اپنے ہاتھ کی انگلیوں کی طرف دیکھیے۔

کیا آپ انہیں کھینچ کر برابر کر سکتے ہیں؟
یا اپنی پسند کے مطابق ڈھال سکتے ہیں؟
نہیں نا!
کیوں؟
کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے۔
یہ قدرت کا نظام ہے؛ 
چھوٹا یا بڑا ہونا انگلیوں کی فطرت میں شامل ہے۔
ٹھیک اسی طرح،
ہر انسان کی اپنی ایک فطرت ہوتی ہے،
اس کا اپنا مزاج اور اپنی ایک منفرد پہچان ہوتی ہے۔اسکا ایک اپنا ذاتی رنگ ہوتا ہے

لہذا، کسی انسان کواپنے رنگ میں
 رنگنے کی لاحاصل کوشش نہ کیا کریں 
اور ناہی 
اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔
اور ناہی اپنی من چاہی عادتیں اس پر مسلط کریں،
ورنہ
آپ اس انسان کے دل میں اپنی قدر کھو دیں گے۔

یاد رکھیے!
 رشتے دل سے نبھائے جاتے ہیں، 
زبردستی کے اصولوں سے نہیں۔ 
جب آپ کسی سے محبت یا دوستی کا رشتہ جوڑتے ہیں، 
تو اس کی خامیوں اور خوبیوں دونوں کو اپناتے ہیں۔
 کسی کو بدلنے کی ضد ،
رشتوں میں تلخی اور دوریوں کے سوا کچھ نہیں دیتی۔
جو جیسا ہے، اسے ویسا ہی خوشی سے قبول کریں!
کسی کو بدلنے کی بیکار کوشش نہ کریں، 
کیونکہ
 آپ قدرت کے قانون کو تبدیل نہیں کر سکتے۔


از قلم: ز۔ شیخ