محرم الحرام: فضائل، حقیقت، بدعات اور ہماری ذمہ داریاں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (105)
اسلام نے سال کے بارہ مہینوں میں بعض مہینوں کو خصوصی فضیلت عطا فرمائی ہے۔ ان ہی عظمت والے مہینوں میں ایک عظیم اور مبارک مہینہ محرم الحرام بھی ہے۔ یہ اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہےجواپنے اندر بے شمار دینی، تاریخی اورتربیتی اسباق سموئے ہوئے ہے۔ افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس مبارک مہینے کی اصل روح سے دوری پیدا ہوئی اور مختلف علاقوں میں ایسی رسومات، بدعات اور خرافات نے جنم لیا جن کا قرآن و سنت سے کوئی تعلق نہیں۔ نتیجتاً اس مہینے کے حقیقی پیغام کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ محرم الحرام کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھا جائے، اس سے وابستہ غلط رسموں اوربدعات کی حقیقت کو جانا جائے، اور امت کو اس مبارک مہینے کی اصل تعلیمات سے جوڑا جائے۔

۔ محرم الحرام کی اہمیت اور فضلت

قرآن کریم کی روشنی میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:"إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا ... مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ"
"بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔"
(سورۃ التوبہ: 36)
مفسرین کے مطابق یہ چار مہینے:
ذوالقعدہ. ذوالحجہ محرم. رجب. ہیں۔
محرم کو "حرام" اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ حرمت اور عظمت والا مہینہ ہے۔
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"أفضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم"
"رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔" (صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2755)
یہ واحد مہینہ ہے جسے نبی کریم ﷺ نے "شہر اللہ" (اللہ کا مہینہ) فرمایا، جو اس کی عظمت پر واضح دلیل ہے۔

اسلامی نقطۂ نظر

اسلام محرم کو:عبادت کا مہینہ توبہ واستغفار کا مہینہ
صبر و استقامت کا مہینہ شہدائے کربلا کی قربانیوں سے سبق حاصل کرنے کا مہینہ
قرار دیتا ہے۔

غیر اسلامی اور جاہلانہ نقطۂ نظر

بعض لوگ..اسے
نحوست کا مہینہ سمجھتے ہیں۔شادی بیاہ کو ناجائز یا معیوب سمجھتے ہیں۔
نئے کاروبار یا تعمیرات سے اجتناب کرتے ہیں۔
حالانکہ ایسی کوئی بات قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔اسلام میں محرم نحوست نہیں بلکہ برکت اور فضیلت کا مہینہ ہے۔

2۔ محرم میں رائج رسومات و بدعات اور ان کی ابتداء

وقت کے ساتھ مختلف علاقوں میں کئی رسومات پیدا ہوگئیں، مثلاً:
1۔ تعزیہ سازی کاغذ، لکڑی یا دھات سے مخصوص ڈھانچے بنا کر جلوس نکالنا۔
2۔ ماتم اور سینہ کوبی. اپنے جسم کو مارنا، زنجیروں سے زخمی کرنا، نوحہ خوانی کرنا۔
3۔ سبیلوں اور نیازوں میں غلو ایسے انداز اختیار کرنا جن کی کوئی شرعی اصل نہیں۔
4۔ دسویں محرم کو غم کی مستقل رسم بنانا سالہا سال تک مخصوص غم اور سوگ کی کیفیت کو مذہبی فریضہ سمجھ لینا۔
5۔ محرم میں شادی یا خوشی کی تقریبات کو ناجائز سمجھنا یہ بھی ایک بے بنیاد تصور ہے۔
ان رسومات کی ابتداء
تاریخ بتاتی ہے کہ واقعۂ کربلا کے بعد مختلف سیاسی،
جذباتی اور فرقہ وارانہ عوامل کے نتیجے میں بعض رسومات آہستہ آہستہ وجود میں آئیں۔ بعد میں ان میں مقامی ثقافتوں، ہندوانہ رسوم اور عوامی جذبات کا بھی دخل ہوگیا اور یہ رسومات مذہبی شعار کے طور پر پیش کی جانے لگیں۔حالانکہ نبی کریم ﷺ، صحابۂ کرامؓ، اہلِ بیتؓ اور تابعین سے ان رسومات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

3۔ ان رسومات و بدعات کے نقصانات

دینی نقصانات
عقیدہ کی خرابی
بدعات انسان کو سنت سے دور کر دیتی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"وكل بدعة ضلالة"
"ہر بدعت گمراہی ہے۔"
(مشكوة المصابيح/كتاب الإيمان/حدیث: 165)
سنت سے دوری
لوگ اصل عبادات چھوڑ کر رسموں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
دین میں اضافہ ایسے اعمال کو دین سمجھ لیا جاتا ہے جو دین کا حصہ نہیں۔

دنیاوی نقصانات

مالی نقصان ہر سال کروڑوں روپے ایسی رسومات پر خرچ ہوتے ہیں جن کا کوئی شرعی فائدہ نہیں۔

وقت کا ضیاع

گھنٹوں اور دنوں پر مشتمل سرگرمیاں لوگوں کو حقیقی اصلاح سے دور رکھتی ہیں۔

معاشرتی نقصانات
فرقہ واریت

بعض رسومات امت میں تقسیم اور نفرت کو بڑھاتی ہیں۔امن و امان کے مسائل جلوسوں اور تصادمات کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہوتی ہےنوجوانوں کی گمراہی جذباتی نعروں اور غیر شرعی اعمال کے ذریعے نوجوانوں کو اصل تعلیمات سے دور کیا جاتا ہے۔

قانونی اور سماجی نقصانات

ٹریفک کی بندش عوامی املاک کا نقصان قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اضافی بوجھ بعض اوقات جان و مال کا ضیاع. یہ تمام امور معاشرے کے لیےنقصان دہ ہیں۔

4۔ محرم میں مشروع اعمال کیا ہیں

1۔ روزۂ عاشوراء
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:":صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ"._"مجھے امید ہے کہ عاشوراء کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔"۔ (سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1738)
2۔ نو اور دس یا دس اور گیارہ محرم کے روزے. یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے نبی ﷺ نے ایک اور روزہ شامل کرنے کی ترغیب دی۔
3۔ توبہ و استغفار
4۔ ذکر و دعا
5۔ قرآن کریم کی تلاوت
6۔ شہدائے کربلا سے سبق حاصل کرنا
خصوصاً: صبر. حق گوئی. ظلم کے سامنے استقامت. اللہ پر کامل بھروسہ یہی حضرت امام حسینؓ اور اہلِ بیتؓ کی قربانی کا اصل پیغام ہے۔

5۔ علماء، خطباء اور ائمہ کی ذمہ داریاں

علمی ذمہ داری
لوگوں تک صحیح عقیدہ اور سنت پہنچانا۔
اصلاحی ذمہ داری
بدعات اور خرافات کی نشاندہی حکمت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ کرنا۔
دعوتی ذمہ داری
محرم کو: صبر کا مہینہ. عبادت کا مہینہ
اصلاحِ نفس کا مہینہ
بنا کر پیش کرنا۔

عملی اقدامات
1۔محرم سے قبل مساجد میں دروس کا اہتمام۔
2۔عاشوراء کے روزے کی ترغیب دینا۔
3۔نوجوانوں کے لیے تربیتی نشستیں منعقد کرنا۔
4۔واقعۂ کربلا کے مستند اسباق بیان کرنا۔
5۔فرقہ وارانہ زبان سے مکمل اجتناب۔
6۔امت کے اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دینا۔
7۔سوشل میڈیا پر صحیح معلومات عام کرنا۔واقعۂ کربلا کا حقیقی پیغام کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ حق و باطل کے معرکے کی روشن مثال ہے۔حضرت امام حسینؓ نے امت کو یہ سبق دیا کہ:حق پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔
ظلم کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے۔
دین کی حفاظت کے لیے قربانی دینی چاہیے۔ دنیا کے مفاد پر دین کو مقدم رکھنا چاہیے۔
الغرض. محرم الحرام عظمت، عبادت، صبر اور قربانی کا مہینہ ہے۔ اس مہینے کا احترام محض جذباتی نعروں، غیر ثابت رسومات یا بدعات سے نہیں بلکہ قرآن و سنت کی پیروی سے حاصل ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس مبارک مہینے کی اصل روح کو سمجھیں، اپنے عقائد و اعمال کو شریعت کے مطابق بنائیں، اور امت کو اتحاد، محبت اور سنت کی طرف بلائیں۔
اگر علماء، خطباء، ائمہ اور اہلِ دانش اپنی ذمہ داریوں کو خلوص اور حکمت کے ساتھ ادا کریں تو محرم الحرام امت کی اصلاح، بیداری اور اتحاد کا عظیم ذریعہ بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں محرم الحرام کی حقیقی قدر پہچاننے، سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے، بدعات و خرافات سے بچنے اور حق و استقامت کی راہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
وما توفیقی إلا باللہ، علیہ توکلت وإلیہ أنیب۔
بقم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com