاصل کرتی ہیں اور اسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرتی ہیں۔

مالک بن نبی نے 1947ء میں گارودی کے ذہن میں موجود اسی "علمی خلا" کو پُر کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ گارودی نے اس کا براہِ راست اعتراف نہیں کیا، لیکن اس ملاقات کے بعد اس کا ذہن رفتہ رفتہ اسلام اور اس کی تہذیبی عظمت سے آشنا ہوتا گیا، یہاں تک کہ 1982ء میں اس نے کلمۂ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔

اللہ تعالیٰ مالک بن نبی اور روجے گارودی دونوں پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرمائے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ آج یہی "علمی خلا" بہت سے مسلمانوں کے اذہان میں بھی موجود ہے۔ وہ مغربی تہذیب کے احسانات تو جانتے ہیں، مگر اپنی تہذیب کے ان عظیم کارناموں سے ناواقف ہیں جنہوں نے موجودہ دنیا کی فکری، سائنسی اور تمدنی عمارت کی بنیادیں استوار کیں۔

جو قوم اپنے ماضی کے روشن ابواب کو فراموش کر دیتی ہے، وہ اپنے مستقبل کی تعمیر کا حوصلہ بھی کھو بیٹھتی ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تاریخ کو دوسروں کی آنکھ سے نہیں، بلکہ حقائق کی روشنی میں دیکھیں؛ تاکہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ انسانیت کے سفر میں ہمارا حصہ صرف ماضی کا ایک قصہ نہیں، بلکہ ایک زندہ اور درخشاں حقیقت ہے۔ :::

ماخذ: ڈاکٹر محمد بن نصر (لیبیا)