**اب نہیں تو پھر کب؟**
 یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ زندگی کی تلخ حقیقتوں، خوابوں اور ارادوں کو جگانے والا ایک انقلابی نعرہ ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جو انسان کو ماضی کی پچھتاووں اور مستقبل کی خیالی دنیا سے نکال کر موجودہ لمحے یعنی"آج" کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے

٭٭وقت کی اہمیت اور ہماری سستی٭

ہم میں سے اکثر لوگ اپنی زندگی کے اہم ترین فیصلوں اور کاموں کو کل پر ٹال دیتے ہیں۔ میں کل سے پڑھائی شروع کروں گی/گا۔"
* "میں اگلے مہینے سے صحت کا خیال رکھوں گی/گا۔"
* "جب اچھے حالات آئیں گے، تب نیا کاروبار شروع کروں گی/گا۔"

حقیقت یہ ہے کہ وہ "کل" کبھی نہیں آتا۔ وقت ایک ایسی ریت ہے جو ہاتھ سے پھسل جائے تو دوبارہ واپس نہیں آتی۔ انگریزی کی مشہور کہاوت ہے:

کل کبھی نہیں آتا،جو کچھ بھی ہے وہ آج ہی ہے۔"

ٹال مٹول: کامیابی کی سب سے بڑی دشمن
کسی کام کو آگے بڑھانے یا ٹالنے کی عادت (Procrastination) انسان کی صلاحیتوں کو زنگ لگا دیتی ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ "پھر کبھی"، تو اصل میں ہم اس کام کو کرنے کا حوصلہ ہار رہے ہوتے ہیں۔ دنیا میں جتنے بھی عظیم لوگ گزرے ہیں، انہوں نے کبھی سازگار حالات کا انتظار نہیں کیا۔ انہوں نے گرتے پڑتے، مشکل حالات میں بھی پہلا قدم اٹھایا۔
اگر سائنسی یا تعلیمی زاویے سے دیکھا جائے تو کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ کسی بھی بڑے مقصد کو حاصل کرنے کا فارمولا سیدھا ہے:
مسلسل محنت +صحیح وقت پر فیصلہ 
اور وہ صحیح وقت صرف اور صرف **اب** یعنی موجودہ لمحہ ہے۔

 مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اس کی اہمیت
طالب علموں کے لیے: امتحان کی تیاری آخری دنوں پر چھوڑنے کے بجائے آج سے ہی شروع کرنی چاہیے۔ اگر اب نہیں پڑھیں گے، تو پھر کب پڑھیں گے؟

صحت اور تندرستی: اپنی فٹنس اور غذا پر توجہ دینے کے لیے کسی خاص دن (جیسے پیر کا دن یا نئے سال کا آغاز) کا انتظار کرنا خود کو دھوکہ دینے کے برابر ہے۔

خوابوں کی تکمیل: اگر ہمارے  پاس کوئی تخلیقی آئیڈیا ہے، کوئی کتاب لکھنی ہے، یا کوئی نیا ہنر سیکھنا ہے، تو اس کا آغاز آج ہی سے کریں۔


زندگی بہت مختصر ہے اور موقع بار بار دروازہ نہیں کھٹکھٹاتا۔ حالات کبھی بھی 100% ہمارے مطابق نہیں ہوں گے، اور نہ ہی کبھی کوئی "کامل وقت" آئے گا۔

اس لیے، اگر  اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں، اپنے والدین کے خوابوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں، اور معاشرے میں اپنا ایک مقام بنانا چاہتے ہیں، تو سستی کے لبادے کو اتار پھینکیں۔ اپنے دل اور دماغ سے یہ سوال پوچھیں: **"اگر اب نہیں، تو پھر کب؟"** جواب خود مل جائے گا کہ آغاز ابھی اور اسی وقت سے کرنا ہے۔