ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ان دونوں کی کوئی نسبت ہی نہیں رکھی ہے۔ دونوں کو الگ ہی رکھا ہے، تضاد اتنا کہ گویا کوئی ان میں تال میل ہی نہیں ہے۔ شاید ہمارے معاشرے میں بگاڑ کا سبب ہی یہی ہے کہ ہم تقریروں سے دنیا فتح کر لینا چاہتے ہیں، جبکہ ہمارے عمل میں ہمارے تقریری الفاظ کا سایہ تک نظر نہیں آتا ہے۔ معاشرے میں پنپنے والی تمام برائیوں کے بارے میں ہم آواز بلند کر لیتے ہیں خواہ وہ سماجی برائی ہو یا اخلاقی، لیکن وہیں جب بات ہمارے عمل کے بارے میں آتی ہے تو ہمارا کردار کہیں دب سا جاتا ہے۔
یاد رکھیے! جو اثر انسان کے ذہن کے دریچوں کو کھول کر اس کی روح کو بھی جھنجھوڑ دیتا ہے اور حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ کرتا ہے وہ انسان کا اپنا عمل اور کردار ہے۔ جس سے وہ شخصیت کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ آپ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ اس بات کا ایک عملی نمونہ ہے۔
جیسا کہ غزوۂ تبوک کے کٹھن سفر اور معرکے سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے فرمایا تھا:
"رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ"
(ترجمہ: ہم چھوٹے جہاد (دشمن کے خلاف جنگ) سے بڑے جہاد (اپنے نفس کے خلاف جنگ) کی طرف لوٹ آئے ہیں۔)
یہ حدیث ہمیں واضح بتاتی ہے کہ اصل اور سب سے بڑا معرکہ اپنے نفس کو قابو میں رکھنا اور قول و عمل کے تضاد سے بچنا ہے۔ یاد رکھیں:
تحریر سے ممکن ہے نہ تقریر سے ممکن
وہ کام جو انسان کے کردار کرے ہیں
ازقلم:زا-شیخ