دل دہلا دینے والا واقعہ — ایک امام کے ساتھ ظلم کی داستان
(صدر: نوشاد، سیکریٹری: رفع اللہ)
سب سے نیچے وہاں کے ذمہ داران اور مؤذن کا نمبر بھی ہے
آج کے دور میں دین کی خدمت کرنے والے ائمہ اور علماء کے ساتھ جس طرح دھوکہ، بے قدری اور ظلم کیا جا رہا ہے، یہ واقعہ اسی کی ایک دردناک مثال ہے، تاکہ آئندہ کسی دین کے خادم کے ساتھ ایسا ظلم نہ ہو۔
کرناٹک، ضلع دوانگرے کے ایک گاؤں "گالے ہلی" میں ایک امام صاحب کو "مستقل جگہ" کا وعدہ کرکے بلایا گیا۔ سب سے پہلے رابطہ کرنے والے شخص غلام مصطفیٰ (جو بہاری تھا) نے خود کو حافظ اور عالم ظاہر کیا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔
امام صاحب نے ہر بات باریکی سے پوچھی تاکہ دھوکہ نہ ہو۔ اُس نے بار بار یقین دلایا کہ یہاں کے لوگ اچھے ہیں، کوئی پریشانی نہیں ہوگی، صرف نماز پڑھانی ہے، بچوں کو تعلیم دینی ہے اور بیان کرنا ہے۔
امام صاحب نے بھی اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ممبئی سے راتوں رات سفر کیا۔ مسجد کے سیکریٹری اور غلام مصطفیٰ نے اُن کی قراءت، بیان اور تصویر دیکھنے کے بعد فوراً آنے کو کہا، کیونکہ اُن کے مطابق وہاں جمعہ پڑھانے والا کوئی نہیں تھا۔
لیکن افسوس! سفر کے دوران کسی نے ایک بار بھی یہ نہ پوچھا کہ آپ خیریت سے ہیں یا نہیں، کھانا کھایا یا نہیں، یا آپ کہاں پہنچے ہیں۔
جب امام صاحب دوانگرے پہنچے تو وہاں سے تقریباً 3 گھنٹے کا مزید سفر تھا، مگر بار بار بتانے کے باوجود بھی لینے کے لیے کوئی نہ آیا۔
گاؤں پہنچنے کے بعد معلوم ہوا کہ نہ نیٹ ورک کی سہولت ہے اور نہ ہی مناسب رہائش کا خیال رکھا گیا تھا۔ کمرے میں بالکل بھی نیٹ ورک نہیں آتا تھا، اور باہر بھی صرف سڑک پر یا مسجد کی چھت پر جانے سے نیٹ ورک آتا ، مگر امام صاحب شرعی احتیاط کی وجہ سے مسجد کی چھت پر نہیں جاتے تھے۔ مؤذن کو یہ بات بتائی بھی گئی، مگر وہ خود مسجد کی چھت پر جا کر فلمیں اور ریلز دیکھتا تھا۔
حتیٰ کہ وائی فائی کا ریچارج بھی امام صاحب کو خود کروانا پڑتا تھا۔ 36 دن گزر گئے، مگر مسجد کا سیکریٹری یا صدر ایک بار بھی یہ پوچھنے نہ آیا کہ امام زندہ ہیں یا بیمار، یا تنخواہ دینی ہے یا نہیں۔
تنخواہ 15 ہزار طے کی گئی تھی، مگر بعد میں صرف 13 ہزار دیے گئے۔ اُنہوں نے صبر کیا، کیونکہ وہ صرف پیسہ کمانے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے آئے تھے۔
ان کی نماز، قراءت اور بیانات لوگوں کو پسند آتے تھے، مگر جب امام صاحب نے حق بات کرنا شروع کی اور جھوٹ و دھوکہ دہی پر آواز اٹھائی تو انہیں ذلیل کیا جانے لگا۔
حد تو اُس وقت ہوگئی جب عید الاضحیٰ کے دن، موجودہ امام کے ہوتے ہوئے ایک دوسرے امام کو نمازِ عید پڑھانے کے لیے بلایا گیا، بغیر امام صاحب کی اجازت کے۔
جب لوگوں نے سوال کیا تو سیکریٹری غصے میں آگیا اور امام صاحب پر ہی الزام لگانے لگا کہ وہ گاؤں میں فساد پھیلا رہے ہیں۔
امام صاحب نے صرف اتنا کہا تھا:
"جو لوگ مجھ سے پوچھنے آتے ہیں کہ آپ عید کی نماز کیوں نہیں پڑھا رہے، اُنہیں امام صاحب بتاتے تھے کہ مجھے صدر اور سیکریٹری نے روکا ہے۔"
اسی بات پر صدر اور سیکریٹری نے امام پر گاؤں میں فساد پھیلانے کا الزام لگا دیا۔
بات یہاں تک پہنچی کہ سیکریٹری امام صاحب کو مارنے تک دوڑ پڑا۔ اتنا سب ہونے کے باوجود بھی غلام مصطفیٰ ایک بار بھی نہیں بولا کہ امام کے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو، اُن کی غلطی کیا ہے، جبکہ اُسی نے امام صاحب کو بلایا تھا۔
اس سارے فتنے کی جڑ بھی غلام مصطفیٰ ہی تھا، جو امام کی ہر بات سیکریٹری تک پہنچاتا تھا۔ وہ خود مؤذن تھا، مگر اذان کے بعد مسجد سے باہر چلا جاتا، نماز کے بعد دعا کیے بغیر اُٹھ جاتا، اور ایک قرآنِ مجید 50 روپے میں فروخت کرتا تھا، حالانکہ نہ وہ حافظ تھا نہ عالم۔
جب بھی کوئی قرآن لینے آتا تو پہلے امام صاحب کے پاس آتا۔ اگر امام کہتے کہ میرے پاس 4 یا 5 قرآن نہیں ہیں، تو اگر ایک آدمی آتا تو کوئی بات تھی، مگر روزانہ لوگ آتے تھے۔ بلکہ قربانی سے ایک دن پہلے 20 سے زائد لوگ آئے۔ وہ بھی ایک نہیں، ہر شخص کو 2، 3 یا 4 قرآن چاہیے تھے۔ خود امام نے اپنے پاس سے 12 لوگوں کو مؤذن کے پاس یہ کہہ کر بھیجا کہ میرے پاس قرآن نہیں ہیں۔ اُس دن امام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اُس نے تقریباً 60 قرآن بغیر پڑھے فروخت کیے۔
امام کے سمجھانے پر اُس نے اُن کے ساتھ یہ سب کیا۔ وہاں کی باہر کی آمدنی مہینے کی 1500 روپے سے زائد تھی، کیونکہ ایک مہینہ امام صاحب اکیلے تھے اور غلام مصطفیٰ اپنے گاؤں میں تھا۔
جب اُس نے اپنی پریشانی بتائی تو امام نے اُس سے کہا:
"آج سے تم ہر جگہ فاتحہ کرنے جایا کرو تاکہ تمہاری پریشانی دور ہو جائے۔"
اُس نے کہا تھا:
"میرا پورا گھر جل گیا ہے۔"
افسوس کی بات یہ ہے کہ امام نے اس شخص کی مالی مدد بھی کی، اپنی جیب سے 6 ہزار روپے دیے، اُس کی پریشانی میں ساتھ دیا، مگر بدلے میں انہیں دھوکہ، بے عزتی اور ظلم ملا۔
وہ امام سے ہر بات میں جھوٹ بولتا رہتا تھا۔
یہ کسی کی عیب جوئی کے لیے نہیں لکھا جا رہا، لیکن جو لوگ دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں، تکلیفیں دیتے ہیں، خاص طور پر علماء کو، اور جن کی وجہ سے پڑھے لکھے علماء رسوا کیے جاتے ہیں، اُن کے بارے میں بولنا اور لکھنا بہت ضروری ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک امام کی کہانی نہیں، بلکہ اُن تمام ائمہ اور علماء کا درد ہے جنہیں بعض لوگ خادمِ دین نہیں بلکہ اپنا غلام سمجھتے ہیں۔
یاد رکھنا چاہیے کہ امامِ مسجد، اللہ کے دین کا خادم ہوتا ہے۔ اُس کی عزت، حق اور مقام کی حفاظت پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔
😔 حیرت کی بات یہ ہے کہ صرف اسی سال وہاں سے غلام مصطفیٰ کی موجودگی میں 8 امام نکالے جا چکے تھے، اور سب کو اُن تینوں نے مل کر نکالا تھا۔
دوانگرے کے ایک امام صاحب، جو 4 سال سے وہاں خدمت انجام دے رہے تھے، انہیں صرف اس بات پر نکال دیا گیا کہ وہ جمعہ کے دن اپنی والدہ سے ملنے چلے جاتے تھے، حالانکہ وقت پر واپس بھی آ جاتے تھے۔
جاہل صدر اور سیکریٹری امام صاحب سے کہتے تھے: "جو ہم بولیں گے، وہ کرنا پڑے گا۔"
امام نے جواب دیا: "میں نبی ﷺ کا غلام ہوں، کسی ایرے غیرے جاہل کا نہیں۔"
وہاں امام کو غلام بنا کر رکھا جاتا ہے۔ ایک دوسرے امام کو صرف 2 دن میں اسی بات پر نکال دیا گیا کہ اُس امام نے کہا تھا: "ہم تمہارے غلام نہیں ہیں جو تمہاری ہر بات مانیں۔"
وہ روتے ہوئے چلے گئے۔ یہ بات وہیں کے کچھ صحیح لوگوں نے بتائی۔
اور یہ بھی بتایا گیا کہ وہاں سے اماموں کے جانے کے بعد گاؤں کا نام خراب نہ ہو، اس لیے گاؤں کے لوگ امام پر طرح طرح کے الزامات لگاتے ہیں۔ کسی کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ خود بھاگ گیا، کسی کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ صحیح نہیں تھا یا لوگوں کو پسند نہیں آیا۔
امام صاحب کا دل تو اُس وقت ٹوٹ گیا جب سیکریٹری نے اُن پر اہلِ حدیث ہونے کا الزام لگا دیا۔
آئمہ اور مدرسین کے جتنے بھی گروپ بنائے گئے ہیں، اُن سب سے گزارش ہے کہ اس واقعے کو اپنے گروپوں میں ضرور شیئر کریں، کیونکہ انہی گروپوں کے ذریعے ائمہ کو بھیجا جاتا ہے، اور پھر اُن کے ساتھ ایسے دردناک حادثے پیش آتے ہیں۔
ذمہ داری کے ساتھ اس مسئلے پر توجہ دیں، اور جہاں بھی ایسا ماحول ہو وہاں کسی امام کو جانے نہ دیں۔
ہمارا مقصد کسی فرد، خاندان یا گاؤں کی بدنامی نہیں، بلکہ ائمہ اور علماء کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو سامنے لانا ہے۔
📢 آئندہ کسی بھی امام یا عالم کے ساتھ ایسا ظلم نہ ہو، اور کوئی بھی دین کا خادم وہاں جانے سے پہلے حقیقت جان لے، کیونکہ وہاں وعدوں کے نام پر صرف جھوٹ اور دھوکہ دیا جاتا ہے۔ جو تکلیف، بے عزتی اور رسوائی وہاں جا کر اماموں نے اُٹھائی ہے، وہ نہیں چاہتے کہ اُن کا کوئی مسلمان بھائی بھی اُٹھائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین والوں کی قدر کرنے، سچ بولنے اور ظلم سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
کچھ نمبر ہے یہ سب وہاں کے ذمہ داران اور مؤذن کا
اس مسجد کا ویڈیو بھی موجود ہے
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
+91 91226 14483
gulam Mustafa,
+91 96862 72716
secretary,
95353 53293
sadar naushad ,