منفی سوچ آپ کے پر کاٹ دیتی ہے اور آپ کو زمین پر گرا دیتی ہے۔
​مثبت سوچ آپ کو وہ پرواز دیتی ہے جہاں طوفان بھی آپ کا راستہ نہیں روک سکتے 

لوگ آپ کو یاد کیوں رکھیں؟
​روزانہ اس دنیا میں لاکھوں لوگ پیدا ہوتے ہیں اور لاکھوں مر جاتے ہیں۔ اکثریت ایک عام سی زندگی جیتی ہے، اوسط درجے کی نوکری کرتی ہے، حالات کا گلہ کرتی ہے اور مٹی کا ڈھیر بن جاتی ہے۔
​لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے پاس ایک ایسی طاقت ہوتی ہے جو بازار سے نہیں خریدی جا سکتی: "مثبت اور مضبوط سوچ"۔
​آپ کا سب سے بڑا دشمن
:
آپ کا اپنا ذہن

​ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ معاشرہ، پیسہ یا قسمت ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کا اپنا وہ ذہن ہے جو ہر اچھے کام سے پہلے کہتا ہے: "تم سے نہیں ہو پائے گا" یا "لوگ کیا کہیں گے؟"۔
​منفی سوچ ایک ایسی بند گلی ہے جہاں آپ جتنا آگے جائیں گے، اندھیرا اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔
​مثبت سوچ وہ انجن ہے جو آپ کو تب بھی آگے چلاتا ہے
جب بظاہر سارے راستے بند نظر آ رہے ہوں۔

زندگی کا ریموٹ کنٹرول کس کے پاس ہے
؟
​اگر کوئی آپ کو گالی دے اور آپ کو غصہ آ جائے، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی زندگی کا ریموٹ کنٹرول اس شخص کے ہاتھ میں ہے۔ جب ہم حالات اور لوگوں کے رویوں کی وجہ سے مایوس ہوتے ہیں، تو ہم اپنا کنٹرول دوسروں کو دے دیتے ہیں۔
​"آپ دوسروں کے رویے کو کنٹرول نہیں کر سکتے، لیکن اس رویے پر اپنے ردعمل کو ضرور کنٹرول کر سکتے ہیں۔"
​تو آج کا پلان کیا ہے؟
​اگر زندگی میں واقعی کوئی بڑی تبدیلی چاہیے، تو صبح اٹھ کر سب سے پہلے اپنے خیالات کی صفائی کیجیے۔
​شکایت کرنا بند کیجیے: جو نہیں ہے اس کا رونا رونے سے وہ چیز کبھی حاصل نہیں ہوگی جو آپ پا سکتے ہیں۔
​شکر گزاری کو ہتھیار بنائیے: شکر گزار دل مقناطیس کی طرح کامیابی اور خوشی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔
​دنیا بدلنے کے چکر میں وقت ضائع مت کریں۔ صرف اپنی سوچ کا رخ مثبت کیجیے، دنیا خود بخود خوبصورت نظر آنے لگے گی۔ کیا آپ آج ہی سے اپنا زاویہ بدلنے کے لیے تیار ہیں؟